ہندوستان کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i199491-ہندوستان_کی_جانب_سے_پاکستان_پر_دہشت_گردی_کی_حمایت_کا_الزام
ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کی پالیسی کے بجائے اب مقامی اور داخلی دہشت گردی کی حمایت کی پالیسی اختیار کر لی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۱۹, ۲۰۱۵ ۱۳:۲۸ Asia/Tehran
  • ہندوستان کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام
    ہندوستان کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام

ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کی پالیسی کے بجائے اب مقامی اور داخلی دہشت گردی کی حمایت کی پالیسی اختیار کر لی ہے۔

ہندوستان کے خفیہ ذرائع کے دعوے کے مطابق پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے کشمیر کنٹرول لائن پر حفاظتی انتظامات میں اضافے کے بعد ہندوستانی سرزمین اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم دہشت گردوں کی حمایت پر اپنی توجہ مرکوز کر دی ہے۔

اخبار ایشین ایج نے لکھا ہے کہ ہندوستانی خفیہ ایجنسی کی تازہ ترین رپورٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے جموں کشمیر میں بدامنی پھیلانے کے لئے حزب المجاہدین اور دوسرے مقامی گروہوں کی حمایت شروع کر دی ہے۔

ہندوستان نے اس بات کا بھی دعوی کیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں اور فوج ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخلے کے سلسلے میں حملہ آوروں کو مدد فراہم کرتی ہے۔ واضح رہے کہ کشمیر کا ایک حصہ ہندوستان کے زیر انتظام اور ایک حصہ پاکستان کے زیر انتظام ہے اور دونوں ممالک ہی کشمیر کو اپنی اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتےہیں۔

دونوں ممالک میں کشمیر کے مسئلے پر اب تک دو جنگیں ہو چکی ہیں۔

اس سے قبل پاکستان نے بھی ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں پر صوبہ بلوچستان سمیت پاکستان کے حکومت مخالف گروہوں کی حمایت کرنے کا الزام لگایا تھا۔ بنابریں ہندوستان اور پاکستان کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات لگایا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔

البتہ اس سے دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر عدم اعتماد کی نشاندہی ہوتی ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب خطے میں جاری بدامنی اور بحران میں پیدا شدہ شدت کے پیش نظر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیکورٹی تعاون بہت ضروری ہو چکا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی جاری رہنا صرف دہشت گرد گروہوں کے مفاد میں ہے ۔

یہ گروہ اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرتے ہوئے ہندوستان اور پاکستان کی سرزمینوں میں دہشت گردانہ کارروائیاں جاری رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر مخالف گروہوں کی حمایت کا الزام لگا کر دہشت گرد گروہوں کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ زیادہ گستاخی اور طاقت کے ساتھ ان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیں۔

سیاسی ماہرین کے نزدیک ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی کا جاری رہنا نہ صرف جنوبی ایشیاء کے خطے میں بدامنی جاری رہنے کا باعث ہے بلکہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان اسلحے کی دوڑ میں بھی شدت پیدا ہوئی ہے۔

یہاں تک کہ یہ خطہ دنیا میں سب سے زیادہ فوجی علاقہ شمار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جانب سے بجٹ کا زیادہ حصہ دفاع کے لئے مختص کئے جانے کی وجہ سے یہ ممالک غربت کے خاتمے، تعلیم اور روزگار جیسے مواقع پیدا کرنے سمیت ترقیاتی پروگراموں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے ہیں۔

اس لئے برصغیر کے علاقے کو سب سے زیادہ غربت اور بے روزگاری کا سامنا ہے۔ بہرحال سیاسی مبصرین کے نزدیک جنوبی ایشیاء کے سیکورٹی ، اقتصادی اور سماجی حالات کے پیش نظر ان مشکلات پر قابو پانے کے لئے پاکستان اور ہندوستان کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔