سہ فریقی فوجی اتحاد سے ایران کو کوئی خطرہ نہیں ہے
https://urdu.sahartv.ir/news/iran-i455018-سہ_فریقی_فوجی_اتحاد_سے_ایران_کو_کوئی_خطرہ_نہیں_ہے
ایران کے ایک سینیئر سفارتکار نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے سہ فریقی فوجی اتحاد سے ایران کو کوئی خطرہ نہیں ہے
(last modified 2026-08-10T16:37:24+00:00 )
Aug ۱۰, ۲۰۲۶ ۲۰:۰۵ Asia/Tehran
  • سہ فریقی فوجی اتحاد سے ایران کو کوئی خطرہ نہیں ہے

ایران کے ایک سینیئر سفارتکار نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے سہ فریقی فوجی اتحاد سے ایران کو کوئی خطرہ نہیں ہے

سحرنیوز/ایران:  قطر، لبنان اور اردن میں ایران کے سابق سفیر محمد علی سبحانی نے ارنا کے ساتھ خصوصی گفتگو میں ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے مشترکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں کہا ہے کہ یہ اتحاد تہران کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ مکے میں جس معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں، اس کے مختلف پہلو ہیں،آسانی سے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

انھوں نے کہا کہ اس معاہدے کو جس حدتک مثال کے طور پرایران کے لئے اس پیغام کا حامل قرار دیا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب کو امر ونہی نہ کرے، اسی حد تک اس کو   دوسرے زاویے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

 ایران کے سینیئر سفارتکار محمد علی سبحانی نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ترکیہ سے ایران کے روابط بہت اچھے ہیں۔ ایران اور ترکیہ کے درمیان سیکورٹی معاہدہ ہے۔ دوسرے پاکستان سے ایران کے روابط بہت وسیع اور دوستانہ ہیں۔دونوں ملکوں کی اقدار اور دونوں کولاحق خطرات مشترک ہیں۔ بنابریں ایران، پاکستا ن اور ترکیہ کے نظریات ایک ہوسکتے ہیں اور ان کے باہمی روابط، بالخصوص علاقائی تعاون میں بہت زیادہ قربت ہوسکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس معاہدے سے ایران کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔  

محمد علی سبحانی نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے  ہیں کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی نشست اور ان کے معاہدے کا ہدف ایران ہوگا بلکہ اس کے برعکس اس کا مقصد، ایران امریکا جنگ ختم کرانا اور اسرائیل کو کنٹرول کرنا ہوسکتا ہے۔ اس لئے کہ اسرائیل ایران سے لے کر، شام اور لبنان تک پورے علاقے میں اپنی مداخلتوں اور ترکیہ نیز سعودی عرب کے لئے اپنی دھمکیوں سے اس خطے کے تقریبا سبھی ملکوں کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کی اس جنگ نے ثابت کردیا ہے کہ علاقے کی سلامتی میں ایران کے علاوہ کسی بھی ملک کا کوئی کردار نہیں ہے۔

ہمیں فالو کریں:

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

محمد علی سبحانی نے کہا کہ البتہ ان تینوں ملکوں یعنی ترکیہ،پاکستان اور سعودی عرب کے سامنے اقتصادی وجوہات بھی ہیں۔ پاکستان کے خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ بہت اچھے اقتصادی روابط ہیں اوریہ موضوع اس کے لئے اہمیت رکھتا ہے اور ترکیہ بھی  اسی طرح اس  فکر میں ہے کہ پورے علاقے میں سیکورٹی قائم ہو۔