یمن پر سعودی اتحاد کے حملے جاری
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i220543-یمن_پر_سعودی_اتحاد_کے_حملے_جاری
تحریک انصاراللہ اور سعودی عرب کےدرمیان جنگ بندی پرعمل درآمد پر اتفاق کے باوجود یمن کے مختلف علاقوں پر آل سعود اور اسکے اتحادیوں کے حملے جاری ہیں
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۱۰, ۲۰۱۶ ۱۳:۳۲ Asia/Tehran
  • یمن پر سعودی اتحاد کے حملے جاری

تحریک انصاراللہ اور سعودی عرب کےدرمیان جنگ بندی پرعمل درآمد پر اتفاق کے باوجود یمن کے مختلف علاقوں پر آل سعود اور اسکے اتحادیوں کے حملے جاری ہیں

اس سے قبل اعلان ہوا تھا کہ اتوار کو آدھی رات سے جنگ بندی عمل میں آئے گی۔ البتہ اسکائی نیوز عرب چینل نے اتوار کو رپورٹ دی ہے کہ پیر کی نصف شب سے جنگ بندی شروع ہوگی۔ خبری ذرائع کے مطابق تحریک انصاراللہ اور سعودی عرب کے مابین طے شدہ معاہدہ بیس نکات پر مشتمل ہے۔ اس اتفاق کے مطابق یمن کے امن مذاکرات کویت میں یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل ولد شیخ احمد کی نگرانی میں اٹھارہ اپریل سے شروع ہونگے۔ یمن میں جنگ بندی کے قریب آنے کے باوجود یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی اتحاد کے حملے بدستور جاری ہیں۔

آل سعود کے جنگی طیاروں نے جنگ بندی پرعمل درآمد کے موقع پر یمن کے جنوب مغربی علاقے تعز، صوبہ مآرب، اور الجوف پر حملے کئے۔ ان حملوں میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ یمن کے تعلق سے سعودی عرب کی پالیسیوں سے پتہ چلتا ہےکہ آل سعود کے ہاتھوں میں جنگ بندی ان اھداف کو حاصل کرنے کا حربہ بن چکی ہے جنہیں یہ حکومت جنگ سے حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یمن میں جنگ بندی کے لئے کئے گئے ماضی کے معاہدے ہر مرتبہ سعودی عرب کی توسیع پسندی کی بنا پر ناکام ہوگئے ہیں البتہ فوجی طریقے سے بھی آل سعود اپنے بنیادی ھدف یعنی یمن کے سیاسی میدان سے تحریک انصاراللہ کو ہٹانے میں ناکام رہی ہے۔ اگرچہ سعودی عرب یمن کے خلاف فوجی طریقہ استعمال کرنے پر اصرار کررہی تھی تا کہ اپنے اھداف تک پہنچ سکے لیکن اس کے سنگین اخراجات اور یمن میں آل سعود کی انسانیت سوز کارروائیوں پر عالمی رائے عامہ کی برہمی کے سبب آل سعود مجبور ہوئی ہے کہ سنجیدگی سے تحریک انصاراللہ کے ساتھ مذاکرات کرے۔ یہ مذاکرات بیس نکاتی جنگ بندی کے معاہدے پر منتج ہوئے ہیں لیکن نئی جنگ بندی عمل میں لانے کے راستے میں جو واقعات پیش آرہے ہیں ان سے جنگ بندی کا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے۔ سعودی عرب کے حملوں کے جاری رہنے کے باوجود سیاسی میدان میں بھی آل سعود کے پٹھو عناصر اس بات کا دعوی کررہے ہیں کہ تحریک انصاراللہ جنگ بندی پر کاربند نہیں رہے گی۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی جو آل سعود کی حمایت سے یمن میں اقتدار میں پہنچنا چاہتے ہیں انہوں نے ہر طریقے سے تحریک انصاراللہ کو سیاسی میدان سے ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ جنگ بندی پر عمل درامد سے پہلے یمن کی مستعفی حکومت کے ترجمان کا بیان اور انصاراللہ پر الزامات لگانے سے واضح ہوتا ہے اس عوامی تحریک اور اس کے اقتدار میں رہنے کی کس قدر شدید مخالفت کی جارہی ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ یمن کی تحریک انصاراللہ نے عوام کی حمایت سے سعودی عرب کی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے ملک کی ارضی سالمیت کا دفاع کیا ہے اور یمن کی قومی اتحاد کی حکومت کو عوام کی مطلوبہ حکومت جانتی ہے نہ کہ اس حکومت کو جو سعودی عرب مذاکرات میں یمن کے انقلابی عوام پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔