عالمی سطح پر صیہونی حکومت کی مخالفت
عالمی حالات سے پتہ چلتا ہےکہ رواں برس میں صیہونی حکومت کے خلاف مختلف ملکوں اور عالمی اداروں کی جانب سے پابندیوں اور مخالفتوں میں شدت آرہی ہے
۔ مظلوم فلسطینی قوم کے خلاف صیہونی حکومت کے وحشیانہ اقدامات سے عالمی رائے عامہ کی روزافزوں آگہی کی وجہ سے صیہونی حکومت کی آئے دن کی وحشیانہ پالیسیوں کی مخالفت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
اسی تناظر میں اقوام متحدہ نے نیویارک میں اپنے ہیڈ کوارٹر میں صیہونی حکومت کی نمائش کی مخالفت کی ہے۔ صیہونی حکومت پیر کے دن نیویارک میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر میں تصویروں اور پوسٹروں کی نمائش لگانا چاہتی تھی لیکن اقوام متحدہ نے اس نمائش کی مخالفت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے اس اقدام پر اس عالمی تنظیم میں صیہونی حکومت کےنمائندے ڈینی ڈینن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ اقوام متحدہ کے اس اقدام سے اسرائیل کے وجود کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ قابل ذکرہے صیہونی حکومت تصویروں اور پوسٹروں کی اس نمائش کے ذریعے بیت المقدس کو بزعم خود اسرائیل کے دارالحکومت کی حیثیت سے متعارف کرانا چاہتی تھی۔ اقوام متحدہ نے صیہونی حکومت کی نمائش کی ایسی حالت میں مخالفت کی ہے کہ کچھ دنوں قبل اقوام متحدہ میں صیہونی کالونیوں میں سرگرم عمل کمپنیوں کی بلیک لسٹ بنانے کے مسودے کو منظوری دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے غرب اردن، بیت المقدس اور جولان کی پہاڑیوں میں سرگرم عمل صیہونی کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کے مسودے سے اتفاق کیا ہے۔ اس بلیک لسٹ کو ہرسال اپڈیٹ کیا جائے گا۔ عالمی حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ثقافتی، سیاسی اور سفارتی نیز اقتصادی سطح پر صیہونی حکومت کی مخالفت میں اضافہ ہورہا ہے اور ان مخالفتوں کے نتیجے میں صیہونی حکومت روز بروز الگ تھلک ہوتی جارہی ہے اور یہ بات اقوام متحدہ میں بھرپور طرح سے محسوس کی جاسکتی ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے صیہونی حکومت کی نمائش لگانے کی مخالفت سے پتہ چلتا ہےکہ عالمی برادری صیہونی حکومت سے شدید نفرت کرتی ہے جو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے فائدہ اٹھا کر فلسطین بالخصوص بیت المقدس، اور مجموعی طور سے مشرق وسطی میں عالمی برادری سے اپنے تسلط پسندانہ اقدامات منوانے کے درپئے ہے۔ صیہونی حکومت کے وحشیانہ اقدامات ایسے عالم میں بھی جاری ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں صیہونی جارحیت اور فلسطینی علاقوں بالخصوص بیت المقدس پر صیہونی تسلط پسندی کے خاتمے پر تاکید کی گئی ہے۔
اقوام متحدہ نے بارہا فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور اس تنظیم میں فلسطینیوں کی پوزیشن کو ترقی دینے کی بات کرکے فلسطینیوں کے حقوق ضایع کرنے میں صیہونی حکومت کی مخالفت کی ہے۔
حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر فلسطینیوں کی حمایت میں اضافہ منجملہ اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی پوزیشن میں ترقی لانا اور اقوام متحدہ کی مختلف تنظیموں میں فلسسطین کی رکنیت اور اقوام متحدہ میں فلسطینی پرچم کا لہرایا جانا یہ ساری چیزیں ملت فلسطین کے حقوق نیز آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل کے حق میں عالمی سطح پر ہونے والی حمایتوں کی نشانیاں ہیں۔
اقوام متحدہ میں فلسطین کو ووٹنگ کے حق کے بغیر مبصر رکن کی حیثیت حاصل تھی جس کے بعد دوہزار بارہ میں اسے بڑھا کر غیر رکن مبصر حکومت کی پوزیشن دیے دی گئی اس طرح عالمی سطح پر کامیابیاں حاصل کرنے نیز اقوام متحدہ کے مکمل رکن بننے کے لئے فلسطین کے سامنے راستے کھلے ہیں اور فلسطینیوں کی یہ ترقی حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر صیہونی حکومت کی سفارتکاری کی شکست فاش ہے۔ اس تناظر میں اقوام متحدہ کی جانب سے بیت المقدس میں صیہونی حکومت کی تسلط پسندی کی مخالفت سے معلوم ہوتا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل میں جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو صیہونی حکومت کی خلاف ورزیوں اور رکاوٹوں پر عالمی برادری بھی بری طرح برہم ہے۔