ترکی میں ریفرینڈم کامیاب
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i279572-ترکی_میں_ریفرینڈم_کامیاب
سرانجام موافقین اور مخالفین کی مہینوں کی کوششوں کے بعد ترکی میں آئین میں اٹھارہ شقوں کی ترمیم کے سلسلے میں ریفرینڈم منعقد ہوگیا۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۲:۱۸ Asia/Tehran
  • ترکی میں ریفرینڈم کامیاب

سرانجام موافقین اور مخالفین کی مہینوں کی کوششوں کے بعد ترکی میں آئین میں اٹھارہ شقوں کی ترمیم کے سلسلے میں ریفرینڈم منعقد ہوگیا۔

 

سرانجام موافقین اور مخالفین کی مہینوں کی کوششوں کے بعد ترکی میں آئین میں اٹھارہ شقوں کی ترمیم کے سلسلے میں ریفرینڈم منعقد ہوگیا۔ یہ ریفرینڈم ترکی کے تاریخ میں ایک اہم موڑ شمار ہوتا ہے۔ ارنا کی رپورٹ کےمطابق ترکی میں تمام بیلٹ بکسوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگئی ہے اور سرانجام یہ متنازعہ ریفرینڈم دو اعشارہ چھے کی برتری سے کامیاب ہوگیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس ریفرینڈم میں چھیاسی فیصد ترک عوام نے شرکت کی۔ اطلاعات کے مطابق چھپین ملین پانچ لاکھ اٹھاسی ہزار پانچ سو پانچ افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور ریفرینڈم میں ووٹ ڈالا۔ سولہ اپریل کے حتمی نتائج کے قبول کرلئے جانے کی صورت میں اس ریفرینڈم کے نتائج پر دوہزار انیس تک عمل درآمد ہوگا اور ترکی کا سیاسی نظام پارلیمانی نظام سے صدارتی نظام میں تبدیل ہوجائے گا۔

ترکی کا ریفرینڈم کئی مہینوں سے ملکی اور غیر ملکی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ ترکی کی دوسری  سب سے بڑی اور مقبول پارٹی یعنی جمہوری خلق پارٹی نے ریفرینڈم کے نتائج پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ساٹھ فیصد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرائی جائے۔

ترکی کی اعلی الیکشن کونسل کی کارکردگی میں عدم شفافیت کے بارے میں شکوک و شبہات کے اظہار سے ریفرینڈم کے نتائج میں فیصلہ کن تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ ترکی کے آئین میں ترمیم کے ریفرینڈم میں موافقین اور مخالفین کے ووٹوں کی تعداد کے قریب ہونے اور ریفرینڈم کے کم مارجن سے کامیاب ہونے پر اس کی تمام شقوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ ادھر صدر رجب طیب اردوغان نے بھی احتیاط سے کام لیتے ہوئے اور مخالفین کے ممکنہ رد عمل کو روکنے کے لئے کہا ہے کہ ریفرینڈم کی بعض شقوں پر دوہزار انیس تک بتدریج عمل ہوگا۔

ترکی کے ریفرینڈم سے یہ پتہ لگ گیا کہ ریفرینڈم کے حق میں جتنے ووٹ پڑے ہیں تقریبا اتنے ہیں اس کی مخالفت میں بھی  پڑے ہیں۔اس رو سے بہت کم مارجن سے ریفرینڈم میں کامیاب ہونےسے ترک حکام بالخصوص اردوغان کے اتحادیوں کو یہ تشویش لاحق ہوچکی  ہے کہ اس ریفرینڈم کے نتائچ پرکہیں ترکی کے مختلف علاقوں میں مساوی طورعمل درآمد نہ ہو بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ ترکی کے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں میں عوام نے اس ریفرینڈم میں بہت کم شرکت کی ہے اور جن لوگوں نے شرکت کی ہے منفی ووٹ ڈالا ہے اور انہوں نے اپنے منفی ووٹ سے اردوغان کو یہ پیغام پہنچادیا ہے کہ وہ ریفرینڈم کے بعد کٹھن دنوں کی تیاری کرلیں۔

دوسری طرف سے ترکی کو جس امر سے شدید خطرہ لاحق ہے وہ ریفرینڈم کے موافقین اور مخالفین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے جس سے ترکی میں عدم تحفظ میں اضافہ ہورہا ہے اور سکیورٹی کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ بہرحال ترکی میں سیاسی نظام کی تبدیلی اس ریفرینڈم کی اہم ترین شق ہے جس پر داخلی اور عالمی سطح پر مخالفت کا اعلان کیا گیا ہے۔ بے شک یہ ریفرینڈم علاقے کے سیاسی جغرافیا میں اہم تبدیلیوں کا سبب بنے گا جس کا جائزہ علاقائی اور عالمی طاقتیں احتیاط اور تشویش سے لے رہی ہیں اور خود کو مناسب ردعمل کے لئے آمادہ کررہی ہیں۔