بنگلہ دیش میں عوام کی بڑی تعداد ووٹ ڈالنے پولنگ اسٹیشن پہنچ گئی
بنگلہ دیش انتخابات: تقریباً 127 ملین اہل ووٹر آج جمعرات 12 فروری کو ووٹنگ میں شریک
سحرنیوز/عالم اسلام: بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات کو گزشتہ سال سیاسی تبدیلیوں کے بعد ملک کو جمہوری راستے پر واپس لانے کے لیے ایک اہم امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ انتخابات اگست 2024 میں ہونے والے طلبہ احتجاج کے بعد منعقد ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی طویل عرصے سے رہنما شیخ حسینہ نے اقتدار چھوڑ دیا۔ انتخابات میں مرکزی مقابلہ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (BNP) اور ایک 11 جماعتی اتحاد کے درمیان ہے، جس کی قیادت جماعت اسلامی کر رہی ہے۔ اس اتحاد میں نیا قائم شدہ شہری نیشنل پارٹی (NCP) بھی شامل ہے، جسے نوجوان فعالین نے تشکیل دیا، جنہوں نے حسینہ کی برطرفی میں اہم کردار ادا کیا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok, whatsappchannel
رپورٹس کے مطابق، عوام کے لیے سب سے اہم مسائل بدعنوانی، مہنگائی، روزگار، اور اقتصادی ترقی ہیں، جو ووٹ کے نتائج پر اثرانداز ہونے والے بنیادی عوامل ہیں۔
ساتھ ہی، انتخابات کے دوران بنگلہ دیش میں "قومی منشور 2025" کے حوالے سے ایک ریفرنڈم بھی منعقد ہو رہا ہے؛ یہ دستاویز عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کی قیادت میں تیار کی گئی ہے اور مستقبل میں حکمرانی کے ڈھانچے اور بنیادوں کا تعین کرے گی۔