Nov ۱۲, ۲۰۱۶ ۱۷:۵۷ Asia/Tehran
  • ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں بدامنی بدستور جاری

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک سو پچیس دنوں سے حالات کشیدہ ہیں

 کشمیر میں جاری بدامنی جو آٹھ جولائی سے شروع ہوئی تھی اور اب تک جاری ہے اس میں ایک سو تیرہ افراد جاں بحق اور تقریبا سترہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ حزب المجاہدین کے کمانڈر برھان مظفر وانی کے قتل کے بعد حالات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ ادھر حریت لیڈروں میرواعظ عمر فاروق اور سید علی شاہ گیلانی اور محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ وہ سترہ نومبر تک اپنی ہڑتال جاری رکھیں گے۔ واضح ہے کہ اس طرح کی صورتحال کا جاری رہنا کشمیر میں امن و امان لوٹانے میں کسی طرح معاون ثابت نہیں ہوگا اوراس سے اہم بات یہ ہے کہ اگر اس مسلمان نشین علاقے میں بدامنی پھیلانے والے عوامل کی شناخت نہیں کی جاتی تو صورتحال اسی طرح مبہم رہے گی۔ اس کے باوجود ہندوستان کو مورد الزام ٹہرایا جارہا ہے کیونکہ ہندوستان کے زیر انتظام خطہ کشمیر کا دو تہائی حصہ ہے اور ہندوستان نے اب تک یہ ثابت کردیا ہے کہ کشمیر پر کنٹرول رکھنے کے لئے ہر طرح کی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ پاکستان بھی گذشتہ زمانے میں کشمیر کے مسلمانوں کے دفاع کے سلسلے میں اپنے موقف سے ہٹنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیاں شملا معاہدہ انیس سو بہتر میں طے ہوا تھا جب آنجہانی اندراگاندھی ہندوستان اور مرحوم ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیر ا‏عظم تھے اس موقع پر ہندوستان اور پاکستان نے صرف ایک مرتبہ یہ ظاہر کیا تھا کہ وہ دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی ختم کرنے اور پائدار امن قائم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ادھرزخم خوردہ سرزمین کشمیر کے عوام ہندوستان اور سامراجی حکومت برطانیہ کی جانب سے کئے گئے وعدوں کے باوجود کہ وہ استصواب رائے کرائیں گے اپنے حق خود ارادیت کا استعمال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ہندوستان سے الحاق یا پاکستان سے الحاق یا دونوں ملکوں سے آزادی اس استصواب رائے کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔اس سلسلے میں کشمیر کے عوام اور ہندوستان و پاکستان کے نمائندوں کے درمیان گفتگو سے مسئلے کا راہ حل نکالنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔ یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ہندوستان کسی بھی صورت میں نہیں چاہتا کہ کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر پیش کیا جائے اور جب ہندوستان نے کشمیر کے سلسلے میں پاکستان سے گفتگو کی تھی تو اس نے حریت کانفرنس کی شمولیت کو ہرگز قبول نہیں کیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس وقت کشمیر کے مسلمان عوام ہندوستان اور پاکستان کے بعض لیڈروں کی تاریخی غلطی کا تاوان دے رہے ہیں۔ بہرحال کشمیری عوام کا صبر و ضبط اس حد تک جاری رہے گا جہاں تک ہندوستان اور پاکستان عمل و تدبیر سے کشمیر کا کوئی راہ حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ  ہندوستان و پاکستان کو کشمیر کے عوام کی آزادی کے  جمہوری حقوق ادا کرنے چاہیں اور تاریخی حقائق کو انکار کرنے کے درپے نہیں رہنا چاہئے-