سعودی عرب کا بجٹ خسارہ
امریکی ادارے برن سٹین(Bernstein ) نے جمعے کے دن سعودی عرب کے سنہ 2016 میں اناسی ارب ڈالر کے بجٹ خسارے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک کو رواں سال اپنے بجٹ خسارے کوپورا کرنےکے لئے پچھتر ڈالر فی بیرل کا تیل فروخت کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب اکثر اقتصادی اداروں نے پیشین گوئی کی ہے کہ رواں سال کے دوران تیل کی قیمت ساٹھ ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائےگی۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک نےحالیہ مہینوں کے دوران تیل کی برآمدات میں کمی کی تھی جس کے باعث تیل کی قیمت پچاس ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر پچپن ڈالر تک پہنچ گئی اور یہ قیمت سعودی عرب کا بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔ سعودی عرب کا یہ بجٹ خسارہ اس ملک کی جی ڈی پی کا تقریبا بارہ فیصد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہےکہ آئندہ برسوں کے دوران سعودی عرب کے بجٹ خسارے میں اضافہ ہی ہوگا۔ اور یہ صورتحال جاری رہنے کے نتیجے میں سنہ 2020 میں سعودی عرب کو اپنا بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے اپنا تیل اسّی ڈالر فی بیرل کی قیمت سے بیچنا ہوگا۔
سعودی عرب نے اس سے قبل بھی اپنی بعض مالی مشکلات کو حل کرنے کے لئے برطانیہ کے بینک ایچ ایس بی سی سے سترہ ارب پچاس کروڑ ڈالر قرض کے طور لئے تھے۔ ایسا سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا۔ اعداد و شمار سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران سعودی عرب کو شدید اقتصادی بحران کا سامنا رہا ہے۔ اس ملک کے حکام نے کچھ عرصہ قبل تقریبا ستائیس ارب ڈالر کے کریڈٹ بانڈ فروخت کئے تھے۔ سعودی حکام نے اپنے ملک کے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک بڑا حصہ شام، عراق، لبنان اور بعض دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت اور یمن کے خلاف جنگ کے لئےمختص کر رکھا ہے۔ آل سعود کے شاہزادے بھی سعودی عرب کے عوام کی دولت ایسی حالت میں لوٹ رہے ہیں کہ جب سرکاری اعداد و شمار سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران یہ ملک شدید اقتصادی بحران کا شکار رہا ہے۔ اس ملک کی پچیس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور اکثر تعلیم یافتہ جوان بے روزگار ہیں۔ انسانی ترقی کی بین الاقوامی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کو تیل کی سالانہ سیکڑوں ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود اس ملک کے تقریبا ستّر فیصد لوگ اپنے ملک کی بری اقتصادی صورتحال کی وجہ سے حکومت سے خوش نہیں ہیں اور وہ اقتصادی صورتحال سمیت مختلف میدانوں میں بنیادی تبدیلیوں پر تاکید کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں کے دوران تیل کی قیمت میں کمی کے تیل برآمد کرنے والے بعض ممالک کے اقتصاد پر عارضی طور پر منفی اثرات مرتب ہوئے لیکن سعودی عرب کی معیشت کا دارومدار چونکہ صرف تیل پر ہے اس لئے یہ صورتحال سب سے زیادہ اسی ملک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئی۔ ایک اور توجہ طلب بات یہ ہےکہ سعودی عرب کے پیٹروڈالر ملک کی بنیادی تنصیبات کے لئے خرچ ہونے کے بجائے غیر ضروری کاموں اور آسائش طلبی میں خرچ ہوتے ہیں۔ سیاسی، سماجی، قانونی اور اقتصادی میدانوں میں آل سعود کی عوام مخالف پالیسیوں کے جاری رہنے کے سعودی عرب کے عوام پر مختلف شعبوں منجملہ اقتصادی شعبے میں بہت برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کی اسی بری اقتصادی صورتحال کے پیش نظر اس ملک کے بادشاہ کٹوتی کی پالیسیاں اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اور سعودی عرب کے عوام کی اکثریت آل سعود کی بری مینیجمنٹ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اقتصادی دباؤ کی بھینٹ چڑھ رہی ہے۔ سعودی عرب کی حکومت اقتصادی مشکلات میں کمی لانےکے لئے بعض اقدامات انجام دے رہی ہے۔ جن میں بعض تعمیراتی منصوبوں پر عملدرآمد کی روک تھام، ملازمین کی تنخواہوں میں کمی، کریڈٹ بانڈز کی فروخت اور ٹیکسوں میں اضافہ شامل ہے۔ مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہےکہ آل سعود کی مینیمجمنٹ کے نتیجے میں سعودی عرب کی معیشت دیوالیہ پن اور زوال کی جانب بڑھ رہی ہے۔