Aug ۰۳, ۲۰۱۶ ۱۴:۲۸ Asia/Tehran
  • اقوام متحدہ کی آڑ میں ایران کے خلاف سعودی عرب کے الزامات

اقوام متحدہ کہ جسے مظلوم اقوام کے حقوق کی حمایت کرنی چاہیے، اس سے ایسے عناصر بدستور غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں کہ جو پیسے اور سیاسی لابیوں سے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں بچوں کی قاتل آل سعود حکومت کے نمائندے عبداللہ المعلمی نے ایران اور حزب اللہ پر شام میں بچوں کے حقوق پامال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ یہ الزام ایک تلخ طنز کی حکایت کرتا ہے کہ جو بچوں کی قاتل حکومت کی جانب سے رائے عامہ کو فریب دینے کے لیے ہے۔ اقوام متحدہ نے تقریبا ایک ماہ قبل اپنی ایک رپورٹ میں سعودی حکومت کو یمنی بچوں کی قاتل قرار دیا تھا لیکن سعودی حکام کے دباؤ پر اسے سعودی عرب کا نام بچوں کے قاتلوں کی بلیک لسٹ سے نکالنے پر مجبور ہونا پڑا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے اس اقدام نے سعودیوں کو اتنا جری کر دیا ہے کہ اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے نمائندے ایک مضحکہ خیز موقف اپناتے ہوئے کہ جو ایک سیاسی طنز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے، خود کو الشباب تحریک، بوکوحرام اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کے اقدامات کا مخالف ظاہر کر کے ان کے جرائم کی مذمت کر رہے ہیں۔ جبکہ ان انتہا پسند گروہوں کو وہابی اور تکفیری سوچ نے پروان چڑھایا ہے اور انھیں سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔

درحقیقت سعودی عرب یمن، شام اور عراق میں بے گناہ انسانوں کے وحشیانہ قتل عام اور ان کے آوارہ وطن ہونے کا ذمہ دار ہے کہ جن پر کھلم کھلا جارحیت کی گئی ہے اور اس کا سب سے زیادہ شکار بچے ہوئے ہیں لیکن بچوں کی قاتل حکومتیں بڑی آسانی سے اپنے جرائم کا جواز پیش کرتی ہیں۔

داعش، سعودی عرب اور اسرائیلی آپس میں بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں کہ جن میں سے اہم اور واضح ترین، انتہا پسندی اور دہشت گردانہ اور جارحانہ اقدامات ہیں۔

اسرائیل نے تقریبا دس برسوں سے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہ فلسطینی بچوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ سعودی عرب بھی یمن کا محاصرہ اور اس کی بندرگاہوں اور رابطہ راستوں کو تباہ کر کے یمنی عوام کو جھکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ داعش نے بھی شام اور عراق کے علاقوں میں یہی طریقے استعمال کیے ہیں۔

اسرائیل فلسطینی بچوں پر مسلسل تشدد کر رہا ہے اور وہ فلسطینی بچوں کو سڑکوں اور چوکوں میں گولیاں مار رہا ہے۔ اسرائیل نے سینکڑوں فلسطینی بچوں کو گرفتار کر رکھا ہے اور ان پر شدید تشدد کرتا ہے۔ سعودی عرب نے یمن اور حتی بحرین میں بھی ایسے ہی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

ان سیاہ کاریوں کے باوجود سعودی عرب اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ بچوں کے قتل عام، ان کے اغوا اور ان پر تشدد نیز ان سے غلط فائدہ اٹھانے کو روکے۔ لیکن اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اپنے تازہ ترین بیان میں بدستور سعودی عرب کے کھلم کھلا جرائم کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی اور صرف یمن میں بچوں کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرنے پر اکتفا کیا۔

بان کی مون نے منگل کے روز یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سعودی اتحاد کا نام بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کی فہرست سے عارضی طور پر نکالے جانے کے متنازعہ فیصلے کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش کی گئی رپورٹ میں کہا کہ یمنی بچوں کی مدد و حمایت کے سلسلے میں بدستور سنگین تشویش پائی جاتی ہے۔

بان کی مون نے البتہ سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ یمنی بچوں کے قتل عام کے بارے میں سنگین تشویش کو دور کرنے کے لیے زیادہ اقدامات انجام دے۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ سعودی عرب کی سرکردگی میں عرب اتحاد کے ساتھ اس مسئلے کا جائزہ لینے کا کام جاری رکھیں گے۔

ان مواقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب تک اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل پر سیاسی دباؤ رہے گا یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ اقوام متحدہ مظلوم قوموں کے حقوق کی حمایت کرے گی۔