مذاکرات صرف ایٹمی پروگرام تک محدود: سیکریٹری سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل
اسلامی جمہوریہ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں اور تاحال امریکہ کی طرف سے کوئی واضح تجویز موصول نہیں ہوئي۔
سحرنیوز/ایران: اسلامی جمہوریہ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے الجزیرہ ٹیلی ویژن کو انٹرویو کے دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو ابھی تک امریکہ کی طرف سے کوئی واضح تجویز موصول نہیں ہوئی ہے اور عمان کے شہر مسقط میں محض پیغامات کا تبادلہ کیا گيا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات اب بھی جاری ہیں اور خطے کے ممالک مذاکرات کی کامیابی کے لیے کوشاں ہیں۔ مذاکرات کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف مثبت ہے۔
لاریجانی نے کہا کہ امریکہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اسے ایران کے خلاف فوجی آپشن سے مختلف رویہ اختیار کرنا چاہیے اور مذاکراتی عمل میں واشنگٹن کی شمولیت کو "دانشمندی" کی طرف بڑھنے کی علامت سمجھنا چاہیے۔
سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری نے واضح کیا کہ ایٹمی پروگرام کے علاوہ کسی بھی معاملے پر مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ "جوہری ہتھیار نہ ہونے کے حوالے سے ہمارے امریکہ کے درمیان اتفاق رائے موجود ہے۔"
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok, whatsappchannel
ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری نے "زیرو انرچمنٹ" کی کسی بھی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو توانائی اور ادویات کی پیداوار کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی ضرورت ہے۔
لاریجانی نے صیہونی حکومت پر مذاکراتی عمل میں خلل ڈالنے کی کوشش کرنے کا الزام بھی لگاتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جنگ بھڑکانے کے بہانے تلاش کر رہا ہے اور نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو نشانہ بنا رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ "اگر امریکہ نے ہم پر حملہ کیا تو ہم خطے میں اس کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے۔"
سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری نے ثالثی کے عمل میں قطر کے کردار کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ "اسلامی جمہوریہ ایران نے کسی سے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل نہیں کی، بلکہ اسے ملکی صلاحیتوں پر بھروسہ کرکے حاصل کیا ہے۔"