Feb ۲۰, ۲۰۱۷ ۱۵:۰۷ Asia/Tehran
  • مونیخ سیکورٹی کانفرنس میں ترکی ، سعودی عرب اور اسرائیل کے مواقف، ایرانو فوبیا کے لئے مثلث

مونیخ سیکورٹی کانفرنس میں سعودی وزیر خارجہ ، اسرائیلی وزیر خارجہ اور ترکی کے وزیر خارجہ کے مواقف میں ہم آہنگی اور یکسوئی، کوئی اتفاقی بات نہیں ہے-

ایران کی وزارت خارجہ کے  ترجمان بہرام قاسمی  نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر  اور اسرائیلی وزیر جنگ کے متنازعہ بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں حکومتیں یہ خیال کرتی ہیں کہ علاقےمیں اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور ان شکستوں کی تلافی کی غرض سے انہیں ایران کے خلاف عالمی برادری کو اکسانا چاہئے ، البتہ ان دونوں وزرائے خارجہ نے جوالزامات عائد کئے ہیں ان کی حقیقت سب پر عیاں ہے اس لئے کہ ایران علاقے کے مظلوم عوام کی حمایت میں جدوجہد کر رہا ہے - یہ بات 'بہرام قاسمی' نے ترک وزیر خارجہ کی جانب سے میونخ سیکورٹی کانفرنس میں کئے جانے والے بیانات پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی.انہوں نے کہا کہ جو ممالک بادشاہت کے خواب دیکھ رہے ہیں وہ دہشتگرد گروہوں کی حمایت، دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور خطے کو طویل شدید بدامنی کا شکار کرکے اپنے جرائم سے بھاگ نہیں سکتے.انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ الزامات اور من گھڑت باتوں سے وہ خودساختہ دلدل سے نہیں نکل سکتے- بہرام قاسمی نے بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی علاقائی پالیسی، تمام ممالک بالخصوص ہمسایہ ملکوں کی سلامتی اور ارضی سالمیت کے تحفظ اور احترام پر مبنی ہے اور ہمارے اس تعمیری مؤقف کا بھی دنیا کے دیگر ممالک خیرمقدم کرتے ہیں-

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے مونیخ سیکورٹی کانفرنس میں کہا ہے کہ ہمارا علاقہ کشیدگی سے بھرا ہوا ہے ، شام ، عراق ، یمن، اور لیبیا کا بحران ہمارے سامنے ہے، ہمیں دہشت گردی ، بحری قزاقوں اور اقتصادی مسائل کا سامنا ہے، ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ عربوں اور اسرائیل کے درمیان امن و صلح برقرار کریں-  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کے اس بیان کو ایک نقطہ نگاہ سے علاقے کے موجودہ حقائق کا ایک حصہ قرار دیا جا سکتا ہے لیکن وہ چیز جسے الجبیر نے ان چیلنجوں کے وجود میں آنے کے علل و اسباب کے طور پر ذکر کیا ہے ان میں بہت زیادہ شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں- الجبیر نے اپنے بیانات میں یہ کوشش کی ہے کہ ایران کو دہشت گردی کا حامی متعارف کرائے اور یہ بھی دعوی کیا کہ ایران دیگر ملکوں کے داخلی امور میں مداخلت کر رہا ہے- عادل الجبیر کا بیان در حقیقت مسئلے کی نوعیت کو تبدیل کرکے پیش کرنا ہے- ساتھ ہی یہ کہ مونیخ کانفرنس میں اسرائیلی حکام اور سعودی حکام کے بیانات میں بہت زیادہ مشابہت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے جو قابل غورہے- اسرائیلی وزیر خارجہ اویگڈر لیبرمین نے بھی اپنی تقریر میں ایران پر مغربی ایشیا کے علاقے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا الزام عائد کیا اور دعوی کیا کہ ایران دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا حامی ملک ہے- لیبرمین نے اسی طرح یہ بھی دعوی کیا کہ فلسطینیوں کا مسئلہ اس وقت مغربی ایشیاء کے علاقے کا سب سے بڑا مسئلہ نہیں ہے- اسی جیسا بیان ترکی کے وزیر خارجہ نے بھی مونیخ سیکورٹی کانفرنس میں دیا-

ان مواقف کو یکجا کیا جائے تو درحقیقت ایک پزل کے ٹکڑوں کے مانند ہیں کہ جو آخرکار ایران کی خوفناک تصویر کو ظاہر کرتے ہیں- لیکن ان مواقف میں پائے جانے والے تمام اشتراکات کے باوجود، یہ تینوں ممالک اپنے خاص اہداف کے درپے ہیں- امریکہ علاقے میں امن و سلامتی کے قیام کے بہانے، نئے فوجی اڈے قائم کرنے اور زیادہ سے زیادہ ہتھیارفروخت کرنے میں کوشاں ہے - اور ان ہتھیاروں کی فروخت سے حاصل ہونے والے بھاری منافع کے پیش نظر یہ محرک قابل توجہ ہے- اس کھیل میں اسرائیل کا ہدف اور کردار واضح ہے - اسرائیل کا اہم ترین مقصد فلسطین کے مسئلے کو کالعدم بنا دینا ہے- عادل الجبیر نے اپنے بیان میں یہ کہہ کر، کہ اہم مسئلہ اعراب اور اسرائیل کے درمیان صلح کا قیام ہے، درحقیقت ایک لحاظ سے اسرائیل کو آسودہ خاطر کردیا ہے- لیکن اس درمیان اس مثلث میں ترکی کا کردار چنداں واضح نہیں ہے- ترکی بظاہر کئی کردار ادا کر رہا ہے - ایک طرف شام میں کھیل کھیل رہا ہے تو ایک دن وہ داعش کی حمایت کرتا ہے اور دوسرے دن داعش کے خلاف فوجی اقدام کی باتیں کرتا ہے اور ترکی کے شہریوں کو داعش کے ساتھ تعاون کے الزام میں گرفتار کرتا ہے- اردوغان نے خلیج فارس کے علاقے کے اپنے دورے میں ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے، خلیح فارس تعاون کونسل کے مواقف سے ہم آہنگی کا اعلان کیا اور اس ملک کے وزیر خارجہ نے مونیخ کانفرنس میں ایران پر دہشت گردی کی حمایت ، قبائلی اور فرقہ وارانہ فسادات کرانے نیز علاقے کو بدامنی سے دوچار کرنے کا الزام عائد کیا - جبکہ ترکی اور سعودی عرب علاقے میں بحران پیدا کرنے والے اہم ممالک ہیں -

ترکی نے شام اور عراق میں غیر قانونی طورپر اپنے فوجی تعینات کرکے ان ملکوں کی سلامتی کو خطرے سے دوچار کردیا - اگرچہ اس نے ماسکو اجلاس میں ایران اور روس کے ساتھ  سہ فریقی اجلاس میں ایک بیان پر دستخط کئےہیں کہ جس میں صراحتا شام کی ارضی سالمیت کے تحفظ پرتاکید کی گئی ہے- ان تمام باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ علاقے کی سلامتی ایسے عناصر کے ہاتھوں کھلونا بن گئی ہے جو علاقے میں دہشت گردی کے فروغ اور قتل و ویرانی کے حامی ہیں - ان عناصر کو یہ معلوم ہے کہ ایران اس طرح کے تخریبی کھیلوں کا متحمل نہیں ہوسکتا اور اسی لئے وہ ممالک ہم آہنگ اور ایک آواز ہوکر ایران کو علاقے کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ٹہرائیں- جبکہ ان ممالک کی جو تصویریں سامنے آئی ہیں ان سے علاقے میں ان کی جارحانہ ماہیت سب پر آشکارہ ہوگئی ہے-         

ٹیگس