فلسطینیوں کی سرنوشت پر اقوام متحدہ کی توجہ کی ضرورت
اقوام متحدہ نے صیہونی حکومت کے جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کی حالت زار پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے-
فلسطینی قیدیوں نے سترہ اپریل سے جسے یوم اسراء قرار دیا گیا ہے، آزادی و کرامت کے عنوان سے صیہونی حکومت کی نسل پرستانہ پالیسیوں اور رویوں کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ اب تک صیہونی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے دوہزار قیدی بھوک ہڑتال میں شامل ہوچکے ہیں۔ بھوک ہڑتال شروع کرنے والے فلسطینی قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے صیہونی حکام نے بعض فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل کی دیگر جیلوں میں منتقل کر دیا ہے۔
ایسے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجاریک نے کہا ہے کہ بھوک ہڑتال کرنے والے سیکڑوں فلسیطنی قیدیوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے اور ان کی حالت بہت زیادہ خطرناک اور تشویشناک ہے- اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے کہا کہ یہ ادارہ فلسطینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال کے مسئلے کا جائزہ لے گا اور قریب سے تمام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے- فلسطینی قیدیوں کے خلاف صیہونی حکومت کی بربریت کی مذمت میں عالمی سطح پرآواز بلند ہونے سے اس امر کی غمازی ہوتی ہے کہ ان قیدیوں کی صورتحال سے متعلق عالمی رائے عامہ میں ماضی سے زیادہ تشویش پائی جاتی ہے-
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ ہفتوں کے دوران فلسطینی قیدیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے انسانیت سوز اقدامات میں شدت آنے کے سبب ان قیدیوں کی حالت پہلے سے زیادہ ابتر ہوچکی ہے- فلسطینی قیدیوں کے تعلق سے صیہونی حکومت کے جارحانہ رویوں نے ثابت کردیا ہے کہ یہ غاصب حکومت کسی بھی ظلم و ستم سے دریغ نہیں کر رہی ہے اور فلسطینیوں کے درمیان رعب و دہشت پھیلانے کے مقصد سے بے گناہ فلسطینوں کو قیدی بنا رہی ہے اور جو قید میں ہیں ان کو رہا کرنے سے انکار رہی ہے- صیہونی حکومت نے فلسطینی قیدیوں کو ایسے قیدخانوں میں رکھا ہے جن کی صورتحال نہایت ہی بدتر ہے اور ان میں معمولی سہولتیں بھی جو عام طور پر قید خانوں میں ہوتی ہیں، مہیا نہیں ہیں اوراس میں ان قیدیوں کو طرح طرح کے شکنجے اور ایذائیں پہنچائی جارہی ہیں۔
ایسے حالات میں صیہونی جیلوں میں ہزاروں کی تعداد میں قید فلسطینی کہ جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں، کی جانیں خطرے میں ہیں۔ فلسطینی قیدیوں کے خلاف صیہونی حکومت کی تشدد آ میز کاروائیوں کے جاری رہنے کی بنا پر ان کی زندگی دشوار ہوکر رہ گئی ہے جب کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی فوری کاروائی کے سلسلے میں عالمی اداروں کی بے توجہی نے صیہونیوں کوان پر ظلم و بربریت کرنے میں اور بھی گستاخ بنا دیا ہے۔ صیہونی حکومت کے جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر اتنے مظالم ڈھائےجاتے ہیں کہ جن کے باعث بہت سے قیدی یا تو شہید ہوجاتے ہیں یا پھر لاعلاج بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں- ایسے حالات میں فلسطینی قیدیوں نے ایک بار پھر بھوک ہڑتال شروع کی ہے-
فلسطینی قیدیوں کی اس استقامت، اور فلسطینی عوام کی جانب سے ان کی ہمراہی کے نتیجے میں، ان قیدیوں کی عالمی سطح پر حمایت کی جا رہی ہے- اسی تناظر میں اقوام متحدہ نے بھی اگرچہ سے دیر سے ہی ، فلسطینی قیدیوں کی صورتحال پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ بین الاقوامی اداروں نے صیہونی حکومت کی صرف لفظی مذمت پر ہی اکتفا کیا ہے- اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے حکام نے موقف اپناتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ وہ فلسطینی قیدیوں کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں- اقوام متحدہ کے حکام نے یہ دعوی ایسے میں کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی فلسطینیوں کے مصائب و آلام کے تعلق سے بے توجہی برتی ہے اور انہوں نے اپنے دورہ غزہ میں فلسطینی شہداء اورقیدیوں کے اہل خانہ کے نمائندوں سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا تھا کہ جس کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی-
درحقیقت اقوام متحدہ کا یہ رویہ اس بات کا باعث بنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد 187 جاری کئے جانے کے باوجود 1967 سے اب تک فلسطینی قیدیوں کی حالت میں بہتری لائے جانے اور غاصب صیہونی حکومت کے خوفناک جیلوں سے ان کی رہائی کے مقصد سے چھوٹا سا بھی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے- ایسے ماحول میں صیونی حکومت نے مغرب کی حمایتوں کے سائے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر ذرہ برابر بھی توجہ نہیں کی ہے اور وہ فلسطینیوں کے خلاف اپنے غیر انسانی اقدامات اوران کی وسیع پیمانے پر گرفتاری جاری رکھے ہوئے ہے اور ہر روز ان پر اپنے مظالم میں شدت لا رہی ہے کہ جس کے سبب فلسطینی قیدیوں کی جانوں کو ماضی سے خطرہ لاحق ہوگیا ہے-