ایران ایسے نظر رکھے گا دشمن کی سرگرمیوں پر!!!
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل حسین دہقان نے استحکام، سلامتی اور توازن کی برقراری کے لئے مختلف میدانوں میں طاقت کا حامل ہونے کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر دفاعی صلاحیت کا حامل ہونا ایک ضروری اور ناگزیر امر ہے۔
وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل حسین دہقان نے ہفتے کے دن تہران میں تحقیقات، ٹیکنالوجی اور جدت پسندی سے متعلق چھٹے فیسٹیول میں اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ دشمن، ایران کو طاقت کے تمام عناصر سے محروم کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہا کہ دشمن، اسلامی انقلاب کو نقصان پہنچانے کے لئے اپنی تمام اقتصادی، سیاسی، فوجی، ثقافتی اور جاسوسی صلاحیتوں کو بروئے لا رہے ہیں اور اس کے ذریعے وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلاب کی پیشرفت اور اس کے نمونۂ عمل بننے کی روک تھام کرنا چاہتے ہیں اس لئے دشمن کے تمام اقدامات پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع نے یہ بیانات امریکہ کی ایران مخالف دھمکیوں کے ردعمل کے خلاف دیئے ہیں۔ یہ بیانات بہت صریح اور واضح موقف ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کے لئے انتباہ بھی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد بعض ایسے فیصلے کئے جا رہے ہیں جو خطے میں ایسے منفی نتائج کا سبب بن سکتے ہیں جن پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔ اسی وجہ سے دشمنوں کے اقدامات خصوصا اسلامی جمہوریہ ایران کے اقتدار اعلی کی پامالی سے متعلق اقدامات کےبارے میں حساس ہونا ضروری امر ہے۔ قرائن سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ اور برطانیہ خطے کے اپنے بعض اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر علاقائی ممالک کے لئے سازشیں تیار کر رہے ہیں اور افغانستان، عراق، شام، یمن اور لیبیا میں ان کی مداخلتیں اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
ان اقدامات پر نظر رکھنے پر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع کی تاکید سے خطے میں تسلط پسند طاقتوں کے خفیہ اہداف کے پہلووں کی شناخت کی عکاسی ہوتی ہے۔ امریکہ کے اقدامات کا پہلا مقصد خطے کا سیاسی نقشہ بدل کر اس علاقے میں اپنے اثر و رسوخ میں اصافہ کرنا ہے۔ اس نقشے کو عملی جامہ پہنانا امریکہ کی طویل المیعاد حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مشرق وسطی یا مغربی ایشیا کی تازہ ترین صورتحال پر ایک نظر ڈالنے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ امریکہ ، خطے کے بعض ممالک اور صیہونی حکومت خطے کو بدامنی کاشکار بنانے کے سناریو کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ اس لئے ہوشیاری اور دشمنوں کے اقدامات کی ماہیت کی شناخت کے ذریعے ہی اس سازش کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال میں دشمنوں کی سازش سے معمولی سی غفلت بھی امریکہ کو اس کے اہداف کے قریب کر دے گی۔ امریکہ کے زیر قیادت تسلط کے نظام کا مقصد خطے کی اقوام میں اختلافات ڈال کر ان کو وابستہ کرنا ہے۔ اس مقصد کے لئے امریکہ کبھی قوم پرستی کا سہارا لیتا ہے اورکبھی علیحدگی پسندی کا۔ اگر ان سازشوں کو ٹھیک طرح سے سمجھا نہ گیا تو امریکہ شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس صورتحال میں سلامتی کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ دشمنوں کے اقدامات پر نظر رکھنا بھی اردگرد کے ماحول اور خطرات کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے اور اسی سے سلامتی کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع نے استحکام، سلامتی اور توازن کی برقراری کے لئے مختلف میدانوں میں طاقت کا حامل ہونے کو ضروری قرار دیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران دہشت گردی کے مقابلے کے بارے میں اپنے واضح موقف پر تاکید کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں امریکہ کی مہم جوئی پر گہری نظر رکھے گا اور یقینا وہ امریکہ کو کشیدگی پھیلانے کا موقع نہیں دے گا۔