شام اور عراق کے علاقوں پر ترکی کے لڑاکا طیاروں کے حملے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i280606-شام_اور_عراق_کے_علاقوں_پر_ترکی_کے_لڑاکا_طیاروں_کے_حملے
آج پچیس اپریل کو ترکی کے لڑاکا طیاروں نے سنجار نامی پہاڑ پر حملہ اگرچہ کردستان ورکرز پارٹی پی کے کے، کے ٹھکانوں پر بمباری کے مقصد سے کیا تاہم اس حملے میں پیشمرگہ ملیشیا کے پانچ اہلکار ہلاک اور نو دیگر زخمی ہوگئے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۲۵, ۲۰۱۷ ۱۴:۵۰ Asia/Tehran
  • شام اور عراق کے علاقوں پر ترکی کے لڑاکا طیاروں کے حملے

آج پچیس اپریل کو ترکی کے لڑاکا طیاروں نے سنجار نامی پہاڑ پر حملہ اگرچہ کردستان ورکرز پارٹی پی کے کے، کے ٹھکانوں پر بمباری کے مقصد سے کیا تاہم اس حملے میں پیشمرگہ ملیشیا کے پانچ اہلکار ہلاک اور نو دیگر زخمی ہوگئے-

ترکی کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ یہ حملے عراق اور شام میں پی کے کے دہشت گرد گروہ کے ٹھکانوں پر کئے گئے ہیں- روئٹرز نیوز ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ ترکی کے لڑاکا طیاروں نے دیاربکر سے اڑان بھری اور عراق کے شہر سنجار کے نزدیک کے علاقوں اور شام کے شمال مشرق کے سرحدی علاقوں پر حملہ کردیا - ترکی کی فوج ایسی حالت میں یہ دعوی کر رہی ہے کہ مقامی خبری ذرائع اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ترکی کے بیس سے زائد لڑاکا طیاروں کے حملے میں پیشمرگہ ملیشیا کے افراد اور کئی عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں-

اس سے قطع نظر کہ کیا واقعا ترکی کے جنگی طیاروں نے پی کے کے، کے افراد کو ہی اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے یا پھر پیشمرگہ ملیشیا اور یا شام کے کردوں کو، لیکن وہ چیز جو پہلے مرحلے میں توجہ مبذول کرتی ہے ، شام اور عراق کی سرزمینوں پر ترکی کے لڑاکا طیاوں کے حملے ہیں کہ جس میں عام شہری مارے گئے ہیں- بعض آزاد ذرائع کے مطابق ان حملوں میں ہونے والے جانی نقصانات کے بارے میں ترکی کی حکومت اور فوج کے دعوے کچھ بھی ہوں، لیکن ان حملوں میں سنجار اور دریک کے عوام کے قتل عام کی تائید ہوتی ہے- نہتے اور بے گناہ عوام کے قتل عام سے قطع نظر ، ترکی کے دو پڑوسی ملکوں کی حیثیت سے عراق اور شام پر ترکی کا فضائی حملہ وہ اہم ترین موضوع ہے کہ جو علاقے کی موجودہ صورتحال میں سیاسی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرتا ہے-

خاص طور پر ایسے میں جبکہ کہا یہ جا رہا ہےکہ ترکی کے لڑاکا طیاروں نے یہ حملے، شام کے ان علاقوں پر کئے ہیں کہ جہاں شامی کرد گروہوں کوامریکہ کی حمایت حاصل ہے- جیسا کہ ترکی کے بقول کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کو بھی امریکہ کی کھلی اور آشکارہ حمایت حاصل ہے- اس لئے ممکن ہے پی کے کے ، کے ٹھکانوں پر ترکی کا حملہ ، واشنگٹن کو ایک کھلا پیغام ہو - اب یہ سوال پیش آتا ہے کہ کیا ترکی نے یہ حملہ کرکے، شام کے بحران کو کنٹرول کرنے کے لئے امریکہ اور روس کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے یا پھر ارمنیوں کے قتل عام کے حوالے سے ٹرمپ حکومت کے بیان سے متاثر ہوکر یہ حملہ کیا ہے یا نہیں صرف اس لئے تاکہ ترکی میں حال ہی میں ہونے والے ریفرینڈم کے نتائج کے اعلان سے ترک رائے عامہ کی توجہ ہٹائی جا سکے-

بہرحال شام اور عراق پر ترکی کے حملے کی وجہ جو بھی ہو تاہم اس نکتے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ انقرہ کی حکومت کی پالیسیوں نے ترکی کے حکام کو اندرون ملک اور علاقائی و عالمی سطح پر سخت و دشوار حالات سے دوچار کردیا ہے- ایسی صورتحال کہ جس سے باہر نکلنے کے لئے ترک حکام کو کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے اور وہ اپنی غیر واضح اور غیر منظم خارجہ پالیسی کے دائرے میں کشیدہ صورتحال پیدا کرنے اور دھمکی آمیز اقدامات انجام دینے میں کوشاں ہیں- لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ اس طرح کے طرزعمل سے وہ مزید مشکلات میں گرفتار ہوجائیں گے اور ترکی کی کشیدہ صورتحال مزید ابتر ہوتی جائے گی-