اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا دورۂ سعودی عرب، ان کے اعلان شدہ مواقف کے منافی
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنٹونیو گوتریس ایسی حالت میں ترکی میں تبادلۂ خیال کے بعد سعودی عرب اور قطر کا دورہ کر رہے ہیں کہ ان دونوں ملکوں کا شمار علاقے اور دنیامیں بدامنی پھیلانے والے دو بدنام ملکوں میں ہوتا ہے اور گوتریس کی جانب سے ان ملکوں کے دوروں کو ترجیح دیا جانا ان کی اعلان شدہ پالیسی کے منافی ہے-
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنٹونیو گوتریس نے جمعے اور ہفتے کے روز ترکی میں اس ملک کے حکام کے ساتھ علاقے کی تبدیلیوں منجملہ شام کے بحران کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا ہے اور علاقے میں وہ اپنے مذاکرات کا سلسلہ مغربی ایشیا کے ملک سعودی عرب سے کر رہے ہیں- آنٹونیو گوترش نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا عہدہ سنبھالتے کے پہلے ہی دن کہا تھا کہ ان کی ترجیحات میں ان لاکھوں افراد کی مدد کرنا ہے جو دنیا کے مختلف علاقوں میں تشدد اور جھڑپوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں- گوتریس نے اسی طرح یہ بھی کہا تھا کہ دنیا میں ترقی اور رفاہ و بہبود کے لئے امن و صلح کی ضرورت ہے- مغربی ایشیاء کے علاقے میں سعودی عرب کے ساتھ تبادلۂ خیال کا سلسلہ شروع کرنے سے ، علاقے کو درپیش صورتحال کے بارے میں ان کے تشویش کی غمازی نہیں ہوتی- کیوں کہ ریاض کی جارحانہ پالیسیوں نے علاقائی اورعالمی امن وسلامتی کو خطرے سے دوچار کر رکھا ہے-
سعودی عرب علاقائی سطح پر تبادلۂ خیال اور مذاکرات میں خود کو محورظاہر کرنے کی کوشش میں ہے جبکہ مشرق وسطی کے علاقے میں بدامنی میں شدت لانے میں وہ آشکارہ کردار ادا کر رہا ہے اور آج اس بدامنی نے یورپ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے- سعودی عرب اور قطر کی جانب سے شام میں دہشت گردوں کی آشکارہ حمایت اور اس ملک کے بحران کو طول دینے کے علاوہ ، ریاض نے واشنگٹن اور لندن کے تعاون سے مارچ دوہزار پندرہ سے یمن کے خلاف بھی اپنے جارحانہ حملوں کا آغاز کیا - ان جارحانہ کاروائیوں کے ذریعے سعودی عرب، یمن میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی اور انسانیت کے خلاف جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے- ایسے میں اقوام متحدہ ، جو عالمی امن وسلامتی کے علمبردار کی حیثیت رکھتا ہے، کی یہ ذمہ داری ہے کہ سعودی عرب کے اقدامات کے خلاف ٹھوس قدم اٹھائے- اقوام متحدہ کی اہم ذمہ داری عالمی امن و سلامتی کا تحفظ ہے-
چنانچہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے دور میں اس فریضے اور ذمہ داری میں لیت و لعل سے کام لینے پر اقوام عالم نے انہیں اپنی تنقیدوں کا نشانہ بنایا تھا اور اس وقت گوتریس بھی اپنے اعلان شدہ مواقف کے یکسر برخلاف عمل کر رہے ہیں ، اور وہ کام کر رہے ہیں جو بان کی مون نے اپنے دس سالہ دور میں بھی نہیں کیا - عالمی تبدیلیوں کے مقابلے میں اقوام متحدہ کا رویہ، ان ملکوں کے سیاسی اور مالی اثر و رسوخ کے زیر اثر ہے کہ جو دنیا میں مسائل و مشکلات پیدا کرنے والے ہیں، اور یہی مسئلہ اس بات کا باعث بنا کہ سعودی عرب کو بان کی مون نے بچوں کے حقوق پامال کرنے والے ملکوں کی فہرست سے خارج کردیا اور اس وقت اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کے عہدے پر براجمان ہونے کے بعد گوتریس نے اپنے پہلے مقصد کے طور پر مغربی ایشیا کا دورہ، سعودی عرب سے شروع کیا جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ بھی بان کی مون کے نقش قدم پر گامزن ہیں-
سعودی عرب دہشت گردی کا منبع و سرچشمہ ہے اور وہابی افکار اس کو فروغ دے رہے ہیں چنانچہ آج شام ،عراق اور افغانستان کے علاوہ، یورپی ممالک بھی اس تکفیری وہابی افکار کی زد میں ہیں-امریکہ اور برطانیہ کی حمایت سے یمن پر سعودی عرب کے حملوں ، اور یمنی عوام کے قتل عام میں ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال نے ، اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کی ذمہ داریوں کی جانب رائے عامہ کی توجہ، ماضی سے زیادہ مبذول کی ہے- آنٹونیو گوتریس کے سیاسی نقطہ نگاہ میں تبدیلی نہ آنے سے، اقوام متحدہ سے وابستہ عوام کی توقعات کو سخت جھٹکا لگے گا اور اس طرح یمن کے مظلوم عوام کا قتل عام ، دہشت گردی کا فروغ اور اپنے اہداف کو آگے بڑھانے کے لئے انسانی حقوق کو بطور ہتھکنڈہ استعمال کرنے کی بعض ملکوں کی کوششیں بدستور جاری رہیں گی-