عراق میں داعش کی بربریت میں شدت
عراق میں فوج اور عوامی رضاکار فورس کے مقابلے میں داعش کو شکست ملنے کے بعد اس گروہ کی جارحیتوں میں اضافہ ہوا ہے-
شمالی عراق کے صوبے نینوا کے سیکورٹی حکام نے اعلان کیا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش نے شہر موصل کے مغرب میں ایک بازار پر میزائل سے حملہ کیا ہے جس میں چارعراقی جاں بحق جبکہ تیرہ دیگر زخمی ہوگئے -
دوسری جانب عراقی اہلسنت علما کی کمیٹی نے بھی اعلان کیا ہے کہ گذشتہ جمعرات کو امریکہ کی سرکردگی میں داعش مخالف نام نہاد اتحاد کے جنگی طیاروں نے موصل میں الولا اسکول پر دانستہ طور پر بمباری کی ہے۔ عراق میں موصل کے مغرب میں واقع تموز کے علاقے میں الولا اسکول پر امریکی اتحاد کے جنگی طیاروں کی بمباری میں اسّی افراد جاں بحق اور سو سے زائد زخمی ہوگئے تھے- عراق کے اہل سنت علما کی کمیٹی نے ایک بیان میں اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس بربریت کا ذمہ دار، امریکی اتحاد کو قرار دیا ہے اور تاکید کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ اسکول پر دانستہ طور پر بمباری کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ موصل کو آزاد کرائے جانے کی کارروائی گذشتہ سال اکتوبر میں عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی کے حکم سے شروع ہوئی ہے۔ عراق میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور حملوں کے خطرات میں آئے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور بہت زیادہ افراد مارے جارہے ہیں جس سے ایک بار پھر یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ عراقی شہریوں کے قتل عام میں امریکہ اور دہشت گرد ملوث ہیں۔ امریکہ عراق سمیت مختلف ممالک میں اس طرح کے جرائم کا ارتکاب کرنے کے بعد ان کو جائز ثابت کرنے کے لئے کہتا ہےکہ یہ حملہ غلطی سے ہوگیا یا یہ حملہ اس ملک کی حکومت کی درخواست پر کیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا نام نہاد اتحاد عراق میں عملی طور پر اس ملک کے عوام کا ہی قتل عام کر رہا ہے اور اس اتحاد کے اقدامات کی وجہ سے دہشت گردی کے مقابلے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
عراق کی بنیادی تنصیبات اور اہم مراکز پر بار بار کے فضائی حملوں اور امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے لڑاکا طیاروں کی بمباری میں عام شہریوں کے قتل عام سے دہشت گرد گروہ داعش کے مقابلے میں ان کی ماہیت کھل کر سامنے آچکی ہے۔ موصل سمیت عراق کے بعض علاقوں میں امریکیوں اور دہشت گردوں نے جو تباہی مچائی وہ اس قدر زیادہ ہے کہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ موصل کی تعمیر نو کے لئے دس سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ امریکی اتحاد نے عراق میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس ملک کی بنیادی تنصیبات کو اپنا نشانہ بنا رکھا ہے اور عراق اور شام میں اس اتحاد کی جانب سے کی جانے والی تباہی و بربادی سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نہ صرف داعش کے مقابلے میں سنجیدہ نہیں ہے بلکہ وہ خطے میں دہشت گردوں کو اپنے مفادات کے لئے ایک حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
امریکہ کے اقدامات کے بعد علاقے کی رائے عامہ کے درمیان تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امریکہ کے جرائم و مظالم کے بارے میں جاری ہونے والی مختلف رپورٹوں کے بعد امریکی حکام کے پاس عراق اور شام میں اپنے جرائم و مظالم کا اعتراف کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ہے ۔
دریں اثناء امریکہ، اپنے بعض جرائم کا اعتراف کرنے کے ذریعے عراق و شام کی بنیادی تنصیبات کو تباہ اور عوام کا قتل عام کرنے پر مبنی اپنے ہولناک جرائم پر پردہ ڈالنے کے درپے ہے۔ امریکہ کے یہ اقدامات رائے عامہ کے وسیع اعتراضات اورعراق میں امریکہ کے مداخلت پسندانہ اور خود سرانہ اقدامات کے روکے جانے کے مطالبے پر منتج ہوئے ہیں۔ داعش دہشت گرد گروہ نے دوہزار چودہ سے امریکہ اور اس کے مغربی حامیوں اور بعض عرب ملکوں منجملہ سعودی عرب اور ترکی کی مالی اور فوجی حمایت کے ذریعے عراق پر حملہ کرکے اس ملک کے شمال اور مغرب کے وسیع علاقوں پر اپنا قبضہ جمالیا اور بہت زیادہ جارحیتیں انجام دی ہیں اور عراق اور شام کے مظلوم عوام کے خلاف کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال بھی داعش کی جارحیتوں میں شدت کی علامت ہے- قابل غور نکتہ تو یہ ہے کہ داعش دہشت گرد مغربی اور عرب ملکوں کی حمایت سے شام اور عراق کے عوام پر اپنے کیمیاوی حملوں پر پردہ ڈالنے اور اس مسئلے سے رائےعامہ کی توجہ ہٹانے کے لئے ان کیمیاوی حملوں کا الزام عراق اور شام کی حکومتوں پر عائد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حملے خود ان حکومتوں نے کئے ہیں-
یہ ایسی حالت میں ہے کہ جنگی کارروائیوں میں داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے توسط سے بارہا کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے سبب، کیمیاوی دہشت گردی کا خطرہ بہت ٹھوس اور ہمہ گیر صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے اس لئے اس کے خلاف عالمی سطح پر مقابلے کی ضرورت ہے- اس سلسلے میں کسی بھی قسم کا لیت و لعل اس بات کا باعث بن سکتا ہے کہ اس کے نتائج شام اورعراق تک ہی محدود نہ رہ جائیں اور دنیا کے دیگر علاقے بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں- خطے کی کم از کم حالیہ پندرہ برسوں کی تاریخ سے اس بات کا پتہ چلتا ہےکہ امریکہ نے جہاں بھی فوجی مداخلت کی ہے وہاں اس نے سب کچھ تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے اور امریکہ کے زیر قبضہ علاقوں میں تباہ کن اور خطرناک گروہوں نے جنم لیا ہے۔ ان حالات میں عراق کی رائے عامہ نے مطالبہ کیا ہےکہ عراق میں امریکہ ، دہشت گردی کے مقابلے کے بہانے جن سازشوں کو عملی جامہ پہنا رہا ہے ان کے بارے میں وسیع پیمانے پر تحقیقات کی جائیں تاکہ عراق میں امریکہ کی مداخلتوں اور اس کے قبضے کے خطرناک نتائج دنیا والوں کے سامنے آسکیں۔