Oct ۰۹, ۲۰۱۶ ۱۵:۴۹ Asia/Tehran
  • شام کے مسئلے پر سلامتی کونسل میں جاری تعطل

دنیا میں قیام امن کی ذمہ داری ادا کرنے والے اہم ترین عالمی ادارے کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام اور خاص طور سے شہر حلب میں جاری جنگ بند کرانے کے مسئلے پر تعطل جاری ہے۔

شہر حلب میں فائربندی کے لئے صرف چند گھنٹوں کے اندر سلامتی کونسل کے دو مستقل اراکین کی جانب سے پیش کی جانے والی دو قراردادوں کے مسودے کو مسترد کر دیا گیا۔ پہلے روس نے شہر حلب میں فائربندی سے متعلق فرانس کی جانب سے پیش کئے جانے والے قرارداد کے مسودے کو ویٹو کیا جبکہ روس کے اس فیصلے میں ونیزوئیلا نے اس کا ساتھ دیا تاہم سلامتی کونسل کے دو دیگر رکن ملکوں، چین اور انگولا نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے سے گریز کیا۔ فرانس کے مسودہ قرارداد کو ویٹو کئے جانے کے بعد روس نے بھی حلب میں جنگ بندی کی ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا جس پر سلامتی کونسل کے نو رکن ملکوں منجملہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے مخالفت کا اظہار کیا جبکہ چین، ونیزوئیلا اور مصر نے اپنی حمایت کا اظہار کیا اور انگولا اور یوروگوئے نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس طرح شام کے تباہ شدہ علاقے میں فائربندی کے نفاذ کا ایک اور موقع، ضائع ہو گیا۔ شام میں شہر حلب اور اس کے اطراف کے علاقوں میں فائر بندی کے نفاذ کے لئے مغربی ملکوں کی کوششیں، اس وقت شروع ہوئیں جب شام کی فوج پانچ برسوں کے بعد روسی فضائیہ کی حمایت سے اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل شہر حلب کو داعش اور دیگر تمام دہشت گرد گروہوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی پوزیشن میں آگئی۔ یہ اقدام، جو شام میں مغربی اہداف کے بالکل منافی ہے، جنگی جرائم کے ارتکاب اور عام شہریوں کے قتل عام کی کوشش کئے جانے کے مترادف شمار ہوتا ہے۔ مغربی ممالک، جو گذشتہ پانچ برسوں کے دوران حلب میں دہشت گردوں کے ہولناک جرائم کے مقابلے میں مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے، اچانک باغیوں اور دہشت گردوں کے خلاف ایک ملک کی سرکاری فوج کے حملے کو غیر قانونی اور امن کے منافی اقدام قرار دینے کی کوشش اور شامی فوج کی کارروائی روکے جانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ فرانس کی قرارداد کا مسودہ بھی اس مقصد کا حامل تھا کہ شہر حلب بدستور باغیوں اور دہشت گردوں کے کنٹرول میں رہے۔ جبکہ اگر شام کے دوسرے بڑے شہر کی حیثیت سے حلب پر شامی حکومت کا کنٹرول ہو جاتا ہے تو اس ملک کے دیگر علاقوں کو بھی دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے میں آسانی ہو جائے گی۔ اس رو سے مغربی ممالک، شام میں دہشت گردوں کا قلع قمع کئے جانے اور اس ملک میں یکجہتی پیدا ہونے کی روک تھام کرنے کے لئے ہر طرح کے حربے سے استفادہ کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے امریکیوں نے دیرالزور میں شامی فوج کے ٹھکانے پر حملہ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ جس میں ستّر سے زائد شامی فوجی مارے گئے۔ امریکہ کا یہ اقدام، دہشت گرد گروہ داعش اور اس کے اتحادیوں کے ٹھکانوں کو مستحکم بنانے سے متعلق ایک اعلانیہ قدم اٹھانا شمار ہوتا ہے جس نے اس بات کو بھی ثابت کردیا کہ مغرب کی نظر میں شام میں داعش دہشت گرد گروہ کی کامیابی کا تحفظ، اس ملک کی سرکاری فوج کی برتری سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ مغرب کی اس کوشش کے مقابلے میں شام کی حکومت بھی اپنے اتحادیوں منجملہ شامی عوام اور علاقائی و عالمی سطح پر کردار ادا کرنے والے ملکوں کی مدد و حمایت سے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس درمیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق رکھنے والے ایک رکن ملک کی حیثیت سے روس، اپنی فوجی توانائی کی بنیاد پر حکومت شام کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔ حالیہ ایک برس کے دوران حکومت شام نے روس کی فضائیہ اور حزب اللہ لبنان کی مدد و حمایت نیز صلاح و مشورے کی سطح پر اسلامی جمہوریہ ایران کے تعاون سے دفاع کے مرحلے  سے آگے بڑھ کر کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کر کے اہم علاقوں کو آزاد کرانے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کامیابیوں کا تحفظ کرنے کے لئے روس بھی میدان عمل میں اتر آیا ہے اور اس نے شام کی تقسیم کو تسلیم کئے جانے کے مقصد سے فرانس کی مجوزہ قراداد کے مسودے کی منظوری کو روک دیا۔ البتہ سلامتی کونسل میں پیدا ہونے والے تعطل سے حلب اور شام کے دیگر علاقوں میں فائر بندی کا موقع حاصل کئے جانے کو کچھ مشکل ضرور بنا دیا ہے تاہم شامی فوج کو بھی اس بات کا موقع فراہم ہو رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف اپنی پیش قدمی بدستور جاری رکھے۔ یہ مسئلہ شام میں خانہ جنگی کی آگ کو بجھانے کے لئے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے مگر یہ امریکہ کی زیرقیادت مغربی ممالک، احتیاطی تدابیر کو نظرانداز کرتے ہوئے باضابطہ طور پر شامی فوج سے الجھنے لگیں، اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جو نہ صرف روس کا فوجی مقابلہ کئے جانے پر منتج ہو گا بلکہ پورے مشرق وسطی کو بھی ایک بھیانک جنگ کی آگ میں جھونک دے گا۔