Feb ۱۱, ۲۰۱۹ ۱۶:۲۲ Asia/Tehran
  • فرانس کے میئروں نے حکومت کو یلوجیکٹ بحران کا ذمہ دار قرار دے دیا

فرانس کے کئی شہروں کے میئروں نے صدر میکرون کے نام خط کے ذریعے ملک میں یلوجیک ایجیٹیشن کے خاتمے اور اس سے پہنچنے والے اقتصادی نقصانات کے ازالے کا راستہ تلاش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دارالحکومت پیرس، بوردو، مارسی، تولوز اور لیون سمیت فرانس کے متعدد شہروں کے میئروں نے صدر عمانوئیل میکرون کے نام لکھے خط میں ہنگامی اجلاس بلا کر، یلوجیکٹ ایجیٹیشن کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیاہے جس میں ہر ہفتے اضافہ ہوتا جارہا ہے۔یہ اپیل پچھلے تیرہ ہفتے سے جاری یلوجیکٹ ایجیٹیشن کے نتیجے میں سرکاری اور عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کے پیش نظر کی گئی ہے جس میں ہر ہفتے اضافہ ہوتا جارہا ہے۔فرانس کے میئروں نے صدر میکرون  کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے خط میں لکھا ہے، اگرچہ آپ کے عہدہ صدارت کی مقررہ مدت کے خاتمے میں کافی وقت باقی ہے لیکن عوامی برداشت اور تحمل کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور موجودہ صورتحال کی تمام تر ذمہ داری براہ راست آپ کی حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔فرانس کے دارالحکومت پیرس اور دیگر شہروں میں نومبر دوہزار اٹھارہ سے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جو یلوجیکٹ ایجیٹیشن کے نام سے مشہور ہے۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق مظاہرین کے خلاف فرانسیسی پولیس کے قہر آمیز اقدامات کے نتیجے میں کم سے کم بیس افراد اپنی ایک آنکھ، ایک ہاتھ یا پاؤں سے محروم ہوچکے ہیں۔ایک آنکھ سے محروم ہونے والے شخص کی تصاویر فرانس میں ہونے والے ان مظاہروں کا لوگو بن گئی ہے۔فرانسیسی پولیس، مظاہرین کے خلاف، ربر کی گولیاں، فلش بال گرنیڈ اور دوسرے ہتھیار استعمال کر رہی ہے جسے وہ Non-lethal weapon قرار دیتی ہے۔ادھر فرانس میں کرائے جانے والے تازہ سروے کے مطابق تہتر فی صد فرانسیسی شہری یلوجیکٹ ایجیٹیشن کے معاملے کو ریفرینڈم کے ذریعے حل کیے جانے کے خواہاں ہیں۔آئیفوپ کی جانب سے کرائے جانے والے اس سروے کے نتائج فرانسیسی جریدے دو دیمانش میں شائع ہوے ہیں اور اس میں حصہ لینے والے تین چوتھائی لوگوں نے ملک میں ریفرنڈم کرائے جانے کی حمایت کی ہے۔

کمنٹس