فلسطینیوں کی زمین جائدار ضبط اور برباد کرنے پر اقوام متحدہ کا ردعمل
خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ فلسطینیوں کے گھروں کو ڈھانے اور فلسطینی عوام کو آوارہ وطن اور در بدر کرنے کے صیہونی حکومت کے اقدامات میں شدت آئی ہے اور مختلف اعداد و شمار اس بات کے عکاس ہیں کہ دوہزار سولہ میں بھی مختلف فلسطینی علاقے بڑے پیمانے پر صیہونیوں کی غاصبانہ تباہ کاریوں سے دوچار ہیں-
مذکورہ مسائل سے معلوم ہوتا ہے کہ صیہونی حکومت کی تباہ کن ، تسلط پسندانہ اور نسل پرستانہ پالیسیاں خطرناک رخ اختیار کر گئی ہیں- اس سلسلے میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے انسان دوستانہ امداد کے کوارڈی نیٹر رابرٹ پایپر نے بدھ کو ایک بیان میں فلسطینیوں کے گھروں پر صیہونی حکومت کے سیکورٹی اہلکاروں کے حملوں اور فلسطینیوں کے مال اسباب اور زمین و جائداد ضبط کرنے اور انھیں تباہ و برباد کرنے کو چوتھے جنیوا معاہدے کے برخلاف قرار دیا اور اس غاصب حکومت کے سربراہوں سے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے انسان دشمن اقدامات کا سلسلہ بند کریں-
مقبوضہ علاقوں میں اقوام متحدہ کے انسان دوستانہ امداد کے کوارڈی نیٹر کے بیان کے مطابق دوہزار سولہ کے صرف ابتدائی چار مہینوں میں غرب اردن میں فلسطینیوں کے چھ سو رہائشی مکانات کو منہدم یا ان پر قبضہ کیا گیا ہے کہ جن کی تعداد دوہزار پندرہ میں مجموعی طور پر فلسطینیوں کے تباہ کئے جانے والے تمام مکانوں سے زیادہ ہے-
صیہونیوں کے تباہ کن اقدامات میں شدت، گذشتہ برسوں میں ہزاروں فلسطینیوں کی دربدری کا باعث بنی ہے-
صیہونی حکومت نے انیس سو اڑتالیس میں فلسطینی زمینوں پر غاصبانہ قبضے کے وقت سے اب تک ہمیشہ ہی فلسطینیوں کے گھروں کو ڈھانے، ان کے گھروں اور زمینوں پر قبضہ کرنے اور مختلف فلسطینی علاقوں میں صیہونی کالونیوں کی تعمیر کا راستہ اختیار کیا ہے-
صیہونی حکومت نے مقبوضہ علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے اور اس غاصب حکومت کے وجود میں آنے کی ابتداء سے ہی اس نسل پرست حکومت کی ماہیت کو منوانے کی پالیسی اپنے ایجنڈے میں شامل کر رکھی ہے کہ جو لاکھوں فلسطینیوں کے در بدر ہونے کا باعث بنی ہے-
مختلف ممالک میں تقریبا ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ فلسطینی جلا وطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پناہ گزینوں کی تعداد کا ایک بڑا حصہ ہے- فلسطینی مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد، اس المیے کی گہرائی کی عکاسی کرتی ہے جو صیہونی حکومت نے فلسطینیوں کے لئے رقم کی ہے-
صیہونی حکومت، مقبوضہ فلسطین کے مختلف علاقوں میں مقدس اسلامی مقامات اور فلسطینیوں کے رہائشی مکانات نیز اداروں کو منہدم کر کے فلسطینی علاقوں کو صیہونی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اس طرح عالمی برادری سے ان علاقوں پر اپنے تسلط اور قبضے کو منوا سکے-
صیہونی حکومت کی کارکردگی فلسطینی علاقوں پر صیہونیوں کے مکمل تسلط حاصل کرنے اور فلسطینیوں کو ان کے گھر بار سے زبردستی باہر نکالنے کی غرض سے اس حکومت کی خطرناک سازشوں اور منصوبوں کی عکاسی کرتی ہے اور اسی طرح اس غیرانسانی رویے نے اس حکومت کے نسل پرستانہ موضوع کو پہلے سے زیادہ نمایاں کر دیا ہے-
صیہونی حکومت کے رویے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ غاصب حکومت جرائم انجام دینے کے سلسلے میں کسی طرح کی حد کی قائل نہیں ہے اور عالمی اداروں کے ناکارے پن اور مغربی حکومت کی حمایت سے بڑے اطمینان سے فلسطینی عوام کے خلاف اپنے جرائم جاری رکھے ہوئے ہے-
یہ ایسی حالت میں ہے کہ صیہونی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز کرنے اور بین الاقوامی کنونشنوں کی بار بار خلاف ورزی کے سبب عالمی برادری تنگ آچکی ہے- صیہونی حکومت کے اقدامات کے سلسلے میں مختلف بین الاقوامی اداروں کی مختلف نشستیں اور اس کے خلاف اقوام متحدہ اور اس سے وابستہ اداروں کے بیانات اور قراردادوں کا بڑا حصہ اس بات کاعکاس ہے کہ دنیا کو ایک ایسی حکومت کا سامنا ہے کہ جس کا رویہ صرف پرتشدد اور تباہ کن ہے-
ان حالات میں صیہونی حکومت کے خلاف اقوام متحدہ کی جانب سے کوئی عملی قدم نہ اٹھایا جانا اور صیہونی حکومت کے جرائم کے سلسلے میں صرف رپورٹوں پر اکتفا کرنے کا نتیجہ علاقائی اور عالمی سطح پر اس حکومت کی تباہ کن کارکردگی میں شدت آنے کے سوا کچھ نہیں ہوگا-