Mar ۲۰, ۲۰۱۷ ۱۹:۴۹ Asia/Tehran
  • رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی  سید علی خامنہ ای کا پیغام نوروز

رہبر انقلاب اسلامی نےاس شمسی سال کو استقامتی معیشت، پیداوار اور روزگار کا سال قراردیا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے حضرت صدیقہ کبری سلام اللہ علیہا کے روز ولادت باسعادت اور نئے ہجری شمسی سال کے آغاز پرایران کی قوم، ملک کے نوجوانوں، شہدا کے اہل خانہ، ملک کے دفاع کے لئے جانبازی اور جان نثاری کرنے والے مجاہدین کے اھل خانہ اور ایرانی عوام اور دنیا کے مسلمانوں کے لئے پربرکت اور سلامتی اور فلاح و بہبود سے بھرے سال کی آرزو کی اور اس شمسی سال کو استقامتی معیشت، پیداوار اور روزگار کا سال قراردیا۔ ایرانی قوم نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تقریبا چار دہائیوں سے بہت سے چیلنجوں اور خطروں کو سرکیا ہے۔ ایرانی قوم کو درپیش زیادہ تر مشکلات امریکہ اور مغربی حکومتوں کی پالیسیوں سے درپیش تھیں جو ملت ایران کو نقصان پہنچانے کے درپے تھیں۔ اب بھی یہ جیلنچز ختم نہیں ہوئے ہیں بلکہ یہ حکومتیں اقتصادی لحاظ سے مشکلات پیدا کرکے ایران کے خلاف دوبارہ سازشیں رچ رہی ہیں۔ امریکہ نے گذشتہ تین دہائیوں میں ایران کے خلاف انواع و اقسام کی پابندیاں عائد کی ہیں لیکن ان کی وجہ سے ایرانی قوم نے مزید استقامت کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کے  پائے ثبات میں استحکام آیا ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی کا نئے سال کا پیغام اسی اہم بات پر دوبارہ تاکید ہے۔ ایرانی قوم کی یہ انتھک کوششیں اور بلاوقفہ جدوجہد جیسا کہ رہبرانقلاب اسلامی نے اشارہ فرمایا ہے ایرانی قوم کی سربلندی میں اضافہ ہونے اور اس کے تشخص کے واضح ہونے کا سبب بنی ہے۔ اس سلسلہ کو ہم گذشتہ سال یعنی تیرہ سو پچانوے میں دیکھ سکتے تھے اور دشمنوں نے دنیا میں جہاں کہیں بھی ہوں ایران کی قوم کی طاقت اور عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ ایرانی قوم نئے  سال کا آغاز ایسے عالم میں کررہی ہے کہ وہ اپنی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے میدان میں بھی بھرپور استحکام کی حامل ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ ایران کے ہمسایہ ممالک بدامنی کا شکار ہیں۔ عالمی اور علاقائی سطح پر پرتلاطم حالات میں ایران بھرپور طرح سے امن و امان اور پائدار استحکام کا حامل رہا ہے۔

ایران کے خلاف دباؤ اور خلاف ورزیوں کے باوجود ایران میں امن و امان برقرار رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی قوم آگے کی طرف بڑھ رہی ہےاور اسے آگے بڑھنے سے کوئی روک نہیں سکتا، یہ ایران کی نمو اور ترقی کی علامت ہے۔ اسی وجہ سے رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے دشمن کی اقتصادی جنگ کی مکمل شناخت رکھتے ہوئے اور دباؤ اور پابندیوں سے اس کے اھداف کے پیش نظر ہمیشہ معیشتی انفرا اسٹرکچر اور اس امر پر توجہ دئےجانے پر تاکید فرمائی ہے۔ آپ نے اسی کے ساتھ ساتھ اقدام و عمل پر بھی تاکید فرمائی ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں وسط مدتی اور طویل مدتی اسٹراٹجیوں کو مصرف کے ماڈل کی اصلاح، دوگنی ہمت اور دوگنے کام، اقتصادی جہاد کا سال اور اقتصاد و ثقافت اور قومی عزم و جہادی تدابیر کے زیر عنوان پیش کیا ہے اور اس طرح استقامتی معیشت کے ماڈل کو ترقی کے ہمراہ واضح کیا ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے گذشتہ شمسی سال کو بھی اسی اساس پر استقامتی معیشت اور اقدام و عمل کا سال قراردیا تھا اور اس سال بھی اس امر پر تاکید کرتے ہوئے اس سال کا نام استقامتی معیشت پیداوار اور روزگار رکھا ہے۔ اس بات میں شک نہیں ہے کہ پائدار معیشت تک پہنچنے کا راستہ استقامتی معیشت کے راستے پر گامزن رہنا ہے، رہبرانقلاب اسلامی نے اپنے پیغام میں ایک واضح تصویر پیش کی ہے جو دراصل معیشتی سیکورٹی کے صحیح ادراک پر مبنی ہے اور آپ نے اس امر پر توجہ کی اہمیت و ضرورت پر بھی تاکید فرمائی ہے اور اس سلسلے میں انجام شدہ اقدامات پر توجہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ پراثر کوششیں تمام میدانوں میں نتیجہ خیز طور پر جاری رہنی چاہیں۔ اس بات میں کسی طرح کا شک نہیں ہےکہ اقتصادی سطح پر استقامت میں سستی سے نقصان ہوسکتا ہے جو ہرسال زیادہ اور پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں جس طرح سے رہبر انقلاب اسلامی نے نوروز کی مناسبت سے اپنے  پیغام میں فرمایا ہے کہ انقلاب اسلامی کی سالگرہ بائیس بہمن کے موقع پر مظاہروں میں قوم کی غیرتمندانہ موجودگی اور امریکی صدر کی جانب سے بے احترامی کا بھرپور جواب دینا اسی طرح سے یوم قدس میں عوام کی موجودگی ایرانی قوم کے تشخص اور اعلی اھداف کو ظاہر کرتی ہے اور یہ تشخص اور اہداف اپنے بزرگ تر اہداف تک پہنچنے کے لئے ملت ایران کے عزم کی نشانی ہیں۔