عراق میں داعش کی شکست عنقریب ہے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i270585-عراق_میں_داعش_کی_شکست_عنقریب_ہے
عراق میں اقوام متحدہ کے نمائندے "یان کوبیش" نے کہا ہے کہ عراق میں داعش دہشت گرد گروہ کی حتمی شکست نزدیک ہے اور داعش کی پسپائی کے بعد عراق میں بین الاقوامی امداد ضروری ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۰۴, ۲۰۱۷ ۱۲:۴۳ Asia/Tehran
  • عراق میں داعش کی شکست عنقریب ہے

عراق میں اقوام متحدہ کے نمائندے "یان کوبیش" نے کہا ہے کہ عراق میں داعش دہشت گرد گروہ کی حتمی شکست نزدیک ہے اور داعش کی پسپائی کے بعد عراق میں بین الاقوامی امداد ضروری ہے-

داعش دہشت گردوں کے قبضے سے موصل کو آزاد کرانے کی کارروائی سترہ اکتوبر دوہزار سولہ کو شروع ہوئی - ان کارروائیوں کے آغاز کے بعد تین ماہ کا عرصہ گذرنے کے ساتھ ہی فوج نے موصل کے مشرقی علاقے کو مکمل طور پر آزاد کرالیا ہے- عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے  چوبیس جنوری دوہزار سترہ کو اعلان کیا تھا کہ عراقی افواج نے متعدد کارروائیاں انجام دے کر موصل کے مشرقی علاقے کو مکمل طور پر دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرالیا ہے اور اب انہوں نے مغربی علاقوں کو آزاد کرانے کا حکم دیا ہے-

اس درمیان عراقی فوج کے اعلی عہدیداروں نے کہا ہے کہ موصل کے مغربی علاقے کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کے لئے عراقی افواج کی تیاری مکمل ہوگئی ہے - موصل کو آزاد کرانے کی کارروائی کے آغاز حتی اس سے قبل ہی عراق کی عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی کو ، عراق کے حکومت مخالفین کی شدید مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن موصل کی آزادی کی کارروائی میں شرکت کرنے والی فورسیز کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے باعث، حشد الشعبی موصل میں داخل نہیں ہوئی - موصل کو آزاد کرانے کی کارروائی کے دوران بھی عراقی فوج کے خلاف ، عام شہریوں کے حقوق کو نظر اںداز کرنے جیسے الزامات عائد کئے گئے- البتہ " یان کوبیش"  نے موصل کی کارروائی میں عراقی حکام اور فوج کی جانب سے، بنیادی اصولوں کی تشخیص کی تصدیق کی ہے-

ایک اور مسئلہ کہ جو موصل کی آزادی کے تعلق سے پیش کیا گیا اور اس کی یان کوبیش نے تصدیق بھی کی ہے داعش کے خاتمے کے بعد موصل کا مینجمنٹ اور اس کا نظم و نسق چلانا ہے- یہ مسئلہ اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ عراق میں داعش کے خاتمے کے بعد موصل کا نظم و نسق چلانے میں ٹھوس اختلاف پایا جاتا ہے اور یہاں تک کہ عراق کے حکومت مخالفین بھی اس مسئلے کو، بغداد کی مرکزی حکومت کی پوزیشن کمزور کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں - موصل اور صوبہ نینوا عراق کی سرزمین کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کا نظم و نسق بھی عراق کی مرکزی حکومت کے ذمے ہے لیکن اس سلسلے میں عراقی کردستان کے علاقے کے حکام کی جانب سے جو اختلاف رائے پایا جاتا ہے وہ نہ صرف موصل کی آزادی کی کارروائی شروع ہونے کے پہلے اور بعد میں بھی، اس کارروائی کے توقف کا باعث بنے بلکہ ان اختلافات کے موصل کے شہریوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں بھی تشویش پائی جاتی ہے-

اس سلسلے میں عراق میں اقوام متحدہ کے نمائندے یان کوبیش نے موصل کی آزادی کے بعد ، امداد اور حمایت کے فقدان کو ماضی کی غلطیوں کی تکرار کے مترادف قرار دیا اور عراق کی سرحدوں سے باہر اور حتی بین الاقوامی سطح پران غلطیوں کی منفی نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے - " یان کوبیش " کے بیان میں داعش کے خاتمے کے بعد موصل پر توجہ دیئے جانے کے مسئلے کو خاص طور پر بیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ داعش کا صفایا ہوجانے کے بعد عراق کی حمایت ک‏ئے جانے کو ضروری قرار دیا ہے-  عراق کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے  کا یہ اظہار خیال ایک طرف اس ملک میں داعش کی شکست قریب ہونے کے مترادف ہے اور دوسری جانب اس بات کا غماز ہے کہ داعش کے بعد موصل کو عراق کے دیگر علاقوں سے جدا نہ کیا جائے- اگر "یان کوبیش" کے اس نقطہ نگاہ کو موصل کی کاروائی میں ملوث تمام ملکی اور غیر ملکی فریقوں میں عام کردیا جائے تو یہ اقدام داعش کے خاتمے کے بعد عراق میں سیاسی اور اجتماعی اتحاد ، اور امن و استحکام کے قیام کے لئے بہت اہم قدم ہوسکتا ہے-