پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی
اسپین بولدک میں پاکستانی اور افغان سیکورٹی گارڈز کی جانب سے ایک دوسرے پر فائرنگ کے بعد پاکستان کی حکومت نے اسلام آباد میں تعینات افغانستان کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے انھیں اپنے شدید احتجاج سے آگاہ کیا۔
پاکستانی فوج کی رپورٹ کے مطابق افغانستان نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ اس کے فوجیوں نے غلطی سے پاکستان کی مردم شماری کی ٹیم پر حملہ کیا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ اس فائرنگ میں پاکستان کے نو عام شہری جاں بحق اور چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔ جنوبی افغانستان میں واقع صوبہ قندھار کے گورنر صمیم خپلواک نے کہا ہے کہ سرحدی علاقے اسپین بولدک اور لقمان دیہات میں ان کے ملک کے فوجیوں کی پاکستانی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے۔ یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب پاکستانی فوجی لقمان دیہات میں مردم شماری کے سلسلے میں داخل ہونا چاہتے تھے لیکن افغان سیکورٹی فورسز کے اہلکار ان کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ پاکستانی اور افغان فوجیوں کے درمیان ایسی حالت میں ایک بار پھر جھڑپ ہوئی ہے کہ جب حال ہی میں پاکستان کے متعدد سیاسی اور فوجی وفود خصوصا پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ نے کابل کا دورہ کیا ہے اور اس بات کی امید پیدا ہوچکی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس کے باوجود حالیہ تین برسوں کے دوران پاکستان اور افغانستان کے وفود کے ایک دوسرے کے دارالحکومتوں کے دورے کامیاب نہیں رہے ہیں اور یہ دورے سرحدی جھڑپیں جاری رہنے کی وجہ سے ناکامی کا شکار ہوئے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ بعض خفیہ ہاتھ کابل اور اسلام کے تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی میں کمی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں بھی بارہا پیش آچکی ہے ۔ جب بھی ان دونوں ممالک کے سیاسی وفود کے درمیان اختلافات حل کرنے کے سلسلے میں اتفاق رائے پیدا ہوتا ہے تو پاکستان اور ہندوستان کی سرحدوں پر جھڑپیں شروع ہو جاتی ہیں۔ اگرچہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے مردم شماری کی ٹیم کے لقمان میں داخل ہونے کے بارے میں پہلے سے ہی افغان حکام کو آگاہ کر دیا تھا لیکن ایسا نظر آتا ہے کہ اس ٹیم کے ساتھ کچھ فوجی تھے جو افغانستان کے سرحدی محافظوں کے نزدیک مشکوک تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے فائرنگ شروع کر دی تھی۔
بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے تازہ دم فوجی جھڑپوں کی جگہ پر بھیجے گئے ہیں جس سے اس سلسلے میں شکوک پیدا ہوگئے ہیں کہ پاکستانی فوجیوں کی تعداد اس سے زیادہ تھی جو مردم شماری کی ٹیم کی حفاظت کے لئے ضروری تھی۔ پاکستانی حکومت ہر طرح کی جھڑپ کے بعد چمن سرحد کو بند کردیتی ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں پر خاص مقاصد کے تحت جھڑپیں ہونے کے بارے میں شکوک و شبہات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران فریقین کے لئے ایک بڑا مسئلہ مشترکہ سرحدوں پر سیکورٹی کا قیام رہا ہے اور اسی مسئلے کی وجہ سےدونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی ایک بڑی وجہ ڈیورنڈ لائن ہے۔ افغانستان اسے دونوں ملکوں کے درمیان بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کرتا ہے اور پاکستان کی جانب سے انجام پانے والے ہر طرح کے اقدام کو اپنی سرزمین کے خلاف جارحیت سے تعبیر کرتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے خاردار تار لگائے جانے اور دیوار تعمیر کئے جانے کے پیش نظر افغان حکام سرحدی مسائل کے سلسلے میں زیادہ حساس ہوگئے ہیں۔
بہرحال افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں دونوں ممالک کے عام شہری اور دیہی علاقوں کے لوگوں کا ہی جانی نقصان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی جانب سے سرحدی گزرگاہ بند کئے جانے سے سرحدی علاقوں کے لوگوں کو شدید اقتصادی اور معاشی نقصان ہوتا ہے اور بنیادی ضرورت کی اشیا تک ان کی رسائی بھی مشکل ہوجاتی ہے۔ اس لئے پاکستان اور افغانستان کے عوام خصوصا سرحدی علاقوں کے باشندے دونوں ممالک کے باہمی اختلافات کے خاتمے اور قیام امن کے خواہاں ہیں۔