Oct ۱۰, ۲۰۱۵ ۱۸:۰۵ Asia/Tehran
  • امریکا سے مذاکرات ممنوع ہیں کیونکہ اس میں بے شمار نقصانات ہیں
    امریکا سے مذاکرات ممنوع ہیں کیونکہ اس میں بے شمار نقصانات ہیں

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ دشمن اعلی حکام کے تخمینوں کو بدلنے اور عوام بالخصوص نوجوانوں کی فکر تبدیل کرنے کے در پے ہیں، لہذا سب ہوشیار اور بیدار رہیں۔

بدھ کی صبح سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈروں، اہلکاروں، ان کے اہل خانہ اسی طرح اس فورس کے شہدا کے اہل خانہ سے ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے بحری علاقوں کی حفاظت اور دشمن پر اپنا رعب بٹھانے میں سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ سے وابستہ انقلابی جوانوں اور جنوبی خطے کے شجاع افراد کے کردار کی تعریف کی۔ اپنے خطاب میں بحری علاقوں کی سیکورٹی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ تیاری ہمیشہ ایسی رہنی چاہئے کہ قرآن کے فرمان کے مطابق دشمن کے اندر رعب و وحشت ایجاد کرے اور اس سے جارحیت کی جرائت سلب کر لے کیونکہ اگر محاذوں میں دراندازی کی گنجائش ہوئی تو دشمن فورا دراندازی کرے گا۔


آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: "جنوبی خطے میں انقلابی محاذ کی تشکیل کی برکت سے جو سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ اور جنوبی علاقے کے شجاع نوجوانوں پر مشتمل ہے، دشمن کے اندر رعب و وحشت پیدا کرنے کی قرآنی ہدایت پر عمل ہوا ہے۔"


رہبر انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ ہم جنگ کا آغاز کبھی بھی نہیں کریں گے لیکن جارحیت اور دراندازی دشمن کی سرشت میں شامل ہے، اس لئے ایجادات و اختراعات کی شکل میں علمی اور اسلحہ جاتی توانائیوں میں لگاتار اضافہ ہونا چاہئے-


آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ اور فوج کی بحریہ کے مابین تعاون و شراکت کو لازمی قرار دیا۔ آپ نے امریکی جنگی کشتیوں کے سامنے شجاعت سے ڈٹ جانے اور انھیں ناقابل فراموش سبق سکھانے والے نادر مہدوی اور ان کے ساتھیوں جیسے انقلابی اور صاحب ایمان نوجوانوں کی یادیں ہمیشہ زندہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس شجاعت و استقامت سے اسلامی نظام کے دشمنوں کو اس حقیقت کا علم ہوا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایسا ملک نہیں ہے جس کے ساتھ من مانی کی جائے۔


رہبر انقلاب اسلامی نے بحریہ کے کمانڈروں اور کارکنوں کے اہل خانہ کی بھی قدردانی کی جو ان کے ساتھ جنوبی علاقوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔


آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں علاقے کے لئے استکباری طاقتوں کی خطرناک سازش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ طاقتیں بے گناہ انسانوں کے قتل عام کے لئے انتہائی خطرناک اور غیر انسانی طریقے استعمال کرنے میں بھی کوئی تامل نہیں کرتیں اور انسانی حقوق اور شہری حقوق کے ان کے دعوے حقیقت کے خلاف، بے بنیاد اور کھوکھلے ہیں۔


رہبر انقلاب اسلامی نے افغانستان میں اسپتال پر حملے اور شام، عراق، یمن، فلسطین اور بحرین میں بے گناہ انسانوں کے قتل عام کو استکباری قوتوں کی مذموم کارروائیوں اور ان کی بے رحمی و سنگدلی کا نمونہ قرار دیا اور زور دیکر کہا کہ آج دنیا کے لئے سب سے بڑا خطرہ انسانی حقوق کے دعویداروں کی منافقت، ریاکاری اور دروغگوئی ہے۔


آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے علاقے کے موجودہ حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی پوزیشن اور کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران نے، توفیق خداوندی سے اپنی سرحدوں کے اندر دشمن کے اثر و نفوذ کا سد باب کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے مواقع پر علاقے کے خلاف دشمن کی سازشوں اور منصوبوں کو بھی نقش بر آب کیا ہے۔


رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کے اندر اور علاقے کی سطح پر دشمن کی ناکامیوں کو انقلابی نوجوانوں کے عزم و ارادے، آمادگی و ہوشیاری اور اسلامی جمہوریہ ایران کی قوت و استحکام کی برکت قرار دیتے ہوئے فرمایا یہی وجہ ہے کہ استکباری طاقتوں کی سب سے زیادہ کوششیں اور منصوبے ایران کے اسلامی نظام سے عناد پر مبنی ہیں اور ایران سے مذاکرات کا امریکا کا دعوی بھی دراندازی کرنے کی اس کی کوشش ہے۔


رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس مسئلے کی گہرائی اور پیچیدگیوں کا ادراک نہ رکھنے والے کچھ سادہ لوح اور بے فکر افراد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان سادہ لوح افراد کے ساتھ ہی معاشرے میں ایسے بے فکر افراد بھی ہیں جو ملکی مفادات کو اہمیت اور ان پر توجہ نہیں دیتے۔


آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بعض سادہ لوح افراد کی جانب سے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں کی جانے والی کچھ باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ افراد کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی اپنے دشمنوں سے مذاکرات کئے تھے، مگر آج امریکا سے مذاکرات کی مخالفت کی جا رہی ہے۔


رہبر انقلاب اسلامی نے اس کج فہمی کے جواب میں فرمایا: "تاریخ اسلام کے بارے میں اور ملکی مسائل کے بارے میں اس انداز سے تجزیہ کرنا حد درجہ سادہ لوحی ہے کیونکہ حضرت علی علیہ السلام نے زبیر سے اور حضرت امام حسین علیہ السلام نے عمر ابن سعد سے آج کی طرح لین دین پر مبنی مذاکرات نہیں کئے تھے بلکہ ان دونوں عظیم ہستیوں نے فریق مقابل کو ڈانٹا تھا اور خداترسی کی نصیحت کی تھی۔"


رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ افسوس کا مقام ہے کہ کچھ لوگ شیطان بذرگ سے اسلامی جمہوریہ ایران کے مذاکرات کی توجیہ پیش کرتے ہوئے عامیانہ انداز میں ان مسائل کو اخبارات میں، تقاریر میں اور سائبر اسپیس میں اٹھاتے ہیں، جو بہت غلط بات ہے۔


آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے زور دیکر کہا کہ یورپی یا غیر یورپی کسی بھی ملک سے مذاکرات کی ایران مخالفت نہیں کرتا، لیکن امریکا کا مسئلہ بالکل الگ ہے کیونکہ امریکیوں نے اسلامی جمہوریہ ایران سے مذاکرات کی جو تفسیر کی ہے وہ ایران میں اثر و نفوذ قائم کرنے اور اپنی مرضی مسلط کرنے سے عبارت ہے۔


رہبر انقلاب اسلامی نے انسانیت مخالف صیہونی اداروں کے ساتھ امریکا کے تعاون اور شراکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا سے مذاکرات کا مطلب ملک کے اقتصادی، ثقافتی، سیاسی شعبوں اور سیکورٹی کے میدانوں کے راستے ان کے لئے کھول دینا ہے۔ آپ نے حالیہ ایٹمی مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات میں فریق مقابل کی کوشش تھی کہ دراندازی اور ملکی مفادات کے خلاف اقدام کے ہر موقع کا استعمال کرے، البتہ ایرانی مذاکرات کار پوری طرح چوکنے تھے، تاہم کچھ جگہوں پر امریکیوں کو کچھ مواقع مل گئے۔


رہبر انقلاب اسلامی نے دو ٹوک انداز میں فرمایا کہ امریکا سے مذاکرات ممنوع ہیں کیونکہ ان مذاکرات سے فائدہ پہنچنا تو در کنار اس کے بے شمار نقصانات ہیں۔


آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں کی سرگرمیوں اور کوششوں کے اعتبار سے جن کی ہمیں مکمل اطلاعات ہیں، موجودہ حالات بہت حساس ہیں، کیونکہ وہ عہدیداروں کے تخمینوں اور انقلاب، دین اور قومی مفادات سے متعلق امور کے بارے میں رائے عامہ کا طرز فکر بدلنے کی کوشش میں ہیں ۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ عوام کا طرز فکر تبدیل کرنے کے معاملے میں اصلی نشانہ نوجوان ہیں، نوجوانوں کو پہلے سے زیادہ ہوشیاری برتنے کی دعوتدیتے ہوئے فرمایا کہ لطف پروردگار سے یونیورسٹیوں میں اور اسی طرح مسلح فورسز کے اندر ہمارے نوجوان پوری طرح بیدار اور مستعد ہیں اور اس بابت مجھے کوئی تشویش نہیں ہے۔


رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے عید مباہلہ کا ذکر کیا اور کفر کے مقابلے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے اہل بیت اطہار کی استقامت و ثابت قدمی کا حوالہ دیتے ہوئے ملک کے انقلابی نوجوانوں کو مخاطب کرکے فرمایا: "صدر اسلام میں مباہلہ کے مسئلے میں جس طرح کل ایمان کفر کے مقابلے پر آیا تھا، آج اسلامی جمہوریہ ایران میں بھی کل ایمان کا مقابلہ کفر سے ہے اور جس طرح اس زمانے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے اہل بیت کی روحانی پاکیزگي نے دشمن کو مقابلے کے میدان سے باہر کر دیا تھا، آج ملت ایران بھی اپنی روحانی قوت سے دشمن کو میدان سے باہر نکال دیگی۔


رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آخر میں فرمایا کہ اگر ہم دین خدا کی نصرت کے لئے آمادہ اور تیار رہیں تو مدد کرنے والوں کی اللہ کی طرف سے نصرت کا خدائی وعدہ بھی پورا ہوگا اور اسلامی نظام کا برا چاہنے والے اپنی عسکری، اقتصادی، ثقافتی اور سیکورٹی سے متعلق سازشوں میں ناکام ہو جائیں گے۔


رہبر انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل فدوی نے اپنی تقریر میں آٹھ سالہ مقدس دفاع کے دوران سپاہ پاسداران انقلاب کی شجاعت کا ذکر کیا اور رہبر انقلاب کو مخاطب کرکے کہا کہ شیطان اکبر اور اس کے موذی، مہمان کش اور اطفال کش آلہ کاروں کو درس عبرت دینے کے لئے آپ کے سپاہی بس آپ کے فرمان کے منتظر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ہم اعلی ترین امکانی سطح پر اپنی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں ۔



ٹیگس