جنگ یمن میں سعودی حکومت کے ساتھ جرمنی کا اشتراک و تعاون
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i281328-جنگ_یمن_میں_سعودی_حکومت_کے_ساتھ_جرمنی_کا_اشتراک_و_تعاون
جرمن چانسلر انجلا مرکل نے اپنے دورہ سعودی عرب میں یمن کے خلاف ریاض کے فوجی حملے بند کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے- مرکل نے اتوار کے روز سے سعودی عرب کے دورے کا آغاز کیاہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
May ۰۱, ۲۰۱۷ ۱۳:۴۷ Asia/Tehran
  • جنگ یمن میں سعودی حکومت کے ساتھ جرمنی کا اشتراک و تعاون

جرمن چانسلر انجلا مرکل نے اپنے دورہ سعودی عرب میں یمن کے خلاف ریاض کے فوجی حملے بند کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے- مرکل نے اتوار کے روز سے سعودی عرب کے دورے کا آغاز کیاہے-

انہوں نے جدہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں اقوام متحدہ کے زیرنگرانی یمن کے بحران کا سیاسی حل نکالا جاسکتا ہے اور جنگ یمن میں فوجی اقدام کی ضرورت نہیں ہے- مرکل نے ساتھ ہی یمن میں انسانی المیے کی روک تھام کے لئے ضروری اقدامات عمل میں لائے جانے کی ضرورت پر تاکید کی-

 جرمن چانسلر یمن کے خلاف سعودی حکومت کے حملے بند کئے جانے اور یمن کی جنگ کے تعلق سے سیاسی راہ حل میں پیشرفت کی ضرورت کے بارے میں ایسے میں بیان دے رہی ہیں کہ برلن خود سعودی حکومت کو ہتھیار فروخت کرنے والے اور سعودی فوجیوں کو ٹریننگ دینے والے اہم ملکوں میں سے ایک ہے-

درحقیقت مرکل نے یمن کے خلاف سعودی حکومت کی جنگ جاری رہنے کے بارے میں ایک بام دو ہوا کی پالیسی اپنا رکھی ہے اور ہم برلن اور ریاض کے درمیان فوجی تعاون جاری رہنے کا مشاہدہ کر رہےہیں- اسی سلسلے میں جرمنی اور سعودی عرب نے ایک سمجھوتے پردستخط کئے ہیں کہ جس کے تحت سعودی فوجی ، جرمن فوجیوں سے مشترکہ فوجی اڈوں میں ٹریننگ حاصل کرتے ہیں- اسی طرح ایک اور سمجھوتہ دونوں فریقوں کے درمیان انجام پایا ہے کہ جس کی بنیاد پر جرمن کی فیڈرل پولیس، سعودی عرب کی سیکورٹی اور سرحدی فورسز کو ٹریننگ دیتی ہے-  جرمنی، سعودی عرب کو اسلحے فراہم کرنے والا اہم ملک ہے اور اس نے 2016 میں پچاس کروڑ یورو سے زیادہ کے ہتھیار ریاض کو فروخت کئے تھے-

جرمنی، جنگ یمن میں شامل سعودی اتحاد کے ملکوں کو بھی ہتھیار بیچ رہا ہے جیسا کہ برلن نے اپریل 2017 میں متحدہ عرب امارات کو 134 ملین ڈالر سے زیادہ کے ہتھیار فروخت کرنے سے متعلق سمجھوتہ طے پانے کی تصدیق کی ہے- جرمنی کے اس رویے کے خلاف وسیع پیمانے پر نکتہ چینی کی گئی ہے جیسا کہ اپوزیشن جماعتوں منجملہ گرین پارٹی نے سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کرنے پر مرکل حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے- اس پارٹی کے ترجمان کے بقول جرمنی کی حکومت، یمن کی خونریز جنگ میں شامل ملکوں کے ساتھ ہتھیاروں کے معاہدے منسوخ کرنے کے بجائے، ان کے ساتھ مزید معاہدے کر رہی ہے- جرمنی نے گذشتہ چند عشروں کے دوران ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ مشرق وسطی کی منڈی میں اس کا حصہ سب سے زیادہ ہو- اگرچہ جرمنی کی جانب سے ہتھیاروں کی فروخت سے صرف علاقائی تنازعات میں شدت آئی ہے اور درحقیقت یہ ملک عرب کی رجعت پسند حکومتوں کی حمایت کر رہا ہے- اور اسی تناظر میں سعودی عرب اور جنوبی خلیج فارس کے بعض ملکوں کو، جرمنی کی جانب سے فوجی ہتھیاروں کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے-

سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت کے سلسلے میں جرمنی کا اقدام دو مقصد سے انجام پا رہا ہے پہلا مقصد ، تو یہ ہے کہ جرمنی کی معیشت کو بہتر بنایاجائے اور جرمنی میں اسلحے کی صنعت کو فروغ دینے کے لئے اس صنعت میں ملک کے ہزاروں شہریوں کو روزگار پر لگایا جائے- اور دوسری جانب جرمن حکومت کی کوشش ہے کہ بیرون ملک ہتھیاروں کی فروخت اور برآمدات کے ذریعے جرمن کی معیشت میں رونق پیدا کی جائے- اس کے ساتھ ہی جرمنی ، وابستہ حکومتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے مغرب کی پالیسی کے دائرے میں، مشرق وسطی میں مغرب کے اتحادی ملکوں کو براہ راست ہتھیار فروخت کر رہا ہے اور ان ملکوں منجملہ سعودی عرب میں احتجاجی تحریکوں کو کچلنے میں ان کی مدد کر رہا ہے-

ان تمام باتوں کے پیش نظر مغربی ممالک منجملہ جرمنی نے نہ صرف سعودی عرب میں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر کی جانے والی خلاف ورزیوں سے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں بلکہ اس جارح حکومت نے گذشتہ پچیس مہینوں کے دوران یمن میں جن جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے ان سے بھی چشم پوشی کر رہا ہے- اس سے خود یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مغرب ، انسانی حقوق کے بارے میں دوہرا رویہ اپنائے ہوئے ہے- مغربی ممالک منجملہ جرمنی ، یمن کے عام شہریوں کے قتل عام کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی متعدد رپورٹوں کے باوجود، سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں کو بدستور ہتیھار فروخت کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ فوجی اور اسلحہ جاتی روابط قائم ہیں-