Oct ۰۷, ۲۰۱۶ ۱۸:۳۶ Asia/Tehran
  • عراق کی طرف سے سلامتی کونسل میں ترکی کے خلاف شکایت

عراق کی طرف سے مسلسل کوششوں کے باوجود ترک حکام عراق کے خلاف دشمنانہ موقف اپنائے ہوئے ہیں

ترکی میں عراق کے سفیر ہاشم علوی نے الاتجاہ ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے عراق کی طرف سے سلامتی کونسل میں ترکی کے خلاف شکایت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی عراق میں ترک فوجیوں کی موجودگی کے حوالے سے عراقی وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے بھر پور کوشش کی ہے کہ یہ مسئلہ سیاسی اور سفارتی طریقے سے حل ہو جائے اور اس حوالے سے عراق کی جانب سے متعدد کوششیں کی گئی ہیں۔ ترکی میں عراق کے سفیر نے مذید کہا عراق کی طرف سے مسلسل کوششوں کے باوجود ترک حکام عراق کے خلاف دشمنانہ موقف اپنائے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ عراق نے اقوام متحدہ میں اپنے سفیر کے زریعے سلامتی کونسل میں اپنی شکایت پیش کرنے کی بات کی ہے تاکہ اس موضوع پر سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوسکے۔ترکی نے 2015 کے آخر میں کرد پیشمرگہ فورس کی تربیت اور دہشتگردی سے مقابلے کےنام پر سینکڑوں ترک فوجیوں کو موصل کے قریب فوجی اڈے بعشیقہ پر تعینات کیا ہے ۔عراقی حکام نے اس اقدام پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔گذشتہ چند مہینوں میں ترکی کی اس مہم جوئی نیز عراق کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی پر عراق کا ردعمل اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ترکی کی یہ پالیسی نہ صرف یہ کہ علاقے میں کشیدگی کا باعث بن رہی ہے بلکہ اسکو کسی بھی طرح کی مقبولیت حاصل نہیں ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ترک حکام کی یہ مہم جوئی علاقے میں امن و امان کی قیام اور دہشتگردی کے خلاف مقابلے کی نعروں سے بھی ہم آہنگ نظر نہیں آرہی ہے کیونکہ ترکی کی حالیہ خارجہ پالیسیاں مشرق وسطی اور علاقے میں کشیدگی کا باعث بنی ہیں اور عراقی سرزمیں میں ترک فوجیوں کی موجودگی عراق کے لئے نقصان کا سبب بنی ہے ۔ شام اور عراق میں ترک افواج کی نقل وحرکت وہ بھی متعلقہ حکومتوں کی اجازت کے بغیر جارحیت اور عالمی قوانین نیزہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے روابط اور مسالمت آمیز تعلقات کے سراسر منافی ہےاور داعش کے ساتھ مقابلے کے نام پر شام و عراق کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی اور ان کے اقتدار اعلی کے خلاف اقدامات پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔

بہرحال ترکی کی متضاد، غیر شفاف اور ہر روز تبدیل ہونے والی خارجہ پالیسیاں نیز داعش سمیت دیگر دہشتگردوں سے ان کے خفیہ اور آشکار روابط جس کی خبریں ہر روز منظر عام پر آتی رہتی ہیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں ک ترکی دہشتگردی بالخصوص داعش کے خلاف مقابلے میں سچائی اور صداقت سے کام نہیں لے رہا ہے اور اس کے داعش کے خلاف مقابلے کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ عراقی فورسز کی کامیابیوں اور دہشتگردوں کے خلاف ان کی کامیاب کاروائیوں نے دہشتگردوں اور ان کے حامیوں کو سخت بے چین کردیا ہے اور وہ اس وقت دہشتگردوں کو مکمل شکست سے بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ اس تناظر میں عراق کی فوجی کمانڈ کا کہنا ہے کہ موصل کی آزادی کی کاروائیوں میں ترک فوجیوں کی عراقی سرزمین پر موجودگی داعش کے خلاف موصل آپریشن کی پیچیدگیوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر عراق کے بعض حلقوں نے بعشیقہ میں ترک فوجیوں کی موجودگی کے حوالے سے خبردار کیا ہے  اور اس بات پر تاکید کی ہے کہ نینوا صوبے کے مرکزی علاقے موصل کے قریب ترک فوجیوں کی موجودگی بعشیقہ پر ترک فوجیوں کے قبضے کی طرح ہے اور ترک فوجیوں کی یہ موجودگی داعش کے قبضے سے کمتر نہیں ہے۔