ترکی میں صدارتی نظام کے لئے تیاریاں
ترکی کے صدر اردوغان نے ایک بار پھر ترک وزیر اعظم اور انصاف اور ترقی پارٹی کے سربراہ داود اوغلو کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔
داود اوغلو نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ہماری سب سے بڑی ضرورت ایک ایسا آئین ہے جو آزادی اور جمہوریت کی ضمانت دے کیونکہ اب ترکی کو بغاوت کے زمانے کے آئین سے نہیں چلایا جاسکتا۔ البتہ اردوغان نے واضح اور شفاف الفاظ میں داود اوغلو کی باتوں کا مطلب بیان کردیا ہے۔
اردوغان نے کہا کہ پارلیمانی سسٹم اب کارامد نہیں رہا اور اب صدارتی سسٹم آنا چاہیے۔ البتہ ترکی میں صدارتی سسٹم کے بہت سے حلقے مخالف ہیں لیکن صدر اردوغان نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اب مخالفین پر کوئی خاص توجہ نہیں کرتے، بالخصوص ان لوگوں کے بارے میں انہوں نے کوئی خاص رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے جنہوں نے ان پراور ان کے اقتدار پسندانہ رویے پر سخت الفاظ میں تنقید کی ہے یہانتک کہ انہیں جمہوریت کی آفت بھی قرار دیا ہے۔ صدر اردوغان نے مخالفین کی تنقیدوں کےباوجود آئین کے مطابق صدر کی ذمہ داریوں سے بڑھ کر قدم اٹھایا ہے اور غیر محسوس طریقے سے حالیہ انتخابات میں انصاف اور ترقی پارٹی کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔
اب انصاف و ترقی پارٹی اپنی حکومت بنارہی ہے اور اس کے وزیروں کی تعداد میں تیس افراد کا اضافہ بھی ہوچکا ہے لھذا اردوغان اس طرح صدارتی نظام کے لئے راستہ ہموار پارہے ہیں۔ اردوغان کے ترجمان نے کہا ہےکہ صدارتی نظام کے لئے ریفرینڈم کرایا جائے گا۔ اس بات کا امکان ہے کہ انصاف وترقی پارٹی حالیہ عام انتخابات میں کامیاب ہونے کےبعد جس خود اعتمادی کی حامل ہوچکی ہے اور ملک میں سیاسی اور سماجی سطح پر جس اثر ورسوخ کی حامل ہے اس کے سہارے صدارتی نظام لانے میں کامیاب ہوجائے گی۔
صدارتی نظام ایک سیاسی نظام ہے جس میں ہرچند تینوں قوتیں الگ الگ ہوتی ہیں لیکن مجریہ اپنے اختیارات منتخب صدر کو تفویض کردیتی ہے جو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ نہیں ہوتا اور پارلیمنٹ بھی اسے برطرف نہیں کرسکتی۔ صدر اردوغان کے اقتدار پسندانہ رجحانات کے پیش نظر ان کے مخالفین اسی زاویے سے صدارتی نظام کو ناقص سمجھتے ہیں۔ اردوغان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں جبکہ ترکی کو جمہوریت کی بنیادیں مستحکم بنانے کی ضرورت ہے اس کے لئے پارلیمانی نظام ہی بہتر ہوگا۔
ان کی نظر میں پارلیمانی نظام جمہوریت کے فروغ اور حکومت پر
عوامی نگرانی کا سبب بنے گا۔ ترکی میں پہلی نومبر کو ہونے والے عام
انتخابات کے نتائج کو جس زاویے سے بھی دیکھا جائے ترک عوام نے جہموریت کے
جاری رہنے کی مانگ کی ہے اب یہ جمہوریت خواہ پارلیمانی نظام سے جاری رہے یا
صدارتی نظام سے، البتہ صدارتی نظام کے بارے میں ترکی کے موجودہ حالات میں
ہنوز کافی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔