ڈونالڈ ٹرمپ اور سفارتخانہ منتقل کرنے کی سازش
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i268084-ڈونالڈ_ٹرمپ_اور_سفارتخانہ_منتقل_کرنے_کی_سازش
ڈونالڈ ٹرمپ کا امریکہ میں مسند اقتدار پر براجمان ہونے کا موقع قریب آتا جارہا ہے اس موقع پر امریکہ کے بعض سیاسی حلقے اور صیہونی میڈیا یہ کھ رہا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ اپنے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے امریکہ کا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کردیں گے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jan ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۴:۰۱ Asia/Tehran
  • ڈونالڈ ٹرمپ اور سفارتخانہ منتقل کرنے کی سازش

ڈونالڈ ٹرمپ کا امریکہ میں مسند اقتدار پر براجمان ہونے کا موقع قریب آتا جارہا ہے اس موقع پر امریکہ کے بعض سیاسی حلقے اور صیہونی میڈیا یہ کھ رہا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ اپنے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے امریکہ کا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کردیں گے۔

ڈونالڈ ٹرمپ کا امریکہ میں مسند اقتدار پر براجمان ہونے کا موقع قریب آتا جارہا ہے اس موقع پر امریکہ کے بعض سیاسی حلقے اور صیہونی میڈیا یہ کھ رہا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ اپنے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے امریکہ کا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کردیں گے۔ صیہونی میڈیا منجملہ روزنامہ ھآرتص نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ وائٹ ہاوس میں پہنچتے ہی اپنے اسرائیل میں امریکہ کے سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت  المقدس منتقل کردیں گے۔ٹرمپ کے ایک سینئر مشیر نے بھی کہا ہے کہ ٹرمپ بیس جنوری کوصدارتی عھدہ سنبھالتے ہی فوری طور پر امریکہ کے سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا حکم جاری کردیں گے اور اس میں کسی طرح کا شک نہیں کریں گے۔

ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ فیصلہ کہ وہ امریکہ کے سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کریں گے ایسے عالم میں سامنے آیا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرادادوں منجملہ قرارداد چار سو اٹہتر میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل بیت المقدس میں کسی بھی طرح کے خود سرانہ اقدام نہیں کرسکتا اور عالمی برادری سے یہ اپیل کی گئی  ہے کہ بیت المقدس میں صیہونی حکومت کی پالیسیوں کا ساتھ نہ دیں۔ صیہونی حکومت نے اب تک امریکہ کے منتخب صدر جو ایک ناتجربہ کار سیاست داں ہیں اور انہوں نے اپنے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے جو فضا قائم کردی ہے اس کے سہارے  فلسطین میں بالخصوص بیت المقدس میں اپنی تسلط پسندانہ پالیسیوں کوآ گے بڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔ایسے حالات میں صیہونیوں نےیہ سوچا ہے کہ  اس امر کے پیش نظر کہ انہیں بیت المقدس میں اپنے اقدامات کے لئے جو قیمت ادا کرنی ہوگی تو کیوں نہ امریکی عوام  کو یہ قیمت چکانے پر مجبور کردیا جائے۔واضح رہے بیت المقدس فلسطینیوں اور عالم اسلام کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس مسئلے پر شدید حساسیت پائی جاتی ہے بیت  المقدس میں امریکہ کی جانب سے صیہونی حکومت کی کسی بھی توسیع پسندانہ پالیسی کی ہمراہی کرنا امریکہ کے لئے سیاسی خود کشی کے مترادف ہوگا اور اس سے ٹرمپ کے سامنے ان کی متنازعہ داخلی اور خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے مزید چیلنج کھڑے ہوجائیں گے اور ان پر جاری  تنقیدوں میں اضافہ ہوجائے گا اور راکھ کے نیچے دبی اس آگ کو بھڑکا کر امریکہ کے خلاف غصے اور نفرت کے جذبات برانگیختہ کردے گی جن کے بارے میں کوئی پیشین گوئی نہیں کی جاسکتی۔ ان ہی حقائق کے پیش نظر امریکہ کی حکومتوں نے اب تک کانگریس کی مکرر درخواستوں کےباوجود  اپنے سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس میں منتقل کرنے سے پرہیز کیا ہے لیکن امریکہ کے منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اب اس ریڈلائن کو کراس کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ کانگریس کے اس قانون پر عمل کرنے کے لئے تیار نظر آتے ہیں کہ امریکہ کا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کردیا جائے۔ یاد رہے اکثر حکومتیں جن کے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات ہیں انہوں نے اپنی رائے عامہ کے رد عمل کے خوف سے صیہونی حکومت کی اس درخواست پر عمل کرنے سے گریز کیا ہے۔ اس دائرہ کار میں یورپ نے ہوشیاری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے سفارتخانوں کو بیت المقدس منتقل کرنے کے پروپگینڈوں سے خود کو الگ رکھا ہے چنانچہ یورپی یونین میں خارجہ پالیسی شعبے کی انچارچ فیڈریکا موگرینی نے کہا ہے کہ یورپ یونین اپنے سفارتخانے تل ابیب سے بیت  المقدس منتقل نہیں کرے گی۔یہ بات انہوں نے برسلز میں یورپی یونین کے وزراء خارجہ کے اجلاس کے بعد کہی تھی۔ اس اعلان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر ٹرمپ کے فیصلے کی مخالفت ہورہی ہے یہانتک کہ یورپ کی حکومتیں بھی اسرائیل کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کا ساتھ دینے کےلئے تیار نہیں ہیں۔