کوئٹہ دہشت گردانہ حملے میں ہندوستان ملوث ہے: ثناء اللہ زہری
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیراعلی سردار ثناء اللہ زہری نے الزام لگایا ہے کہ کوئٹہ کے دہشت گردانہ واقعہ میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ ہے۔ اس سے پہلے بھی ہندوستان پر کئی بار صوبہ بلوچستان میں علیحدگی پسند اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت کا الزام لگایا گیا ہے۔
بلوچستان کے وزیراعلی کی جانب سے اس قسم کے الزام کے باووجود ہندوستانی حکومت نے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی مولانا محمد خان شیرانی نے کوئٹہ دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے۔
انھوں نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے حکومت پاکستان پر طالبان کے حملوں کا مقابلہ کرنے میں ناتوانی اور کمزوری کا الزام لگایا اور کہا کہ حقیقت لوگوں کو بتائیے اور اس سے فرار مت کیجیے۔ انھوں نے کہا کہ اچھے اور برے طالبان کے کیا معنی ہیں یہ مسلح تنظیمیں کرائے کے قاتل ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں سول سوسائٹی کے بعض نمائندوں نے پاکستان کے خفیہ اداروں پر دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے طالبان کی اچھے اور برے طالبان میں تقسیم پر ملک کے اندر بھی تنقید ہو رہی ہے اور اس پر افغان حکومت نے بھی سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
کچھ عرصہ قبل افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے کہا تھا کہ طالبان کی اچھے اور برے میں تقسیم افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کی جانے والی کوششوں کی ناکامی کا سبب بنی ہے۔ افغان صدر نے حتی کوئٹہ دہشت گردانہ حملے کی مذمت میں اپنے پیغام میں کہا کہ میں دوسروں سے کہتا ہوں کہ وہ کسی تفریق کے بغیر دہپشت گردوں کے خلاف اقدام کریں کیونکہ دہشت گردی کا کوئی دین، قانون، نسل، اور قومیت نہیں ہوتی اور دہشت گرد ان چیزوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔
پاکستان کے شہر کوئٹہ کے سول اسپتال میں کل ہونے والے خودکش حملے میں ستر سے زائد افراد جاں بحق اور دسیوں زخمی ہو گئے تھے جن میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔ مرنے والوں میں وکلا کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے جو ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے وکیل رہنما بلال انور کاسی کی میت وصول کرنے وہاں پہنچی تھی کہ خودکش حملہ آور نے دھماکہ کر دیا۔ پاکستان کے صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف سمیت اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے اس دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
اس دہشت گردانہ حملے کے خلاف آج کوئٹہ میں عام ہڑتال تھی اوراس واقعہ کے سوگ میں تمام تعلیمی ادارے، دکانیں اور بازار بند رہے۔ کوئٹہ میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اور وکلا بھی عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔