Oct ۲۵, ۲۰۱۵ ۱۶:۰۸ Asia/Tehran
  • اقوام متحدہ کی ستّر سالہ کارکردگی، اچھی یا بری؟
    اقوام متحدہ کی ستّر سالہ کارکردگی، اچھی یا بری؟

اقوام متحدہ کی سرگرمیاں دوسری عالمی جنگ کے بعد چار اکتوبر سن انّیس سو پینتالیس کو شروع ہوئیں اور اس وقت اس عالمی ادارے کو قائم ہوئے ستّر برس پورے ہوچکے ہیں۔

اس عالمی ادارے کی کارکردگی، کیسی رہی ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کئے جانے سے اس بات کا بخوبی پتہ چلتا ہے کہ یہ ادارہ، اپنے اہم ترین فریضے یعنی دنیا سے جنگوں کا خاتمہ اور ان کی روک تھام کرنے میں خاطر خواہ کامیاب نہیں ہوا ہے۔

بنابریں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ عالمی ادارہ، کیوں اپنا موثر کردار ادا نہیں کرپا رہا ہے جبکہ اسے اجتماعی سوچ اور منطقی اقدامات کا مرکز قرار پانا چاہئے تھا۔

اس لئے  صرف منطقی سعی و کوشش سے ہی، عالمی سطح پر امن اور مختلف ملکوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

تنقید کرنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ، دوسری عالمی جنگ کے بعد وجود میں آنے والی وہ نام نہاد بڑی طاقتیں ہیں کہ جنھوں نے دیگر ملکوں پر اپنے نظریات مسلط کئے اور اس طرح سے ان ممالک نے اقوام متحدہ کے منشور کو پیروں تلے روند ڈالا۔

اقوام متحدہ کے منشور کی دھّجیاں اڑائے جانے کا آغاز، دنیا کو مشرقی اور مغربی بلاک میں تقسیم کئے جانے سے ہوا اور پھر، سوویت یونین کے زوال اور دو قطبی نظام کی تبدیلی کے بعد، بڑی عالمی طاقتوں کی مداخلتوں کا سلسلہ بدستور جاری رہا جو مسلط کردہ جنگوں اور انسانوں کی دربدری کے ساتھ، وسیع پہلو اختیار کرگیا۔اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ، روانڈا کی نسل کشی نہ روک سکا۔

سربرنیٹسا کا قتل عام بھی اسی عالمی ادارے کے سامنے ہوتا رہا مگر نہ روک پایا۔اس کی یہ کمزوری ہی، اس بات کا باعث بنی ہے کہ وہ امنگیں، جو اقوام متحدہ کے منشور میں شامل تھیں پوری نہ ہوسکیں اور ادھوری رہ گئیں۔

اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب غلام علی خوشرو نے حال ہی میں سلامتی کونسل کے طریقۂ عمل سے متعلق اقوام متحدہ کے تشکیل پانے والے ایک اجلاس میں ناوابستہ تحریک کی نمائندگی کی۔

انھوں نے اپنے خطاب میں اقوام متحدہ سے متعلق مسائل و مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ناوابستہ تحریک، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے موثر اور شفّاف کردار کی خواہاں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اقغانستان و عراق میں حالیہ دو عشروں کے تلخ تجربات اور یمن و فلسطین کے خونریز واقعات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اقوام متحدہ، موجودہ صورت حال میں عالمی مسائل و مشکلات کو حل کرنے پر قادر نہیں ہے اور یہ عالمی ادارہ، اس وقت بڑی تسلط پسند طاقتوں خاص طور سے امریکہ کی جانب سے غلط فائدہ اٹھائے جانے اور بے جا مداخلت کا خمیازہ بھگت رہا ہے اور اقوام متحدہ کی کچھ ناتوانی کا تعلق، ماضی کے اس کے عمل کے نتیجے سے بھی ہے۔

اقوام متحدہ کی کارکردگی، سیاسی حوالے سے بالکل صفر رہی ہے اور اس دوران اگر کوئی مثبت اتفاق پیش بھی آیا تو وہ، بڑی طاقتوں کے مقابلے میں بعض ملکوں کی استقامت و دباؤ کا نتیجہ رہا ہے۔

مسلمہ امر یہ ہے کہ اس عالمی ادارے کی تشکیل کا اہم ترین مقصد، امن و امان کا تحفظ اور جنگ و خونریزی کی روک تھام کرنا رہا ہے اور اس تناظر میں سلامتی کونسل کا مقام و کردار، امن کی حفاظت کرنا ہے۔

بنابریں بیشتر مطالبات بھی اسی سے مربوط ہیں۔

در اصل اس وقت کی صورت حال، ماضی سے بالکل مختلف ہے اور دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور عالمی برادری کی خواہش و مطالبہ یہ ہے کہ طاقت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے نظم و ضبط اور دیگر اقوام کے حقوق کا پاس و لحاظ رکھا جائے۔

عالمی برادری کو اس وقت جس چیز کی ضرورت ہے وہ، بین الاقوامی نظم اور امن کی برقراری اور دفاع سے متعلق اقوام متحدہ کے کردار کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہونے کے بجائے اس عالمی ادارے پر اعتماد کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا ہے۔اس لئے کہ کوئی بھی ملک خود کو، اقوام متحدہ کی کمزوری و ناتوانی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات سے محفوظ نہیں سمجھ سکتا۔

جیسا کہ اس وقت دنیا میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرے، اقتصادی بحران اور یا پناہ گزینوں کے بڑھتے ریلے یہاں تک کہ ماحولیات کی تبدیلی نے پوری دنیا کو بڑے خطرے سے دوچار کردیا ہے۔

ٹیگس