شام کی صورتحال کے بارے میں اردوغان کے متضاد بیانات
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i281210-شام_کی_صورتحال_کے_بارے_میں_اردوغان_کے_متضاد_بیانات
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ایک بار پھر شام سمیت مشرق وسطی کی صورتحال میں ترکی کو ایک موثر ملک کے طور پر پیش کرنے کے مقصد سے تضاد بیانی سے کام لیا ہے اور انہوں نے انقرہ کی ماضی کی کارکردگی کو نظرانداز کر دیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۳۰, ۲۰۱۷ ۱۳:۳۹ Asia/Tehran
  • شام کی صورتحال کے بارے میں اردوغان کے متضاد بیانات

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ایک بار پھر شام سمیت مشرق وسطی کی صورتحال میں ترکی کو ایک موثر ملک کے طور پر پیش کرنے کے مقصد سے تضاد بیانی سے کام لیا ہے اور انہوں نے انقرہ کی ماضی کی کارکردگی کو نظرانداز کر دیا ہے۔

ترکی کے لڑاکا طیاروں نے گزشتہ منگل کو عراق کے شمالی اور شام کے شمال مشرقی علاقوں پر حملے کئے تھے ۔ ان حملوں میں متعدد عام شہری کہ جو کرد تھے اور پیشمرگہ فورس کے اہلکار مارے گئے تھے۔ ترک صدر نے ان حملوں کو نظر انداز کرتے ہوئے عراق کے علاقے کردستان  کے سربراہ اور عوام کو تسلی دینے کی کوشش کی ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے عراق کے کردستان کے علاقے کے سربراہ نیچروان بارزانی کے ساتھ ملاقات میں سنجار میں پیشمرگہ فورس کے اہلکاروں پر حملے کو غلطی سے کیا جانے والا حملہ قرار دیا اور اس حملے میں زخمی ہونے والوں کے علاج کے لئےترکی کی آمادگی کا اعلان کیا۔

رجب طیب اردوغان نے یہ نہیں کہا کہ وہ عراق کے علاقے سنجار اور شام کے علاقے دریک پر ترکی کے لڑاکا طیاروں کے حملوں میں مارے جانے والوں کے لواحقین کا دکھ بانٹنے کے لئے کیا کریں گے۔ اس کے باوجود اردوغان نے جمعے کے دن استنبول میں بارزانی کے ساتھ ملاقات میں پی کے کے کے افراد کو پسپائی پر مجبور کرنے کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا۔ اردوغان کا کہنا ہے کہ ان افراد نے عراق کے علاقے کردستان میں پناہ لے رکھی ہے۔ اردوغان نے اشارے کنائے میں اس ملاقات کے دوران انقرہ اور اربیل تعلقات میں تقویت کو باہمی اختلافی امور کے حل کی شرط قرار دیا۔ سنجار میں رونما ہونے والے واقعے پر ترک صدر کے افسوس سے اس بات کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ ترکی کے لڑاکا طیارے غلطی سے یا جان بوجھ کر اپنے دوستوں اور دشمنوں کو نشانہ بناتے ہیں اور اس مرتبہ ترکی کے کرد اور پیشمرگہ فورس کے افراد ان حملوں کی بھینٹ چڑھے ہیں۔

اس صریح اعتراف کے ساتھ ساتھ ترک صدر نے یہ دعوی کیا ہے کہ ترکی امریکہ کے ساتھ مل کر شام میں رقہ کے علاقے کو دہشت گرد گروہ داعش کے قبرستان میں تبدیل کرسکتا ہے۔ یہ بیانات ایسی حالت میں دیئے گئے ہیں کہ جب ترکی اور شام کی رائے عامہ کو الباب شہر کو داعش کے عناصر سے خالی کرنے اور اسے ترکی کے فوجیوں کے حوالے کرنے سے متعلق داعش کے ساتھ انقرہ کا خفیہ معاملہ ابھی تک بھولا نہیں ہے۔ اس لئے رقہ کو داعش کے قبرستان میں تبدیل کئے جانے یا اس علاقے کو اس دہشت گرد گروہ کے عناصر کے فرار کا راستہ بنائے جانے کا معاملہ ایسا ہے جس کی وجہ سے دہشت گرد گروہ داعش کے ساتھ امریکہ اور ترکی کے مشترکہ مقابلے سے متعلق ترکی کے صدر کے ہر دعوے کے آگے سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔

خطے کی رائے عامہ کا خیال ہے کہ امریکہ اور ترکی ہی عراق اور شام میں دہشت گرد گروہ داعش کو وجود میں لائے ہیں اور یہی دو ممالک اس گروہ کی حمایت کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے خطے کی رائے عامہ یہ توقع کر رہی ہے کہ اردوغان اور ٹرمپ کو دہشت گرد گروہ داعش کے ساتھ مقابلے کے نعروں کے پیچھے چھپنے کے بجائے داعش کی جانب سے زہریلے اور کیمیاوی مواد استعمال کئے جانے کی حقیقت کو قبول کرتے ہوئے ان ہتھیاروں اور مواد کے استعمال سے متعلق پائےجانے والے ابہامات کو ہمیشہ کے لئے ختم کردینا چاہئے اور دہشت گردی کے خلاف اپنے سیاسی نعروں کو کم از کم قابل قبول اور معقول رویئے میں ہی تبدیل کر لینا چاہئے۔ دہشت گرد گروہ داعش کے ساتھ ترکی کے مقابلے کے بارے میں اردوغان کے بیانات خاص طور پر اس بیان سے، کہ کوئی شخص بھی اس ملک کے عوام کے ساتھ کھلواڑ نہیں کرسکتا ہے، اس حقیقت کی عکاسی ہوتی ہے کہ اردوغان اور حکمران جماعت ترقی و انصاف کے رہنماؤں کے سوا کوئی بھی علاقے اور ترکی کے حالات کے بارے میں ترکی کی رائے عامہ کے ساتھ کھلواڑ نہیں کرسکتا ہے۔