شام میں ایران کے کردار کے بارے میں امریکہ کا بے بنیاد دعوی
قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شام کے مذاکرات کا چوتھا دور تمام نشیب و فراز کے ساتھ منعقد ہوا۔ روس، ترکی اور ایران نے ان مذاکرات کے اختتام پر اعلان کیا کہ شام کے بعض علاقوں میں تشدد میں کمی لانے کے سلسلے میں ان کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہوگیا ہے۔
جنوبی شام میں واقع صوبہ ادلب، شمالی حمص، غوطہ شرقی، درعا اور قنیطرہ ایسے علاقے ہیں جہاں تشدد میں کمی لانے کے سلسلے میں اتفاق رائے ہوا ہے۔ آستانہ چار مذاکرات اور اس سے قبل ہونے والے مذاکرات میں یہ فرق پایا جاتا ہے کہ آستانہ چار مذاکرات کے موقع پر شام کی حکومت کے بعض مخالف مسلح گروہوں پر شام کے الشعیرات ایئر بیس پر امریکہ کے محدود میزائلی حملے سے متاثر تھے۔ اسی وجہ سے شامی حکومت کے مخالف گروہوں کے نمائندوں نے امریکہ کے مواقف پر بھروسہ کرتے ہوئے ان مذاکرات کے انعقاد سے قبل ہی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دی تھیں۔ بعض مخالفین نے بے بنیاد بہانوں کے ساتھ مذاکرات کا بائیکاٹ کیا اور بعض نے شام میں ایران کے کردار کے بارے میں بعض بے بنیاد دعوے کئے۔ لیکن آخرکار ترکی نے شام کی حکومت کے مخالفین کی جانب سے اور ان کے ضامن کے طور پر اس سمجھوتے پر دستخط کر دیئے۔
امریکی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں اس سمجھوتے کا خیر مقدم کیا لیکن ساتھ ہی یہ دعوی بھی کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے آستانہ مذاکرات میں غیر تعمیری کردار ادا کیا اور اس نے شام میں تشدد کو ہوا دی۔ امریکی وزارت خارجہ نے یہ دعوی ایسی حالت میں کیا ہے کہ جب شام کے امور میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے اسٹیفن دی میستورا نے جمعرات کے دن کہا تھا کہ ان مذاکرات کے نتائج ایران، روس اور ترکی کی انتھک کوشش کی بدولت حاصل ہوئے ہیں۔ دی میستورا نے صراحت کے ساتھ کہا کہ ایران کی مسلسل کوشش شام میں کشیدگی میں کمی لانے سے متعلق سمجھوتے پر منتج ہوئی۔ آستانہ چار مذاکرات کے نتائج کو وسیع پیمانے پر سراہے جانے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ یہ سمجھوتہ شام میں بنیادی تبدیلی پر منتج ہوسکتا ہے۔ ان مذاکرات کے بارے میں کی جانے والی منفی قیاس آرائیوں اور تجزیوں کے باوجود اس سمجھوتے سے آگے کی جانب بڑھنے کی عکاسی ہوتی ہے۔
آستانہ چار مذاکرات کے دوران ہونے والا سمجھوتہ ایران اور روس کی جدت عمل اور ان کے بلاواسطہ کردار نیز ماسکو مذاکرات میں ترکی کے شامل ہونے کا نتیجہ ہے۔ شام میں جنگ بندی سہ فریقی ماسکو مذاکرات کا اولین نتیجہ تھا۔ شام کا بحران چونکہ وسیع پہلووں کا حامل ہے اور اس ملک کے امور میں کردار ادا کرنے والوں کی تعداد بھی زیادہ ہے انہی امور کے پیش نظر بہت کم لوگوں کو یہ توقع تھی کہ بیس دسمبر سنہ 2016 ع میں ماسکو میں ہونے والا سمجھوتہ آستانہ میں ایک واضح نتیجے تک پہنچ پائے گا۔ اب آستانہ چار مذاکرات کے دوران ہونے والے سمجھوتے کےمعنی یہ ہیں کہ یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہیں اور ان مذاکرات کے نتیجے میں شام میں قیام امن کی امید رکھی جاسکتی ہے۔
البتہ آستانہ چار مذاکرات کے اہداف قریب ہونے کے موقع پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب نے جس طرح اپنے اپنے بیانات میں آستانہ چار مذاکرات کے نتیجے کی حمایت کی ہے کیا وہ عملی طور پر بھی اس سمجھوتے کو قبول کریں گے اور اس پر عملدرآمد کے موقع پر اس کو برداشت کریں گے؟ دوسرا سوال یہ اٹھتا ہے کہ ٹرمپ کے عہد صدارت میں امریکہ کے ساتھ روس کے تعلقات کے تناظر میں اس سمجھوتے کی حمایت کہاں تک جاری رہے گی؟ بہرحال آستانہ چار سمجھوتہ تمام تر امیدوں اور اندیشوں کے باوجود شام کے امور میں کردار ادا کرنے والے تمام فریقوں کے لئے ایک نیا موقع ثابت ہوسکتا ہے۔ اس لئے جس زاویۓ سے بھی ان مذاکرات پر نظر ڈالی جائے شام کے چھے سالہ بحران کے سیاسی حل تک رسائی کے آثار نظر آتے ہیں۔ اس لئے آستانہ مذاکرات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کردار سے متعلق امریکہ کے بے بنیاد دعوے اس عمل کو متاثر نہیں کر سکتے ہیں۔ ان مذاکرات کی راہ میں پائی جانے والی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ آستانہ مذاکرات توقعات کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں اور اب آستانہ پانچ مذاکرات میں انجام دیئے جانے والے اقدامات کا انتظار کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ آستانہ پانچ مذاکرات جون میں ہوں گے۔