پاکستان کی سرحد پر شیعہ زائرین کے ساتھ بد سلوکی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i282226-پاکستان_کی_سرحد_پر_شیعہ_زائرین_کے_ساتھ_بد_سلوکی
دسیوں پاکستانی زائرین کو جو ایران اور عراق میں شیعوں کے مقدس مقامات کی زیارت کرکے اپنے وطن کو لوٹ رہے تھے، تفتان میں روک لیا گیا اور انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
May ۰۹, ۲۰۱۷ ۱۲:۳۰ Asia/Tehran
  • پاکستان کی سرحد پر شیعہ زائرین کے ساتھ بد سلوکی

دسیوں پاکستانی زائرین کو جو ایران اور عراق میں شیعوں کے مقدس مقامات کی زیارت کرکے اپنے وطن کو لوٹ رہے تھے، تفتان میں روک لیا گیا اور انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے-

پاکستان کے مظلوم شیعہ مسلمان جو بے پناہ مالی مشکلات کے باوجود عراق میں مقامات مقدسہ اور ایران کے شہر مشہد میں شیعوں کے آٹھویں امام کے حرم کی زیارت کے لئے سختیاں برداشت کرنے کے بعد ان ملکوں میں آتے ہیں لیکن جب وہ واپس جاتے ہیں تو ایران کی سرحد عبور کرتے ہی تفتان میں انہیں بارہا بد سلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا پھر پاکستان کی حکومت انہیں کسی جگہ محصور کردیتی ہے- یہ زائرین کہ جن میں عورتیں اور بچے بھی ہیں پندرہ دنوں سے زیادہ ہوگئے تفتان جیسے چھوٹے سے شہر میں کہ جہاں ابتدائی وسائل کا بھی فقدان ہے، پھنسے ہوئے ہیں اور پاکستان کی حکومت، سیکورٹی مسائل کے بہانے ان کو نکلنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے-  شہر تفتان ، بلوچستان کے بیابانی علاقوں میں واقع ہے اور یہاں پرمتعدد دہشت گردانہ حملوں میں دسیوں شیعہ زائرین شہید ہوچکے ہیں اور ان مظلوم شیعوں کے خلاف دہشت گردانہ حملوں میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے- ان زائرین نے دوہفتہ گذرنے اور پاکستان کی حکومت کی جانب سے بے توجہی برتے جانے کے بعد اصلی سرحدی شاہراہ پر دھرنا دے کر بند کر دیا  اور انہوں نے پاکستان کی حکومت کی طرف سے ٹھوس اقدام عمل میں لائے جانے اور اپنے گھروں کو واپسی کی اجازت ملنے کا مطالبہ کیا-

تازہ ترین خبر کے مطابق پاکستانی زائرین نے تفتان کی سرحد میں پاکستانی انتظامیہ اور فورسز کے رویے کے خلاف احتجاجاً دھرنا دیا اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے اور دو روز تک جاری رہنے والے دھرنے کے بعد مذاکرات ہوئے اور انتظامیہ کی جانب سے زائرین کے مسائل و مشکلات کو فوری طور پر حل کرنے کی یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کردیا گیا۔ 

پاکستان کے شیعہ علماء اور برادری کی بہت زیادہ کوششوں کے باوجود اس ملک کی حکومت نے ایران و عراق کے مقدس مقامات کے زائرین کو آرام و آسائش اور سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیا ہے-

اس سے قبل اربعین حسینی کے موقع پر بھی پاکستانی زائرین نے، شہریوں کے کمترین حقوق سے پاکستانی حکومت کی بے توجہی سے متعلق بہت زیادہ شکایتیں کی تھیں- یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان کے شیعہ زائرین کے ساتھ  ایران سے واپسی پر، سرحد پر بدسلوکی سے پیش آیا جاتا ہے - واپسی میں ان زائرین پر یا تو دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر حملے کردیتے ہیں کہ جن کا تعلق لشکر جھنگوی یا سپاہ صحابہ سے ہوتا ہے یا پھر انہیں پاکستان کے سرحدی محافظوں کی جانب سے ایذائیں پہنچائی جاتی ہیں- پاکستان کے صوبۂ بلوچستان میں حال ہی میں شیعہ زائرین کی بس پر ہونے والے حملے میں تیس شہری شہید ہوگئے تھے کہ جن مین عورتیں اور بچے بھی شامل تھے- اسلامی جمہوریہ ایران سے واپسی کے وقت شیعہ زائرین کی صورتحال سے پاکستانی حکام کی بے توجہی نے اس ملک کے عوام کے غم و غصے کو بھڑکا دیا ہے-

اسی سلسلے میں مجلس وحدت مسلمین کے سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے تفتان میں شیعہ زائرین کے قتل عام اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے اس صورتحال سے فوری طور پر نمٹنے کا مطالبہ کیا ہے - پاکستان کے عالم دین  سید موسی رضا نقوی نے بھی شیعہ زائرین کے ساتھ پاکستان کے سرحدی محافظوں کی بدسلوکی پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سالانہ لاکھوں عاشقان امام علی رضا علیہ السلام ، زیارت کے لئے ایران کا سفر کرتے ہیں کہ جنہیں بہت زیادہ مسائل و مشکلات کا سامنا ہے اور یہ مسئلہ سیکورٹی کے اہم ترین مسائل میں سے ہے-  

زائرین کو شہر کوئٹہ تک پہنچنے میں سرحد پر بہت بدامنی کا سامنا رہتا ہے- پاکستان کے سرحدی محافظین بھی ان کے لئے مزاحمت ایجاد کرتے ہیں- جن بسوں پر ان زائرین کو پاکستان منتقل کرنے کے لئے سوار کیا جاتا ہے ان کے ڈرائیور بھی ہندوستان کی ایسی بیہودہ فلمیں دکھاتے ہیں جو زائرین کے لئے مناسب نہیں ہوتیں اور زائرین کو روحانی اور نفسیاتی طور پر اذیت ہوتی ہے-

سرحد پر زائرین کے ساتھ بدسلوکی، چند مقاصد کے تحت انجام پاتی ہے- اول تو یہ کہ وہابی حلقوں اور سعودی عرب کی جانب سے اس قسم کے رویے، پاکستانی شیعوں کے ساتھ سخت برتاؤ روا رکھے جانے کے سبب انجام پاتے ہیں- دوسرا مقصد یہ ہے  مقدس مقامات کی زیارت کو جانے والے زائرین کو قتل کرنے کے ذریعے ان کو زیارت کے سفر پر جانے سے روکا جاسکے- اور تیسرا مقصد شیعوں کو ایذائیں پہنچانے کے ذریعے سعودی وہابیوں کی خدمت انجام دینا ہے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ شیعہ زائرین سے حکومت پاکستان کی بے توجہی ، ممکن ہے اس ملک کی سیاحت کی صنعت پر منفی اثر مرتب کرے اور پاکستان کے تشخص کو، جو زائرین کو سیکورٹی فراہم کرنے پر توجہ نہیں دیتی، مزید خراب کردے-