تہران متعدد یورپی رہنماوں کا میزبان
تہران ان دنوں بہت سے یورپی ملکوں کے حکام کا میزبان ہے ۔ادھر ہنگری کے اسپیکر لازلو کور تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ گفتگو اور پارلیمانی تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہیں تو رشین فیڈریشن کونسل کے سربراہ بھی تہران میں موجود ہیں۔
تہران ان دنوں بہت سے یورپی ملکوں کے حکام کا میزبان ہے ۔ادھر ہنگری کے اسپیکر لازلو کور تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ گفتگو اور پارلیمانی تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہیں تو رشین فیڈریشن کونسل کے سربراہ بھی تہران میں موجود ہیں۔ والنتینا ماتو بینکو اتوار کے دن ایک پارلیمانی وفد کے ہمراہ تہران پہنچے تھے۔ وہ تہران میں دوطرفہ مسائل اور علاقائی امور پر گفتگوکریں گے۔
ایران اور ماسکو کے تعلقات اسٹراٹیجیک تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک نے عملا ثابت کردیا ہے کہ وہ علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کے سلسلے میں جامع اور بااثر موقف کے حامل ہیں اور تعاون کے کسی موقع کو بھی نہیں گنواتے ہیں۔لھذا دونوں ملکوں کے حکام مختلف سطحوں پر ایک دوسرے سے ملاقات اور گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ چند ماہ قبل ایران ، روس اور جمہوریہ آذربائجان کی سربراہی نشست منعقد ہوئی تھی اور اب روسی صدر ولادیمیر پوتین کے ایرانی حکام سے ملاقات کے بعد اب روس کے یہ اعلی عھدیدار ایران آئے ہیں۔ایران اور روس نے علاقائی اور عالمی مسائل کے سلسلے میں مشترکہ مفادات اور نقطہ ہائے نظر کی اساس پر جامع مشترکہ ایکشن پلان کے سلسلے میں قریبی تعاون کیا ہے۔ یہ تعاون بالخصوص شام کے بحران کے تعلق سے اسٹراٹیجیک نوعیت کا حامل ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے رشین فیڈریشن کے سربراہ سے ملاقات میں علاقے کے حالات منجملہ دہشتگردی کے مقابلے پر روس کے اثرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور ماسکو ایک دوسرے کی مدد سے مغربی ایشیا میں امن وسکیورٹی قائم کرسکتے ہیں ۔ایران اور روس کے درمیاں اسٹراٹیجیک تعلقات سے قطع نظر یورپی یونین کے ممالک نے بھی بارہا تاکید کی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مختلف میدانوں میں اپنے تعلقات اور تعاون میں توسیع لانا چاہتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ یورپی ممالک علاقائی مسائل اور عالمی مسائل میں زیادہ فعال کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نےتہران میں ہنگری کے اسپیکر سے ملاقات میں کہا کہ اس زمانے میں صبر و انتظار کی پالیسی سے مسائل حل نہیں ہونگے ۔ اس بیان کا اشارہ ان چیلنجوں کی طرف ہے جو آج کل علاقے میں دیکھے جارہے ہیں۔ اگر برسوں قبل علاقے کے ممالک نے علاقے کے بارے میں متحدہ پالیسیاں اپنا رکھی تھیں اور وہ اپنے مسائل بالخصوص سکیورٹی مسائل کو حل کرنے کے لئے بڑی طاقتوں پر بھروسہ نہ کرتے تو آج علاقے کی صورتحال کچھ اور ہوتی اور علاقے میں دہشتگردی اس قدر نہ پھیل جاتی۔ بلاشک دہشتگردی میں بڑھاوا اور اس سے مقابلہ کرنے میں دشواری اس وجہ سے پیش آرہی ہےکہ بعض ممالک جیسے امریکہ اس لعنت کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور علاقے میں اس کے سہارے اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے حالات میں باہمی تعلقات میں فروغ لانا اور اتحاد کو تقویت پہنچانے سے چیلنجوں کو آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے اور دہشتگردی، انتہا پسندی اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے خطروں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔یہ ایسا موضوع ہے کہ جس پر گذشتہ روز یورپی یونین کے وزار خارجہ نے بھی تاکید کی ہے۔ یورپی یونین میں خارجہ پالیسی شعبے کی سربرارہ فیڈریکا موگرینی نے اس سے پہلے ایرانی حکام سے اپنے مذاکرات میں اسی نکتے کی طرف اشارہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یورپی یونین ایران کے ساتھ مشترکہ مفادات کے حصول کے لئے تعاون میں توسیع لانا چاہتی ہے۔