ہند - امریکہ تجارتی معاہدہ کپاس کسانوں اور ٹیکسٹائل صنعت کے لیے تباہ کن ہے : راہل گاندھی
کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کر کے مودی حکومت نے کپاس پیدا کرنے والے کسانوں اور کپڑا برآمد کرنے والوں کو گہرا جھٹکا دیا ہے۔
سحرنیوز/ہندوستان: موصولہ رپورٹ کے مطابق مسٹر راہل گاندھی نے ہفتے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ "اٹھارہ فیصد ٹیرف بمقابلہ زیرو فیصد" کے بارے میں آئیے میں سمجھاتا ہوں کہ جھوٹ بولنے میں ماہر وزیراعظم اور ان کی کابینہ کیسے اس پر ابہام پھیلا رہے ہیں اور کس طرح وہ ہند - امریکہ تجارتی معاہدے سے ملک کے کپاس کے کسانوں اور ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ " امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی ملبوسات پر اٹھارہ فیصد ڈیوٹی لگتی ہے جبکہ بنگلہ دیش کو امریکہ میں گارمنٹس کی برآمد پر صفر فیصد ٹیرف کا فائدہ دیا جا رہا ہے ، شرط بس اتنی ہے کہ وہ امریکی کپاس درآمد کریں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو ہند-امریکہ تجارتی تعلقات، کپاس کی درآمد اور اس کے ہندوستانی کسانوں و ٹیکسٹائل انڈسٹری پر اثرات کے حوالے سے کھلے عوامی مباحثے کا چیلنج دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں، مسٹر دوبے نے مسٹر گاندھی کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ ہند-امریکہ تجارت اور ٹیرف ڈھانچے کے حوالے سے "بڑا جھوٹ" پھیلا رہے ہیں۔