شمالی کوریا نے صیہونی حکومت کو امن کے لئے خطرہ قرار دے دیا
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i281204-شمالی_کوریا_نے_صیہونی_حکومت_کو_امن_کے_لئے_خطرہ_قرار_دے_دیا
شمالی کوریا نے قدس کی غاصب حکومت کو علاقے اور دنیا کے امن کے لئے خطرہ قرار دے دیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۳۰, ۲۰۱۷ ۱۰:۵۷ Asia/Tehran
  • شمالی کوریا نے صیہونی حکومت کو امن کے لئے خطرہ قرار دے دیا

شمالی کوریا نے قدس کی غاصب حکومت کو علاقے اور دنیا کے امن کے لئے خطرہ قرار دے دیا ہے۔

پیانگ یانگ نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کے پاس اتنی بڑی مقدار میں ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جو انسانیت کی تباہی پر منتج ہوسکتے ہیں۔ اسرائیل کی نسل پرست اور توسیع پسند حکومت کے وزیر جنگ اویگڈور لیبر مین نے شمالی کوریا  کے قائد کم جونگ اون (Kim Jong-un) کو پاگل قرار دیا تو شمالی کوریا نے فورا اسرائیل کو ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ہونے نیز اس حکومت کی کارکردگی کی  بنا پر اسے برائی کی جڑ قرار دیا۔ شمالی کوریا کی ایک خبر رساں ایجنسی نےایک بیان جاری کیا ہے جس کو ذرائع ابلاغ نے کوریج دی ہے۔ اس بیان میں صیہونی وزیر جنگ لیبرمین کےبیانات کو گستاخی پر مبنی بیانات سے تعبیر کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کے قائد سے متعلق لیبرمین کے بیانات کو بیہودہ اور توہین آمیز بیانات قرار دیا گیا ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ صیہونی حکام اس طرح کے بیانات دے کر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا مقصد مشرق وسطی میں اپنے نسل پرستانہ اور غاصبانہ اقدامات سے عالمی رائے عامہ کی توجہ ہٹانا ہے۔ اس بات سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ شمالی کوریا کی ایٹمی سرگرمیاں اور ایٹم بم بنانا درست یا غلط اقدام ہے وہ کونسا شخص ہے جس کو معلوم نہیں ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کی بھینٹ کتنے لوگ چڑھے ہیں اور اس حکومت نے البتہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے بغیر ہی کتنی بڑی تعداد میں انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیلا ہے۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ واقعی عالمی سطح پر کیا شمالی کوریا نے امن کو تباہ کیا ہے یا غاصب اسرائیل نے؟

صیہونی حکومت ایسی حالت میں شمالی کوریا کو بدامنی پیدا کرنے والا ملک قرار دے رہی ہے کہ جب خود اس کے اپنے پاس دو سو پچاس سے زیادہ ایٹمی وارہیڈز موجود ہیں اور اس نے حالیہ برسوں کے دوران انتہائی بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ پٹی کے فلسطینیوں کا قتل عام کیا ہے اور کوئی بھی ادارہ اسرائیل کے اس غیر انسانی اقدام پر پردہ نہیں ڈال سکا ہے۔ یہ بات بجاطور پر کہی جاسکتی ہے کہ شمالی کوریا اس پوزیشن میں آگیا ہے کہ وہ بڑی آسانی کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی درندگی کی تشریح کرسکتا ہے اور اس کا مرقع کھینچ سکتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دنیا کے بہت سے لوگ اور بعض حکومتیں اپنے بعض خدشات کے باوجود شمالی کوریا کو ہی حق پر سمجھیں گی۔ عالمی رائے عامہ اس بات سے آگاہ ہے کہ شمالی کوریا نے کسی بھی ملک کی سرزمین پر قبضہ نہیں کیا ہے، کسی بھی ملک کے لوگوں کا محاصرہ نہیں کیا ہے، کسی بھی ملک کے لوگوں کا پانی بند نہیں کیا ہے اور ان تک اشیائے خورد و نوش کی رسائی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران غزہ میں جو واقعات پیش آئے ان سے فلسطینی عوام اور غزہ پٹی کے باشندوں کے خلاف اسرائیلی حکام کی سنگدلی کی عکاسی ہوتی ہے۔ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ صیہونی حکومت کے لئے دنیا میں موجود تیئیس ہزار ایٹمی وارہیڈز تشویش کا باعث نہیں ہیں لیکن کسی ملک کا اپنے دفاع کے لئے ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ہونا تشویش کا باعث ہے؟

واضح رہے کہ شمالی کوریا نے شام کے علاقے الشعیرات میں اس ملک کی فوجی چھاؤنی پر امریکہ کے حالیہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی اس حملے میں شام کے متعدد شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے۔اس کے علاوہ شمالی کوریا نے جنگ غزہ میں اسرائیل کے جنگی اور غیر انسانی اقدام کی مذمت کی تھی حالانکہ اس وقت اسلامی ملکوں کی جانب سے غزہ اور لبنان پر صیہونی حکومت کے حملوں کی مذمت کئے جانے کی توقع کی جا رہی تھی۔ ترکی وہ پہلا اسلامی  جس نے سنہ 1948 ع کے  بعد اسرائیل کو تسلیم کیا اور سنہ 1950 ع نیٹو میں رکنیت حاصل کرنے کی صورت میں اس کی پاداش حاصل کی تو شمالی کوریا کا دوسرے ممالک کے ساتھ سیاسی اور نظریاتی اختلافات رکھنے کے باوجود اسرائیل کے مقابلے میں آنا ایک واضح سی بات ہے۔