شام اور عراق میں امریکہ کے ہاتھوں عام شہریوں کا قتل عام جاری
شام میں دہشت گردی مخالف نام نہاد امریکی اتحاد کے تازہ ترین حملوں میں کم از کم آٹھ عام شہری جاں بحق ہوگئے-
شام کے بعض ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ صرف شہر الطبقہ کے الوہب علاقے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد امریکہ کے نام نہاد اتحاد کے حملوں میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں- یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی وزارت دفاع نے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے امریکی کمان کے تحت داعش مخالف اتحاد کے حملوں میں کہ جن کا آغاز شام اورعراق میں دوہزار چودہ سے شروع ہوا ہے اب تک 352 عام شہری مارے گئے ہیں- شام اور عراق میں امریکہ کے ہاتھوں عام شہریوں کی جانوں کے ضیاع کے بارے میں واشنگٹن کے پیش کردہ اعداد وشمار، بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے پیش کئے گئے اعداد وشمار سے بہت کم ہیں-
ایسے حالات میں امریکہ اپنی بعض جارحیتوں کا اعتراف کرنے کے ذریعے اس کوشش میں ہے کہ شام اور عراق میں اس کے ہولناک اقدامات کا پردہ فاش نہ ہونے پائے- امریکہ کے ان فریبی اقدامات کے خلاف رائے عامہ نے وسیع پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے عراق میں امریکہ کے مداخلت پسندانہ اقدامات روکے جانے کا مطالبہ کیا ہے- مانٹیرنگ گروپ " ایرورز " کے جائزے سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ شام اور عراق میں امریکی اتحاد کے ہوائی حملوں میں کم از کم ڈھائی ہزار عام شہری مارے گئے ہیں- واضح رہے کہ امریکا نے داعش کا مقابلہ کرنے کے بہانے دوہزار چودہ میں ایک اتحاد تشکیل دیا تھا اور اس کے بعد سے وہ مسلسل شام میں فوجی اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے، اور عام شہریوں کا قتل عام کر رہا ہے-
شامی حکومت اور مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی قیادت والے داعش مخالف نام اتحاد کے حملوں میں زیادہ تر شام کے عام شہری اور شامی تنصیبات ہی نشانہ بنتی ہیں یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی اتحاد نے شام میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بہانے اپنے ان حملوں کی نہ تو شامی حکومت سے اجازت لی ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ سے اجازت مانگی ہے۔ اس درمیان امریکا اپنی فریب کاریوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے یہ دعوے کرتا ہے کہ شام اور عراق میں غلطی سے عام شہری اس کے حملوں کا نشانہ بن جاتے ہیں جب کہ اس کا خود یہ کہنا ہے کہ اس کے پاس دنیا کے سب سے زیادہ جدید ترین فوجی اور انٹلی جینس آلات و وسائل موجود ہیں۔
شام میں مسلح دہشت گرد گروہوں کی جنگ افروزی میں اب تک سیکڑوں عام شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں اور لاکھوں افراد بے گھر بھی ہوئے ہیں- یہ ایسی حالت میں ہے کہ مغرب نے شام اور عراق میں مداخلت پسندانہ فوجی اقدامات کے ذریعے اپنے توسیع پسندانہ اقدامات کے حصول اور ان دونوں ملکوں میں عام شہریوں کے قتل عام کے لئے دہشت گردوں کی حمایت میں اضافہ کردیا ہے-
حالیہ برسوں میں بارہا ایسی رپورٹیں شائع ہوئی ہیں کہ جن میں امریکی حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کا ذکر کیا گیا ہے- امریکی حکام علاقے میں اپنے اہداف حاصل کرنے کے لئے کوئی ہتھکنڈہ اپنانے سے دریغ نہیں کرتے - علاقے خاص طورپر عراق اور شام میں عام شہریوں کو بمباری کا نشانہ بنانے سے امریکہ کے دہشت گردی مخالف دعوے کی قلعی کھل جاتی ہے- بہرحال امریکا کے اقدامات نے امریکی حکام کی تشدد پسندانہ ماہیت کو پہلے سے بھی زیادہ آشکارہ کر دیا ہے اور یہ ثابت ہوگیا ہے کہ وہ اپنے ناپاک مقاصد کے حصول کے لئے علاقے میں جرائم کا ارتکاب کرنے میں کسی بھی حد کا قائل نہیں ہے اور اس کے وحشیانہ حملوں میں شام اور عراق جیسے ملکوں میں صرف تباہی پھیل رہی ہے۔