سرحد پر دہشت گردانہ کاروائیوں سے مقابلے کے لئے پاکستان موثر قدم اٹھائے
چھبیس اپریل کو پاکستان سے ملے سرحدی علاقے میرجاوہ میں پاکستانی علاقے سے دہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا جس میں ایران کے نو ، بارڈر سیکورٹی اہلکار شہید ہو گئے تھے جبکہ ایک زخمی سیکورٹی اہلکار کو ان دہشت گردوں نے پاکستان منتقل کر دیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل احمدرضا پوردستان نے منگل کو اس سلسلے میں کہا کہ میرجاوہ میں سرحدی پروٹوکول کی بنیاد پر، پڑوسی ملک کے توسط سے سرحد پر کنٹرول کئے جانے سے متعلق ایران کی بارڈر سیکورٹی فورسیز مطمئن تھیں اس لئے ان پر دہشت گردوں کا یہ اچانک حملہ ، پاکستان کی کمزوری کا غماز ہے-
بریگیڈیئر جنرل احمد رضا پور دستان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اس قسم کے حملوں کی سختی سے مذمت کرتی ہیں اور حکومت پاکستان کی جانب سے شرپسندوں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے میں ٹھوس قدم اٹھائے نہ جانے کی صورت میں، ایران کی مسلح افواج ان کے ٹھکانوں کو چاہے وہ پڑوسی ملک کی زمین کی کتنی گہرائی میں ہی کیوں نہ ہو انہیں تباہ کرنے کا مسلم اور قانونی حق رکھتی ہیں اور ایران اپنی سلامتی سے متعلق کسی قسم کا سودا نہیں کرے گا-
اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری نے بھی اس سے قبل کہا تھا کہ ایران اور پاکستان کی مشترکہ سرحد پر اس قسم کی صورتحال کا جاری رہنا تہران کے لئے ناقابل تحمل ہے اور پاکستانی حکام کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری سمجتھے ہوئے سرحدوں پر کنٹرول کریں اور دہشت گردوں کو گرفتار کرکے انہیں حوالے کئے جانے کے ساتھ ہی ان کے ٹھکانوں کو نیست و نابود کردیں -
واضح سی بات ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس کاروائی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اورایران اس قسم کی دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں بھی پرعزم ہے- ایران کے حکام نے پاکستان کے ساتھ سرحدی اور سیکورٹی اجلاسوں میں بارہا ، پاکستان کی سرزمین سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف انجام پانے والی دہشت گردانہ کاروائیوں کی روک تھام کے لئے موثر طریقہ کار اپنائے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے- گذشتہ ہفتے ایران کے وزیر خارجہ نے بھی اپنے دورہ پاکستان میں اس ملک کے وزیر اعظم نواز شریف اور دیگر حکام منجملہ وزیر داخلہ کے ساتھ ملاقات میں دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کاروائی کرنے اور سرحدی مشکلات حل کرنے پر تاکید کی تھی-
مشترکہ سرحدوں پر پائیدار سلامتی کا وجود ایک بدیہی امر ہے اور سرحدوں سے متعلق بین الاقوامی پروٹوکول کے مطابق اسے ایک اصول کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے- اس لئے اس بارے میں کسی قسم کی وضاحت پیش نہیں کی جاسکتی- وہ چیز کہ جس کا ایران پاکستانی حکام سے مطالبہ کر رہا ہے وہ اسی ذمہ داری پر عمل ہے اس لئے پاکستانی حکام سے توقع ہے کہ وہ اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے درمیان انجام پانے والے معاہدوں پر عمل کریں گے- واضح ہے کہ اس مسئلے کے پہلوؤں کا واضح ہونا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے- کیوں کہ ایران اور پاکستان کی مشترکہ سرحدیں طولانی ہیں اور اس قسم کے واقعات کی تکرار سے دونوں ملکوں کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے-
پاکستان کی سرزمین سے ایران میں دہشت گردوں کے گھس آنے کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ پاکستان میں دہشت گرد اور شرپسند عناصرکے خلاف ٹھوس کاروائی انجام نہ پانا ہے- سرحدی اور سیکورٹی پروٹوکول کے مطابق دیگر ملکوں کی طرح پاکستان کی حکومت کو بھی، اس قسم کے واقعات رونما ہونے کی صورت میں جوابدہ ہونا چاہئے - اصولی طورپر پاکستانی حکام کو اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ باہمی تعلقات کو پہنچنے والے نقصان کی بابت تشویش ہونی چاہئے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام بھی اسی مسئلے پرتاکید کر رہے ہیں- اسی بناء پر سفارتی طریقوں سے اور پاکستان کے ساتھ ہونے والے مشترکہ اجلاسوں میں بھی اس مسئلے کا جائزہ لیا جاتا رہا ہے- لیکن ان مسائل کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ یہ ضروری ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کے لئے ہر قسم کے دہشت گردانہ اقدامات کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدام عمل میں لایا جائے-