Aug ۰۲, ۲۰۱۶ ۱۸:۴۲ Asia/Tehran
  • اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے مستقل طور پر نکلنے کے لیے سعودی عرب ہاتھ پاؤں مار رہا ہے

سعودی عرب نے کہ جس کا نام جنگ کے زمانے میں بچوں کے حقوق پامال کرنے والوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے عارضی طور پر خارج ہوا ہے، یمنی بچوں کے قتل عام کا جائزہ لینے کے لیے ٹھوس ثبوت اس بین الاقوامی ادارے کو پیش نہیں کیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سفارت کاروں نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب نے ابھی تک بچوں کے حقوق پامال کرنے والوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے ان کا نام مستقل طور پر نکالنے کے لیے ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون منگل کے روز یمن کی جنگ سمیت جنگ کے زمانے میں بچوں کے حقوق کی پامالی اور اس سلسلے میں سعودی عرب کے کردار کے بارے میں ایک رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش کر رہے ہیں۔

سعودی عرب ایک ایسے وقت میں اقوام متحدہ کو ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے کہ جب اس بین الاقوامی ادارے نے دو ماہ قبل سعودی عرب کی سرکردگی میں یمن پر حملہ کرنے والے اتحاد کا نام یمنی بچوں کے قتل عام کی بنا پر بچوں کے حقوق پامال کرنے والوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

اس بلیک لسٹ میں سعودی عرب کا نام، جنگ یمن کے دوران بچوں کی صورت حال کے بارے میں بان کی مون کی سالانہ رپورٹ کے بعد شامل کیا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی سرکردگی میں یہ اتحاد یمن میں ساٹھ فیصد بچوں کے جاں بحق یا زخمی ہونے کا ذمہ دار ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی اتحاد کے حملوں میں صرف گزشتہ ایک سال کے دوران (بان کی مون کی رپورٹ کی اشاعت کے وقت) پانچ سو دس یمنی بچے جاں بحق اور چھے سو سڑسٹھ زخمی ہوئے۔

یمنی بچوں کے قتل عام کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ سعودی عرب سے برداشت نہ ہوئی اور اس نے بان کی مون پر دباؤ ڈالا۔ بان کی مون امریکہ سمیت دیگر ملکوں کے دباؤ پر آخرکار سعودی عرب کا نام عارضی طور پر اس بلیک لسٹ سے نکالنے پر مجبور ہو گئے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے گزشتہ چھے جون کو سعودی اتحاد کا نام عارضی طور پر بچوں کے حقوق پامال کرنے والوں کی فہرست سے عارضی طور پر نکال دیا تاکہ اقوام متحدہ اور سعودی عرب مل کر اس بارے میں مشترکہ تحقیق کریں۔

سعودی عرب کی جانب سے اقوام متحدہ کو مالی امداد روک دینے کی دھمکی کی وجہ سے بان کی مون نے حکومتوں کے مفادات کو قوموں خاص طور پر یمنی بچوں کے مفادات پر ترجیح دی۔ ایسا کرنے پر بان کی مون پر بہت زیادہ تنقید کی گئی جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس اقدام پر پشیمانی اور شرم کا اظہار کیا۔

یمن میں بچوں کے حقوق کے کیس کا جائزہ لینے کے لیے مشترکہ کوششیں شروع ہونے کے تقریبا دو ماہ بعد آج ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب بدستور اقوام متحدہ سے کھیل رہا ہے اور وہ کسی طرح اس مسئلے کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

سعودی عرب کوشش کر رہا ہے کہ کسی بھی عنوان کے تحت اس کا نام اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں نہ آئے اور وہ عام لوگوں میں بچوں کے حقوق پامال کرنے والے ملک کے طور پر نہ جانا جائے۔

چھبیس مارج دو ہزار پندرہ سے یمن پر شروع ہونے والے سعودی حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں اور عورتوں سمیت یمن کے عوام، سعودی اتحاد کے حملوں کی وجہ سے مارے جا رہے ہیں۔ یمن کے رہائشی علاقوں پر اس اتحاد کے حملے کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں اور سعودی عرب بیدار ضمیر لوگوں کی عدالت میں ایک ملزم اور مجرم ہے۔

یمن، بحرین، شام اور عراق سمیت دیگر ملکوں میں اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے سعودی عرب کی کوشش شاید اس مسئلے کو ختم کرنے کا باعث بن جائے لیکن دنیا کی رائے عامہ کے ذہنوں میں سعودی عرب ایک مجرم کی حیثیت رکھتا ہے اور اقوام متحدہ کو خریدنے سے بھی سعودی عرب کے ماتھے سے کلنک کا یہ ٹیکہ صاف نہیں ہو گا۔

بچوں کے قتل عام سمیت یمن میں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی مغربی اسلحے سے کی گئی ہے اور اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے دفاع کا دعوی کرنے والے مغربی ممالک بھی عالمی رائے عامہ کی نظر میں یمن میں سعودی اتحاد کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں اور انھیں اس سلسلے میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔