May ۱۰, ۲۰۱۷ ۱۷:۲۷ Asia/Tehran
  • اسرائیلی حکومت کے ساتھ تعلقات کی بحالی، بحرینی عوام کی ریڈ لائن

بحرین کے عوام اور سیاسی گروہوں نے صیہونی حکومت کے ایک وفد کے دورہ منامہ کے خلاف کے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے-

صیہونی حکومت کا ایک وفد منگل کے روز فیفا کے اجلاس میں شرکت کے لئے بحرین کے دارالحکومت منامہ پہنچا تھا - اللؤلؤ ٹیلی ویژن چینل نے خبردی ہے کہ منامہ میں فیفا کے اجلاس میں صیہونی حکومت کے وفد کی شرکت پر بحرینی عوام میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے صیہونی حکومت کے وفد کے دورہ بحرین کے خلاف مظاہرہ کیا - بحرین کی سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی متعدد تنظیموں نے بحرین میں اسرائیلی وفد کی موجودگی کی مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ صیہونیت مخالف فلسطینی مجاہدین کی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں- بحرین کی ان تنظیموں نے صیہونی حکومت کے اس وفد کی فیفا کےاجلاس میں شرکت کو غاصبوں کے ساتھ تعلقت کی بحالی قرار دیا ہے-

بحرینی علماء نے بھی صیہونی حکومت کے وفد کی، اپنے ملک کے دورے کی مذمت کی ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ آل خلیفہ کے ذریعے اس مجرم وفد کا استقبال ، بحرینی عوام سے حکومت کی مکمل جدائی و لاتعلقی اوراس سے متلعق اہم مسائل کو ثابت کرتا ہے- یہ پہلی بار نہیں ہے کہ صیہونی وفد نے بحرین کا دورہ کیا ہے اس سے قبل بھی گذشتہ سال کے اواخر میں انتہا پسند صیہونیوں کے ایک گروہ نے منامہ کا سفر کیا تھا اوربحرینی تاجروں کی شرکت سے اپنا یہودی جشن منایا تھا- آل خلیفہ حکومت کے یہ اقدامات آل سعود حکومت سے ہم آہنگ ہیں کہ جو فلسطین جیسے اہم اور بنیادی مسئلے کو نظرانداز کرکے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے درپے ہے-

جارح اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا مسئلہ عرب اور امت مسلمہ کی خواہش کے برخلاف ہے- اسرائیلی وفد کے دورہ منامہ کے موقع پر بحرین کے سیاسی گروہوں اور تنظیموں نیز علماء کی جانب سے وسیع پیمانے پر مخالفت اس بات کی غماز ہے کہ آل خلیفہ حکومت کا راستہ اور اس کی پالیسیاں عوامی راستے اور امنگوں سے جدا ہے اور بحرین کے عوام اور علماء ہرگز اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو تسلیم نہیں کریں گے-

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے خلاف علاقے کی سطح پر عوامی احتجاج ، فلسطینی عوام کے حقوق اور امنگوں کے دفاع کی علامت ہے جبکہ بعض عرب ممالک عوام کی اس اہم خواہش اور مطالبے کے برخلاف عمل کر رہے ہیں- آل سعود اور آل خلیفہ حکومتوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے اور وہ بدستور اپنے عوام کی خواہشوں اور امنگوں کے برخلاف قدم اٹھا رہی ہیں-

بحرینی حکمرانوں نے عوامی مطالبات کو کچلنے کے لئے وہی روش اپنائی ہے کہ جس پر صیہونی حکومت ستر سال سے عمل پیرا ہے اور فلسطینی سرزمینوں کے اصلی مالکوں سے زمینیں چھین کر ان پر قبضہ جما لیا ہے - بے گناہ اور نہتے عوام کو قتل کرنا ، انہیں ایذائیں پنہچانا اور شنکجے کسنا ، ان کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آنا اور جیلوں میں رکھنا، اسرائیل اور عرب کی رجعت پسند حکومتوں منجملہ بحرین کا مشترکہ رویہ اور طرزعمل ہے- عوام کو سرکوب کرنے اور انہیں قتل کرنے کی پالیسی نے اسرائیل، سعودی عرب اور بحرین کی حکومت کو انتہائی قابل نفرت بنا دیا ہے اور اس نفرت میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے اور فوج بھی عوامی غم وغصے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکی ہے-

اسرائیل کے جیلوں میں فلسیطینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال اور فلسطینی عوام بالخصوص جوانوں میں موجود مزاحمت کے جذبے میں شدت، اس بات کی علامت ہے کہ وہ غاصب اسرائیل کے خلاف اپنی تحریک انتفاضہ اور مزاحمت و استقامت جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں- فلسطینی عوام کی تحریک انتفاضہ نے اسرائیلی حکومت کو ٹھوس چیلنجوں سے دوچار کردیا ہے اور یہ انتفاضہ اس بات کی آئینہ دار ہے کہ ہرگز فلسطین میں اسرائیل کی کوئی جگہ نہیں ہے-

اسی تحریک انتفاضہ کا مشاہدہ بحرین میں کیا جا رہا ہے اور عوامی تحریک کہ جو اس ملک کے انقلاب اور مجاہد عالم دین شیخ عیسی قاسم کے دفاع اور حمایت میں جاری ہے، اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کی برقراری کی مخالف ہے- بحرین کے عوام،  فلسطینی عوام کے رنج  و آلام اور امنگوں کو نیز ان کے خلاف صیہونی حکومت کے مظالم اور بربریت کو ہرگز فراموش نہیں کریں گے- آل خلیفہ حکومت کی جانب سے اسرائیلی وفد کو قبول کرنے اور اس کا استقبال کرنے کے سبب ،  بحرینی عوام ، فلسطین کے مظلوم عوام کے دفاع سے ہرگز باز نہیں آئیں گے اور ان کا دفاع اور حمایت جاری رکھیں گے-  

   

               

ٹیگس