Mar ۰۲, ۲۰۱۷ ۱۷:۰۷ Asia/Tehran
  • یمن کے خلاف امریکہ اور سعودی عرب کی سازشیں

یمن کی پارلیمنٹ کے رکن نے یمن کے جزیرہ میون میں فوجی اڈا قائم کرنے کی بابت خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ، متحدہ عرب  امارات اور مصر نے باب المندب کے میون جزیرے میں ایک فوجی اڈا قائم کرنے کا معاہدہ کا ہے اور یہ کام عالمی قوانین کے برخلاف ہے۔ باب المندب یمن کے جنوب میں واقع ہے۔

یمن کی پارلیمنٹ نے ایک بیان جاری کر کے کہا ہے کہ جزیرہ میون باب المندب کے قریب ہے اور یہ یمن کی سرزمین میں شامل ہے۔ یہ جزیرہ جنوب مغربی یمن کے صوبے تعز میں واقع ہے۔ اس سے قبل چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان جنگ شوانگ نے یمن کے جزیرہ میون میں فوجی اڈا قائم کرنے کے لئے امریکہ، مصر اور متحدہ عرب امارات کے معاہدے کی مذمت کی تھی۔ امریکہ جزیرہ میون میں اپنا فوجی اڈا قائم کر کے علاقے میں جاری بدامنی کو مزید ہوا دے گا اور علاقے اور دنیا کے امن کو مزید خطروں سے دوچارکر دے گا جس سے باب المندب میں بین الاقوامی جہاز رانی میں بھی خلل  پڑجائے گا۔ واضح رہے کہ اسٹریٹیجک آبنائے باب المندب یمن، جیبوتی اور ایرٹریا کے مابین واقع ہے۔ باب المندب دنیا کا ایک اہم ترین آبی راستہ ہے جس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ یہ آبی راستہ بحیرہ احمر اور بحیرہ روم کے درمیان پل کا کام کرتا ہے اور جنوب مغربی ایشیا کو مشرقی افریقہ اور یورپ سے ملاتا ہے۔ اس کے علاوہ  یمن اس اہم آبی راستے  پر تسلط رکھتا ہے اور چونکہ باب المندب بحیرہ سرخ کو بحر ہند سے بھی ملاتا ہے لہذا یمن کے لئے اس کی حیثیت اور بڑھ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے بڑی طاقتیں، علاقائی طاقتیں اور تسلط پسند حکومتیں جیسے صیہونی حکومت یمن پر تسلط حاصل کرنے کی کوشش میں رہے ہیں۔ صیہونی حکومت کے لئے باب المندب اس کی سیکورٹی کے لحاظ سے نیز ہارن آف افریقہ میں امریکہ کے فوجی اڈے برقرار رکھنے اور سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے جہازوں کی رفت و آمد کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اسی بنا پر سعودی عرب بھی باب المندب پر قبضہ رکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے کیونکہ اس طرح صیہونی حکومت اور اس کے مشترکہ مفادات فراہم ہوتے رہتے ہیں۔ اقتصادی لحاظ سے موجودہ اعداد و شمار کے مطابق تقریبا دنیا کا پانچ سے چھے فیصد تیل یا چار ملین ٹن تیل ہرروز باب المندب سے نہر سوئز کی طرف جاتا ہے اور وہاں سے پھر دنیا کے مختلف علاقوں کی طرف روانہ ہوتا ہے۔ سعودی عرب کے لئے باب المندب کی اہمیت بیان کرنے کے لئے صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ سعودی عرب کی ساری تجارت اسی آبی راستے سے انجام پاتی ہے۔ اسی لیے بہت سے مبصرین کا خیال ہے سعودی عرب اسی وجہ سے نہیں چاہتا ہے کہ انصاراللہ، یمن میں برسر اقتدار آئے اور یمن میں اس آبی راستے کا کنٹرول حاصل کرلے۔ ادھر متحدہ عرب امارات نے بھی یمن کے خلاف سعودی اتحاد میں شامل ہوکر یمن کے نہتے عوام پر جارحیت شروع کررکھی ہے اور جزیرہ سقطرا اور جزیرہ میون پر مکمل طرح سے قبضہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یاد رہے متحدہ عرب امارات نے یمن کے مفرور صدر عبد ربہ منصور ہادی سے معاہدہ کیا ہے کہ یہ جزائر امارات کو ننانوے برسوں کی لیز پر دئے جائیں گے لیکن یہ معاہدہ یمنی قوم کی نگاہ سے مسترد ہے۔ ایسے حالات میں امریکہ نے بھی یمن میں کھل کر مداخلت کرنا شروع کردیا ہے اور باب المندب کے قریب فوجی اڈا بنا کر یمن کے خلاف اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے دوسرے ملک میں فوجی اڈے کی تعمیر اور وہ بھی بغیر اس ملک کی اجازت کے، عالمی سطح پر امریکہ کے خطرناک ترین اقدامات اور ملکوں کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی شمار ہوتی ہے اور اس امر سے امریکہ کے خلاف احتجاج میں شدت آگئی ہے۔ یمن اور چین کی جانب سے امریکہ کے اس فیصلے پر احتجاج، اسی تناظر میں غور کے قابل ہے۔

ٹیگس