Aug ۰۴, ۲۰۱۶ ۱۵:۴۷ Asia/Tehran
  • سعودی  عرب سانحہ منا پرجوابدہ ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا ہےکہ ایرانی وزارت خارجہ سانحہ منا کا جائزہ لے رہی ہے اور یہ امر اس کے ایجنڈے پر ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت کو سانحہ منا کے بارے میں بھرپور طرح سے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ بہرام قاسمی نے بدھ کو کہا کہ سانحہ منا میں شہید ہونے والے ایک سوبیس افراد کے اھل خانہ نے وزارت خارجہ کو خط بھیجا ہے اور وزارت خارجہ سیاسی، قانونی اور عالمی لحاظ سے اس سانحے کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ سانحہ منا میں شہید ہونے والوں کے مادی اور معنوی حقوق کی بازیابی کے لئے بھرپور کوشش کررہی ہے۔

واضح رہے گذشتہ برس حج میں عید قربان کے موقع پر منا میں مناسک حج انجام دیتے ہوئے ہزاروں زائرین خانہ خدا شہید ہوگئے تھے، اس سانحے کا سبب صرف اور صرف آل سعود کی نااھلی اور غلط تدبیریں ہیں۔ سانحہ منا کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے سعودی عرب کی حکومت کو اس سانحے کا ذمہ دار قرار دیا اور مختلف سیاسی اور قانونی روشوں سے غم زدہ گھرانوں کے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ حکمت، عزت اور مصلحت کے تین بنیادی اصولوں کو اپنا کر سانحہ منا کے کیس کی پیروی کررہی ہے۔ ایران نے اس مسئلے کو اکثر علاقائی اور عالمی اداروں میں  اٹھایا ہے اور اس سانحہ کے تعلق سے ایران مسلسل آواز اٹھا رہا ہے۔

یہ سعودی عرب کی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سانحہ منی کے بارے میں جواب دے کیونکہ اسلامی امۃ اور اسلامی حکومتیں یہ مانتی ہیں کہ سعودی عرب کی حکومت حج کے انتظامات کرنے کی ذمہ دار ہے ۔ سعودی عرب اورعلاقائی اسلامی اداروں کے کندھوں پر مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام نیزفوری طورپر سانحہ منا کا جائزہ لینے کےلئے سنگین ذمہ داری ہے۔اسلامی تعاون تنظیم کا یہ بنیادی فریضہ ہے کہ وہ اسلامی ملکوں کی نمائندہ تنظیم ہونے کے ناطے سانحہ منا کا جائزہ لے اور اس سانحے میں شہید ہونے والوں منجملہ ایرانی شہدا کے اھل خانہ کے مطالبات کو پورا کرے۔

سانحہ منا کے تعلق سے سعودی عرب کی حکومت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اور اب حج کے تعلق سے اس کی من مانی اور خلاف ورزی صرف اسلامی جمہوریہ ایران تک ہی محدود نہیں ہے۔ ایران کے حاجیوں کے علاوہ شام کی قوم بھی کئی برسوں سے حج ادا کرنے سے محروم ہے اور اب یمنی عوام بھی حج کا فریضہ انجام دینے میں آل سعود کی خلاف ورزیوں کاشکار ہوچکے ہیں۔

فریضہ حج ادا کرنے کی راہ میں نام نہاد خادم الحرمین شریفین کا رکاوٹیں ڈالنا مسلمانوں کے حق میں آل سعود کی خیانت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آل سعود نے اپنی اس خیانت سے مسلمانوں کو دین اسلام کی ایک جامع، نورانی اور سبق آموز عبادت سے محروم کردیا ہے۔ جس چیز سے فریضہ حج کی اہمیت دوچندان ہوجاتی ہے یہ ہے کہ حج عبادتی پہلو رکھنے کے ساتھ ساتھ سماجی، اقتصادی اور سیاسی پہلو بھی رکھتا ہے اور اسلام کے اہم ترین شعائر میں شمار ہوتا ہے۔

حج کے عظیم اجتماع میں مسلمانوں کی موجودگی سے ان کی توانائیوں اور سیاسی بالغ نظری کی نشاندھی ہوتی ہے جو متحد ہوکر عالم اسلام کے خلاف سازشوں کا مقابلہ کرکے ان کو ناکام بناسکتے ہیں۔ایسے عالم میں جبکہ امت اسلامی شدید سازشوں منجملہ داعشی دہشتگردی کی سازش کا شکار ہے اس سال  حج کے اجتماع میں شعائر اسلام اور اتحاد کی اہمیت کہیں زیادہ ہوجاتی ہے اور اسلامی حکومتوں کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔ بعض ملکوں منجملہ ایران کے عازمین حج کے ساتھ سعودی عرب کا غلط رویہ اور اس سال کے حج  کو بہتر سے بہتر طریقے سے منعقد کرانے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا دشمن کے ہاتھوں میں کھلونہ بننے کے مترادف ہے۔مختلف میدانوں بالخصوص حج کے تعلق سے ایران کے خلاف سعودی عرب کے مخاصمانہ اقدامات سے سعودی عرب کا محض نقصان ہی ہوگا کیونکہ اس کا یہ کام دشمنان اسلام کی خدمت گذاری ہے جو ہر موقع سے امت اسلامی میں اختلافات ڈالنے کے لئے فائدہ اٹھاتے ہیں۔