شام میں جنگ بندی پر امریکہ کی تاکید، باتیں ہیں یا عمل؟
روس اور امریکہ کے صدور نے شام میں جنگ بندی کے قیام پر تاکید کی ہے۔
کرملن ہاؤس نے اپنے ایک بیان میں روس اور امریکہ کے صدور کے درمیان ٹیلی فونی گفتگو کے بعد اعلان کیا ہے کہ فریقین نے جولائی کے مہینے میں اجلاس کے لئے کوشش اور شام میں جنگ بندی کے امور کی تقویت کے لئے اتفاق کیا ہے۔ اس بیان میں مزید آیا ہے کہ پوتین اور ٹرمپ نے بین الاقوامی دھشت گردی کے مقابلے کے لئے اپنے اقدامات کو ہماہنگ کرنے پر تاکید کی ہے۔ منگل کے دن پوتین اور ثرمپ کے درمیان ٹیلی ہونے والی ٹیلی فونی گفتگو، شام پر امریکہ کے چھے اپریل کے میزائیلی حملے کے بعد دونوں ملکوں کے رہنماؤں کا پہلا ٹیلی فونی رابطہ ہے۔ ٹرمپ نے چھے اپریل کو بقول ان کے خان شیخون شہر پر کیمیائی حملے میں شام کی حکومت کی شراکت کو بہانہ قرار دیتے ہوئے شام کے الشعیرات ایئر بیس پر انسٹھ میزائیل فائر کیئے تھے۔
اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر امریکہ کے اس حملے میں دس شامی فوجی جاں بحق ہوئے تھے۔ ٹرمپ کے اس اقدام نے امریکہ اور روس کے تعلقات کو شدید کشیدہ کردیا تھا۔ شام پر امریکہ کے میزائیلی حملے کے ساتھ ہی روس کے وزیراعظم دیمیتری مدودوف نے کہا تھا کہ دو ممالک روس اور امریکہ جنگ کے دہرانے پر پہنچ چکے ہیں۔ واشنگٹن نے روس کے ساتھ ممکنہ فوجی ٹکراؤ اور سیاسی دباؤ میں کمی کے لئے، امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن کو ماسکو بھیج دیا تھا۔ ٹیلر سن نے ماسکو پہنچنے سے پہلے نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس شام اور مغرب میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔ بہرحال روس کے حکام نے امریکی وزیر خارجہ کی اس قسم کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اعلان کیا کہ وہ شام کی قانونی حکومت کے لئے اپنی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے نے ماسکو میں ٹیلرسن کی موجودگی کے باوجود شام کی حکومت کی مذمت کے لئے امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مجوزہ قرارداد کو ویٹو کرتے ہوئے، شام کے حوالے سے اپنے ملک کی پالیسی کو واضح کردیا۔ ماسکو کا یہ اقدام واشنگٹن کے لئے ایک واضح پیغام تھا کہ روس مغربی ایشیا، خاص کر شام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر اپنے موقف پر قائم رہے گا۔ دوسری جانب شام کی ایئر بیس پر امریکہ کا میزائیلی حملہ بھی اس ملک کے سیاسی اور فوجی توازن میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرسکا۔ اس حملے کے بعد ابتدائی دنوں میں مغربی حکام نے دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے میزائیلی حملے کے ساتھ ہی شامی حکومت کمزور اور اس کے غیرملکی حامیوں منجملہ روس کی پالیسی میں بھی تبدیلی رونما ہوجائے گی اور ماسکو شام کے صدر بشّار اسد کی حمایت سے دستبردار ہوجائے گا۔
یہ ایسے عالم میں ہے کہ شام پر امریکہ کے میزائیلی حملے کو ایک ماہ کا عرصہ گذر رہا ہے اور شامی فوج دہشت گردوں کے مقابلے میں مسلسل کامیابیاں حاصل کررہی ہے۔ روس نے بھی اس دوران شام میں اپنی سیاسی اور فوجی موجودگی کی تقویت کی ہے، جبکہ شام کے خلاف مغربی اور عربی اتحاد میں گہرے شگاف پڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں امریکہ ایک مرتبہ پھر بحران شام کے حل کے لئے باہمی احترام کی بنیاد پر روس کے ساتھ کشیدہ تعلقات کی بہتری کے راستے پر گامزن نظر آتا ہے۔ بہرحال شام کے بحران کے حوالے سے امریکی حکومت کی نیت میں شکوک و شبہات ابھی بھی باقی ہیں۔ امریکی حکومت گذشتہ چھے برسوں کے دوران شام میں جنگ بندی کی برقراری اور بحران شام کے سیاسی طریقے سے حل کی ضرورت پر بارہا تاکید کرتی رہی ہے، لیکن دہشت گردوں اور شرپسندوں کی حمایت اور شام میں مداخلت پر مبنی امریکہ کی سرگرمیاں، واشنگٹن کی اعلان کی جانے والی پالیسیوں سے متضاد ہیں۔