فلسطینی بچوں کے خلاف بڑے پیمانے پر اسرائیل کا تشدد
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i200450-فلسطینی_بچوں_کے_خلاف_بڑے_پیمانے_پر_اسرائیل_کا_تشدد
رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ فلسطینی بچوں سمیت فلسطین کے تمام طبقات کو صیہونی حکومت کے پرتشدد اقدامات اور جرائم کا سامنا ہے اور یہ غاصب حکومت اس سلسلے میں کسی بھی حد و حدود کی قائل نہیں ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۱۱, ۲۰۱۵ ۱۳:۴۴ Asia/Tehran
  • فلسطینی بچوں کے خلاف بڑے پیمانے پر اسرائیل کا تشدد
    فلسطینی بچوں کے خلاف بڑے پیمانے پر اسرائیل کا تشدد

رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ فلسطینی بچوں سمیت فلسطین کے تمام طبقات کو صیہونی حکومت کے پرتشدد اقدامات اور جرائم کا سامنا ہے اور یہ غاصب حکومت اس سلسلے میں کسی بھی حد و حدود کی قائل نہیں ہے-

اس تناظر میں ایک فلسطینی بچے سے وحشیانہ طریقے سے تفتیش کی ویڈیوفلم منظر عام پر آنے سے صیہونی جرائم کے خلاف فلسطینی رائے عامہ کی نفرت و غصہ بھڑک اٹھا ہے-
اس ویڈیو میں دیگر اسرائیلی تفتیش کاروں کے ساتھ کچھ افسروں کو فلسطینی بچے احمد مناصرہ کو زد و کوب اور ہر طرح کے تشدد سے ان کاموں کا اعتراف کرنے پر مجبور کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو اس نے انجام نہیں دیئے ہیں- فلسطینی بچہ سخت خوف کے عالم میں روتے ہوئے صیہونی تفتیش کاروں کے سوالوں کا جواب دے رہا ہے جبکہ اس ویڈیو میں یہ بھی نظر آرہا ہے کہ تفتیش کاروں کے تشدد کے باعث بچے کا سر کئی جگہ سے پھٹ گیا ہے-

فلسطینی بچے کی تفتیش کا ویڈیو جاری ہونے کے بعد فلسطینی قیدیوں کے امور سے متعلق ادارے کے سربراہ عیسی قراقع نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ صیہونی حکومت، انتفاضہ قدس کو دبانے کے لئے سب سے زیادہ فلسطینی نوجوانوں اور بچوں کو گرفتار اور انھیں سرکوب کر رہی ہے اور اب تک ایک ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کرچکی ہے-

فلسطینی قیدیوں کے کلب کے سربراہ قدوہ فارس نے بھی کہا ہے کہ صیہونی فوجیوں نے اکتوبر کے مہینے میں فلسطینی عوام کی تحریک انتفاضہ کو کچلنے کے ساتھ ہی پانچ سو بچوں کو گرفتار کیا ہے- جب سے صیہونی حکومت کا ناجائز وجود قائم ہوا ہے اس وقت سے دنیا فلسطینیوں بالخصوص بچوں کے خلاف بچوں کی قاتل اس غاصب حکومت کے ہولناک تشدد کا مشاہدہ کر رہی ہے- اس سلسلے میں کچھ دنوں پہلے اسرائیلیوں کے ہاتھوں فلسطینی شیر خوار بچے کو جلادیئے جانے کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے-

صیہونیوں نے کچھ مہینے پہلے بھی غرب اردن میں دوما دیہات کے ایک گھر کو نذر آتش کرکے اٹھارہ مہینے کے شیر خوار بچے علی دوابشہ کو شہید کر دیا تھا- اس بچے کے ماں باپ اپنے چار سال کے دوسرے بچے کے ساتھ جلنے کے باعث پیدا ہونے والے گہرے زخموں کے باعث اسپتال میں داخل کئے گئے لیکن کچھ دنوں بعد علی دوابشہ کے والدین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ اس خاندان کی زندہ رہ جانے والی واحد فرد چار سالہ احمد دوابشہ ساٹھ فیصد تک جل جانے کے باعث اب بھی زیرعلاج ہے-

یہ ایسے عالم میں ہے کہ تیس ستمبر دوہزار کے ہولناک جرائم کہ جس میں محمد الدورہ جو اپنے باپ کے ساتھ صیہونی فوجیوں کی نگاہوں سے چھپنے کی کوشش کر رہا تھا ، ان کی فائرنگ کا نشانہ بن کر نہایت مظلومیت کی حالت میں اپنے باپ کی گود میں شہید ہوگیا تھا اور اس کی تصاویر منظرعام پر آنے کے بعد عوام نے شدید احتجاج کیا تھا یہ المناک سانحہ اب بھی ذہنوں میں محفوظ ہے-

فلسطینی بچوں کے ساتھ غاصب صیہونی حکومت کا پر تشدد رویہ بین الاقوامی قوانین بالخصوص بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن کی سولہویں شق کے منافی ہے - بچوں کے حقوق کے کنونشن کی سولہویں شق کے مطابق بچوں کے ساتھ پرتشدد رویہ ممنوع ہے -

صیہونی حکومت کے ہاتھوں فلسطینی بچوں کی حقوق کی خلاف ورزی کا سلسلہ ختم ہونے والا نہیں ہے اور اسرائیل دنیا کی نگاہوں کے سامنے نہایت گستاخی اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے کسی طرح کا جواب طلب کئے جانے کے خوف و تشویش کے بغیر فلسطینی بچوں پر اپنے جرائم جاری رکھے ہوئے ہے-

صیہونی حکومت کے مقابلے میں اقوام متحدہ کی کمزور پالیسیوں کے تناظر میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ابھی کچھ دنوں پہلے بڑے پیمانے پرعالمی اپیلوں کے باوجود اسرائیل کو بچوں کے حقوق پامال کرنے والی حکومتوں کی فہرست میں شامل کرنے سے اجتناب کیا اور اس طرح صیہونی حکومت کے جرائم کو نظرانداز کر کے اس کے مظالم جاری رہنے کی زمین ہموار ہوگئی-

یہ ایسی حالت میں ہے کہ بچوں سمیت فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے پرتشدد اقدامات، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کا کھلا مصداق ہیں اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کا اعتراف اس حقیقت کی تصدیق ہے- ان حالات میں فلسطینیوں اور رائے عامہ کو صیہونی حکومت کو سزا دیئے جانے کا انتظار اور توقع ہے-