Oct ۱۷, ۲۰۱۶ ۱۷:۰۱ Asia/Tehran
  • انصار اللہ یمن کی جنگ بندی کے قیام سے توقعات

تحریک انصار اللہ یمن کے ترجمان محمد عبدالسلام نے ہمہ گیر جنگ بندی اور ملت یمن کے محاصرے کے خاتمے کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں مذاکرات کے آغاز کی بنیادی شرط قرار دیا ہے۔

تحریک انصار اللہ کے ترجمان اور مذاکرات میں یمن کے قومی وفد کے سربراہ محمد عبدالسلام نے یمن میں جنگ بندی کے لیے لندن اور واشنگٹن کی اپیل کے جواب میں اس بات پر زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کی زیرنگرانی مذاکراتی عمل کے آغاز کے لیے بنیادی شرط یہ ہے جنگ بندی ہمہ گیر ہو اور ملت یمن کا محاصرہ ختم کیا جائے۔

محمد عبدالسلام نے اپنے ٹوئٹر پیج پر لکھا ہے کہ جنگ بندی میں زمینی، فضائی اور بحری تمام حملے بند کیے جائیں، محاصرہ ختم کیا جائے اور یمن پر عائد پروازوں کی پابندی ختم کی جائے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ جارحیت کے سائے میں صلاح و مشورہ کرنا صرف وقت تلف کرنا ہے۔ انھوں نے یہ بیان لندن اجلاس میں امریکہ اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے فوری جنگ بندی کی درخواست کے جواب میں دیا ہے۔

کسی بھی قسم کی جنگ بندی مکمل اور ہمہ گیر ہونی چاہیے اور اقوام متحدہ نے بھی اس چیز کا اعتراف کرتے ہوئے اسے حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے براہ راست مذاکرات شروع کرنے کا پیش خیمہ قرار دیا ہے، لیکن ابھی تک یمن کے بارے میں مجوزہ جنگ بندیاں اور زیادہ تر منصوبے جامع اور ہمہ گیر نہیں تھے۔

بلاشبہ یمن پر سعودی عرب کے حملوں کا خاتمہ اور یمن کا محاصرہ ختم کیا جانا، یمن کے عوام کے اصلی مطالبات ہیں کہ جن پر مکمل طور پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ لیکن یمن پر سعودی عرب کے حملے جاری رہنے کے سائے میں بحران یمن کے حل کے لیے ہونے والے مذاکرات سے کوئی مثبت توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ یمن پر سعودی عرب کے حملوں اور یمن کے محاصرے کا جاری رہنا مفاہمت اور تعاون سے میل نہیں کھاتا ہے۔ سعودی عرب کی سرکردگی میں یمن کے خلاف اتحاد نے کبھی بھی اقوام متحدہ کی زیرنگرانی ہونے والے امن مذاکرات میں اعلان کی گئی جنگ بندی کی پابندی نہیں کی ہے اور وہ بدستور یمن پر اپنی جارحیت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان حملوں نے یمن کے امن مذاکرات پر منفی اثر ڈالا ہے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ جنگ اور محاصرے کے حالات میں کسی بھی قسم کی گفتگو سعودی عرب اور اس کے پٹھوؤں کی جارحیت اور جرائم پر پردہ ڈالنا ہو گا۔ یمنی حکام نے بارہا کہا ہے کہ یمن میں جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی، بحران یمن کی سیاسی راہ حل کے حصول کے لیے مذاکرات میں تعطل اور یمنی عوام کی دشوار زندگی، بھوک و افلاس اور مصائب کے ذمہ دار اقوام متحدہ، سعودی عرب، امریکہ اور یمن کے خلاف اتحاد میں شامل ممالک ہیں۔ جو چیز یمنی گروہوں کے مذاکرات کی ضمانت دیتی ہے وہ اپنا تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کے یمنی عوام کے مطالبے کا احترام اور سعودی عرب کے حملوں کا خاتمہ ہے۔

ان حالات میں اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ دنیا میں قیام امن کے ایک ذمہ دار ادارے کی حیثیت سے یمن کی جنگ کو ختم کرائے تاکہ یمنی عورتوں اور بچوں سمیت اس ملک کے عوام کا مزید قتل عام نہ ہو اور سیاسی طریقے سے بحران یمن کو حل کرنے کا راستہ ہموار ہو۔ پائیدار جنگ بندی کے قیام اور انسان دوستانہ امداد کی ترسیل سے یمنی گروہوں کے درمیان مذاکراتی عمل میں مدد ملے گی۔

لیکن مذاکرات میں سعودی عرب کی جانب سے ہٹ دھرمی کے مظاہرے اور مذاکراتی عمل میں روڑے اٹکانے سے ان کے نتیجہ خیز ہونے کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ کویت اور سوئٹزر لینڈ سمیت کئی مقامات پر بحران یمن کے حل کے لیے مذاکرات منعقد کیے جا چکے ہیں لیکن سعودی عرب کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ اب تک کامیاب نہیں رہے ہیں اور سعودی عرب اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر یمن میں اپنے جرائم جاری رکھے ہوئے ہے۔

یمن کے امن مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششیں ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں کہ جب ماضی میں ان مذاکرات کا کوئی قابل قبول نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے اور اس سلسلے میں اب تک ہونے والے مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔

آل سعود کی جانب سے یمن میں جنگ بندی کی تجویز کی مخالفت اور اس کی راہ میں روڑے اٹکانے سے عالمی رائے کی توجہ ایک بار پھر اس بات کی جانب مبذول ہو گئی ہے کہ سعودی عرب جنگ بندی کے راستے میں اصلی رکاوٹ ہے اور وہ اپنی مداخلتوں اور جارحانہ اقدامات کے ذریعے یمن کا بحران جاری رہنے کا ذمہ دار ہے۔