داعش کے دہشت گردوں کا ترکی کی جانب فرار
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i281104-داعش_کے_دہشت_گردوں_کا_ترکی_کی_جانب_فرار
شام اورعراق میں دہشت گرد گروہوں سے مقابلے پر مبنی انقرہ کی حکومت کے دعوے کے باوجود شام اور عراق سے غیر ملکی دہشت گردوں کے فرار سے متعلق تازہ ترین رپورٹیں منظر عام پر آرہی ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۲۹, ۲۰۱۷ ۱۳:۵۳ Asia/Tehran
  • داعش کے دہشت گردوں کا ترکی کی جانب فرار

شام اورعراق میں دہشت گرد گروہوں سے مقابلے پر مبنی انقرہ کی حکومت کے دعوے کے باوجود شام اور عراق سے غیر ملکی دہشت گردوں کے فرار سے متعلق تازہ ترین رپورٹیں منظر عام پر آرہی ہیں۔

برطانیہ کے اخبار گارڈین نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ داعش کے بہت سے غیر ملکی شہری کہ جو اس دہشت گرد گروہ سے علیحدہ ہوگئے ہیں، شام اور عراق سے ترکی فرار کر رہے ہیں اور وہاں سے اپنے ملکوں کو واپس لوٹ رہے ہیں- اخبار گارڈین کے مطابق داعشیوں کے فرار کی وجہ یہ ہے کہ  شام اورعراق میں ان کے گرد محاصرہ مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے اور وہ کمزور پڑگئے ہیں۔ برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ سے اس حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ترکی بدستور، داعش اور جبھۃ النصرہ کے عناصر کی اپنے ملکوں کی جانب فرار کا بہترین راستہ ہے- یہ پہلی بار نہیں ہے کہ دہشت گرد گروہ دیگر ملکوں میں فرار کے لئے ترکی سے استفادہ کر رہے ہیں- واضح سی بات ہے کہ انقرہ حکومت کی مدد و حمایت کے بغیر، دہشت گردوں کا ترکی کے راستے دوسرے ملکوں کی جانب فرار کرنا ممکن نہیں ہے- اس سے قبل بھی شام اور عراق میں سرگرم دہشت گردوں کے لئے ترکی کی مدد وحمایت سے متعلق رپورٹیں منظر عام پر آچکی ہیں لیکن انقرہ کے حکام نے ہمیشہ ان رپورٹوں کی تردید کی ہے اور شام و عراق میں دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعاون کا انکار کیا ہے-

پڑوسی ملکوں خاص طور پر شام اورعراق کے بارے میں انقرہ کی پالیسیوں پر ایک نظر ڈالنے سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ چند سال کے دوران اس حکومت کی پالیسی عراق میں ، زیادہ تر سنی - عرب فیڈریشن اور اہل سنت سے مخصوص علاقہ قائم کرنے پر مرکوز رہی ہے- درحقیقت مرکزی و جنوبی علاقوں کے علاوہ بعض علاقوں میں کہ جہاں شیعوں کی اکثریت ہے،  سنی عرب فیڈریشن کا قیام ، ترکی کی ترقی و انصاف پارٹی کا مقصد رہا ہے۔ اسی سلسلے میں انقرہ حکومت نے کوشش کی ہے کہ ان علاقوں کو سنی فیڈرل علاقے میں تبدیل کردے تاکہ اس طرح سے عراق میں اپنے اثر و رسوخ کا تحفظ کرے اور مستقبل میں بھی اسے مزید وسعت دے سکے- ساتھ ہی انقرہ حکومت کی کوشش ہے کہ عراق کے سنی آبادی والے علاقے کو مادی اور اسٹریٹیجک مفاد کے لئے شام کے سنی آبادی والے علاقے میں شامل کردے- درحقیقت ان حالات میں کہ جب شمالی عراق میں دہشت گرد گروہوں نے، شیعوں کا صفایا کرنے اور انہیں وہاں سے کوچ کرنے کو اپنے ایجنڈے میں قراردیا تھا ، ترکی کے حکام  بھی عملی طور پر ان پالیسیوں کی حمایت کررہے تھے-

اس درمیان ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ داعش دہشت گرد گروہ بھی شیعوں کا صفایا کرنے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے- مثال کے طور پر داعش دہشت گردوں کی کاروائی کے دورا ن لاکھوں عرب ، ترکمن اور کرد  شیعہ مسلمان، شمالی عراق اور موصل ، کرکوک کے کرد آبادی علاقوں سے فرار پر مجبور کئےگئے اور وہ جنوبی و مرکزی علاقوں جیسے بغداد ، کربلا ، نجف اور بصرہ جانے پر مجبور ہوگئے- یہی نہیں بلکہ  شیعوں کی ایک بڑی تعداد کو داعش کے دہشت گروں نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ حالانکہ انقرہ حکومت اس بات کی مدعی تھی کہ وہ عراق کے ترکمن عوام کی ہم نسل ہونے کی حیثیت سے حمایت کر رہی ہے لیکن عملی طور پر داعش کے توسط سے عراقی ترکمنوں کے قتل عام سے اس نے چشم پوشی کی جبکہ انقرہ کے شمالی عراق میں کئی ایک فوجی اڈے بھی تھے لیکن انہوں نے ترکمنوں کی حمایت اور داعش سے مقابلے کے لئے  کوئی بھی اقدام نہیں کیا۔ اس عمل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شام اور عراق کے سلسلے میں انقرہ حکومت کی غلط پالیسیوں نے ان ملکوں کی موجودہ مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے، بہرحال  ترکی کے مفادات میں کام کرنے والے دہشت گردوں کو فرار دینے میں ترکی کے تعاون کو، علاقے میں اپنی من پسند قومی اور مذہبی تبدیلی لانے کے لئے، ترکی کی  گزشتہ چند برسوں کی پالیسی کا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے۔