May ۲۷, ۲۰۱۶ ۱۶:۵۴ Asia/Tehran
  • دہشت گردوں کی تربیت کرنے والے سعودی عرب کی اشتعال انگیزی کی کوشش

سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے، کہ جن کا ملک مغربی ایشیاء کے علاقے خاص طور سے شام اور عراق میں اپنے ناجائز اغراض و مقاصد کے حصول میں ناکام رہا ہے، بحران کا رخ موڑنے کی کوشش کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ایران، دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے، کہ جن کا ملک مغربی ایشیاء کے علاقے خاص طور سے شام اور عراق میں اپنے ناجائز اغراض و مقاصد کے حصول میں ناکام رہا ہے، بحران کا رخ موڑنے کی کوشش کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ایران، دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے رشا ٹوڈے ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور القدس بریگیڈ، علاقے میں دہشت گردوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے شام و عراق میں دہشت گردوں کی مالی مدد اور انھیں ہتھیار فراہم کرنے میں اپنے ملک کے براہ راست کردار پر توجہ دیئے بغیر، کہ جس کے نتیجے میں ان دونوں ملکوں میں بے گناہوں کی خونریزی میں سعودی عرب براہ راست ملوث بھی ہے، یہ بے بنیاد دعوی بھی کیا ہے کہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، عراق و شام اور پوری دنیا کے عوام کے خلاف برسرپیکار ہے اور وہ تخریبی کارروائیاں انجام دے رہی ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے، کہ جن کا ملک ایران سے دشمنی اور عالم اسلام پر ظلم ڈھانے میں گویا صیہونی حکومت سے بھی سبقت لے گیا ہے، یہ دعوی بھی کیا ہے کہ ایران اچھی ہمسائیگی اور اپنے پڑوسیوں کے احترام کے اصول کا قائل نہیں ہے اور وہ، عرب ملکوں کے اندرونی مسائل میں مداخلت کر رہا ہے کہ جس سے علاقائی امن و استحکام میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر اور دیگر سعودی حکام ایسی حالت میں ایران پر دہشت گردی کی حمایت اور عرب ملکوں کے اندرونی مسائل پر مداخلت کا الزام لگاتے رہے ہیں کہ تہران کے مقابلے میں ریاض کی پالیسی اور دہشت گردی کی حمایت سے علاقے میں صرف صیہونی حکومت اور تسلط پسندانہ نظام کو ہی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ایران کی پالیسی، ہمیشہ علاقے کے تمام ملکوں خاص طور سے پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعاون اور یکسوئی پر استوار رہی ہے تاکہ علاقے میں امن و استحکام کا مشاہدہ کیا جائے۔ ایران نے عراق و شام کی درخواست پر ان ملکوں میں اپنے فوجی مشیر روانہ کئے ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف صلاح و مشورے دینے میں سرگرم ہیں۔ ایران، عالمی سطح پر اور خاص طور سے عالم اسلام کا ایک ذمہ دار ملک ہے جو دہشت گردی کے مقابلے میں دیگر ملکوں کی مدد اور ان کے ساتھ تعاون کو ضروری سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران، خود ایک ایسا ملک ہے جو خود مغربی ایشیاء کے مختلف علاقوں میں سعودی ڈالروں سے پنپنے والی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھا ہے۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں سعودی دولت سے چلنے والے مدارس، وہابی افکار کی ترویج اور دہشت گردوں کی تربیت نیز ان کی برآمدات کے مراکز میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ مختلف دہشت گرد گروہوں منجملہ القاعدہ، طالبان، داعش، جبہۃ النصرہ اور دسیوں دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیڈروں اور سربراہوں نے سعودی وہابی مدارس میں ہی تربیت حاصل کی ہے۔ یہ دہشت گرد گروہ اپنے زیر قبضہ علاقوں میں عام شہریوں کا قتل عام اور وحشیانہ ترین جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ دین اسلام کے حقیقی چہرے کو بگاڑ کر پیش کرنا سعودی عرب کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کی ایک اسٹریٹیجی رہی ہے اور ریاض کے اس طرح کے اقدامات سے مختلف فرقوں اور قبائل کے درمیان فتنہ و فساد برپا ہوا ہے۔ عراق میں سعودی عرب کا تباہ کن کردار، اس ملک میں فتنہ انگیزی کا ایک نمونہ ہے۔ عراق میں مختلف سیاسی گروہوں کو ایک دوسرے کے مد مقابل لا کھڑا کرنا اس ملک میں ریاض کی ایک تفرقہ انگیز پالیسی رہی ہے جو اچھی ہمسائیگی کے بالکل منافی ہے۔ مغربی ایشیاء کے علاقے میں سعودی عرب کا رویہ، قوموں کے مفادات کی حمایت اور دہشت گردی کے خلاف اس کی اعلان کردہ پالیسیوں کے سراسر منافی ہے۔ اس لئے کہ دہشت گردوں اور صیہونی حکومت کے ساتھ ریاض کا تعاون، علاقے میں سعودی عرب کی فتنہ انگیزی کا مکمل مصداق ہے۔ تشدد و نسل پرستی، دہشت گردوں اور اسرائیل کی مشترکہ منفی صفات رہی ہیں اور سعودی عرب کا ان کے ساتھ تعاون، عالم اسلام پر کھلم کھلا ظلم ہے جس سے علاقائی امن و استحکام کو کوئی مدد نہیں ملے گی۔