Apr ۱۰, ۲۰۱۷ ۲۰:۴۱ Asia/Tehran

یہ زیارت نامہ مختصر ہونے کے باوجود بہت زیادہ امتیازات کا حامل،با فضیلت اور بہت زیادہ ثواب رکھتا ہے ۔ کہ جو کوئی بھی اس کو حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی قبر مطہر کے قریب قرائت کرے وہ اس ثواب کا مستحق ہوگا۔

زیارت امین اللہ کی فضیلت کو حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام کی زبانی سنتے ہیں کہ جوخود آپ ہی اس زیارت نامہ کے ناقل بھی ہیں، آپ نے فرمایا:"ما قاله أحد من شیعتنا عند قبر أمیر المؤمنین علیه السلام أو عند قبر أحد من الأئمة علیهم السلام إلا وقع فی درجۃ من نور وطبع علیه بطابع محمد صلى الله علیه وآله حتى یسلم إلى القائم فیلقى صاحبه بالبشرى والتحیة والکرامة إن شاء الله تعالى؛" ہمارے چاہنے والوں میں سے جو کوئی بھی اس زیارت کو حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام یا کسی بھی آئمہ طاہرین علیہم السلام کی قبر مطہر کے قریب قرائت کرے وہ نور کے طبقہ میں پہنچ جائے گا اور حضرت محمد (ص) کی مہر اس پر لگادی جائے گی اور آخر کار حضرت قائم آل محمد(ع) کے حضور پیش ہوگا(وہ دن بھی آئے گاکہ) وہ بشارت وتحیت و کرامت کے ساتھ اپنے صاحب عصر سے ملاقات کرے گا انشاء اللہ تعالی. 

زیارت امین اللہ کی خصوصیات :

زیارت امین اللہ ،ان زیارت ناموں سے ایک ہے کہ جو سند و دلالت کے اعتبار کے علاوہ عمیق و عظیم مطالب اور بہت سے امتیاز و خصوصیات کی حامل ہیں کہ یہاں پر اس کی کچھ خصوصیات کی طرف محترم قارئین کے لیے اشارہ کیا جارہا ہے۔

امین اللہ کی وجہ تسمیہ اسلامی تعلیمات  کے مطابق ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ آئمہ معصومین علیہم السلام شہید اور زندہ ہیں، اپنے زائرین کو دیکھتے ہیں اوران کے سلام و کلام کو سنتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ آپ کے حضورسلام اور اپنی عرائض پیش کرتے وقت مودبانہ الفاظ وعبارات سے خطاب کریں۔ کیا ہی بہتر ہے کہ اس سلسلے میں حضرت امام زین العابدین سید سجاد علیہ السلام کی سیرت پرعمل پیرا ہوں کہ آپ نے اپنے جد بزرگوارحضرت علی علیہ السلام کی زیارت کرتے وقت آپ کو امین اللہ کے خطاب سے نوازا، اور فرمایا:السّلام علیک یا أمینَ اللّهِ فی أرضه و حُجّتَه على عبادِه. یہی خوبصورت جملہ سبب بنا کہ یہ زیارتنامہ، زیارت امین اللہ کے نام سے مشہور ہوگیا۔ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کے لیے اس لقب کا انتخاب اس لیے تھا کہ آپ دستورات الہی کے بھی امین تھے اور لوگوں کے حقوق کے بھی، اپنی دوران حکومت رعیت کے ساتھ بھی بہت ہی دقت سےبرتاؤ کیا اور آپ کی بیت المال میں امانتداری دنیا کے لیے مثال بن گئی ہے۔ مذکورہ ذیل موارد آپ کی امانتداری کے چند نمونے ہیں۔آپ نے بیت المال کو لوگوں کے درمیان عادلانہ تقسیم کرکے گوداموں میں جھاڑو لگائی، صاف کیا اور پھر دورکعت نماز ادا کی اور فرمایا: اے بیت المال قیامت کے دن گواہی دینا کہ علی نے اپنے لیے بیت المال سے کچھ نہیں لیا۔ آپ نے ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:یا أهلَ الکوفة! إذا أنا خَرَجتُ مِن عِندِکم بِغیر راحلتی و رحلی و غلامی فلان فأنا خائن؛اے کوفہ والو! میں تمہارے درمیان سے اگر اپنی سواری، زاد راہ اور فلاں غلام کے علاوہ کچھ اور لے کر جاؤں تو خیانت کار اور امانت شکن ہوں۔ 

==

بشکریہ :razavi.aqr.ir

ٹیگس

کمنٹس