شیعوں کے خلاف آل سعود کی ریاستی دہشت گردی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i282682-شیعوں_کے_خلاف_آل_سعود_کی_ریاستی_دہشت_گردی
آل سعود حکومت نے حالیہ دنوں کے دوران مخالفین پر اپنے تشدد میں اضافہ کردیا ہے۔ دریں اثناء اہل تشیع کے خلاف اس فرقہ پرست حکومت کے پر تشدد اقدامات میں زیادہ شدت پیدا ہوئی ہے۔ اہل تشیع زیادہ تر اس ملک کے مشرقی علاقوں میں رہتے ہیں اور یہ علاقے اہل تشیع کے خلاف آل سعود کی جنگ کے میدان میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
(last modified 2025-07-01T12:42:33+00:00 )
May ۱۳, ۲۰۱۷ ۱۱:۰۶ Asia/Tehran
  • شیعوں کے خلاف آل سعود کی ریاستی دہشت گردی

آل سعود حکومت نے حالیہ دنوں کے دوران مخالفین پر اپنے تشدد میں اضافہ کردیا ہے۔ دریں اثناء اہل تشیع کے خلاف اس فرقہ پرست حکومت کے پر تشدد اقدامات میں زیادہ شدت پیدا ہوئی ہے۔ اہل تشیع زیادہ تر اس ملک کے مشرقی علاقوں میں رہتے ہیں اور یہ علاقے اہل تشیع کے خلاف آل سعود کی جنگ کے میدان میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

حالیہ چند دنوں کے دوران آل سعود کی سیکورٹی فورسز کے حملوں میں دسیوں شیعہ شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔ آل سعود حکومت نے رہائشی علاقوں پر حملوں میں دوران مارٹر گولوں سمیت بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب اس حکومت کے ہیلی کاپٹروں نے بھی ان علاقوں کی فضا میں مسلسل پروازیں کیں اور بعض نے رہائشی علاقوں پر بمباری بھی کی۔ سعودی عرب کے مختلف علاقوں منجملہ صوبہ قطیف میں سنہ 2011 سے آل سعود کے ظلم و ستم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور آل سعود حکومت اپنے مخالفین کو تشدد کا نشانہ بناتی چلی آ رہی ہے۔

سعودی عرب کے مشرقی علاقے منجملہ صوبہ قطیف کو آبادی اور قدرتی ذخائر کی وجہ سے بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اگرچہ اہل تشیع اس ملک کے دوسرے علاقوں اور شہروں منجملہ مدینہ منورہ  اور نجران میں بھی رہتے ہیں لیکن اس ملک کے مشرقی علاقوں کو عموما شیعہ علاقوں کے طور پر جانا جاتا ہے۔ آل سعود نے ایسی سیکورٹی پالیسی اختیار کر رکھی ہے کہ سعودی عرب میں اہل تشیع کی آبادی کے اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ البتہ اس ملک کی کم از کم دس سے پندرہ فیصد تک آبادی اہل تشیع پر مشتمل ہے۔ مشرقی علاقے اقتصادی اعتبار سے بھی آل سعود حکومت کے لئے بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہے کیونکہ تیل کے اکثر ذخائر مشرقی علاقوں میں واقع ہیں اور سعودی عرب کی حکومت کی نوے فیصد آمدنی تیل سےہی حاصل ہوتی ہے۔ بنابریں آبادی کا تناسب اور تیل کے بے شمار ذخائر کی وجہ سےسعودی حکومت کی توجہ مشرقی علاقوں پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہے۔ آل سعودحکومت ان علاقوں کے باشندوں کو اپنے تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے کیونکہ یہ فرقہ پرست حکومت اہل تشیع کو دوسرے درجے کا شہری اور اپنے لئے خطرہ جانتی ہے اسی لئے سسٹیمیٹک طریقے سے ان کو محرومیت اور امتیازی سلوک کا نشانہ بناتی ہے اور یہی امر مشرقی علاقوں میں حکومت کے خلاف احتجاج شروع ہونے کا باعث بنا ہے۔

مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہےکہ اگرچہ سعودی عرب کے تمام علاقوں میں ہی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے لیکن اس ملک کے اہل تشیع کے حقوق کی خلاف ورزی زیادہ وسیع پیمانے پر ہوتی ہے۔ اسی نسل پرستانہ رویے کی بنا پر سعودی عرب کے شیعہ مسلمان اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں حالانکہ اہل تشیع سعودی عرب کے مقامی باشندے ہیں اور شیعہ مذہب ایک مسلّمہ اور دین اسلام کا ترقی یافتہ اور معروف و مشہور مذہب شمار ہوتا ہے۔ وہابی مفتی شیعہ ہونے کے جرم میں ان  کے ارتداد کا فتوی دیتے ہیں اور ان کی مذہبی رسومات کی ادائیگی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ سعودی عرب کے حکومتی نظام میں اہل تشیع کو کوئی کردار حاصل نہیں ہے۔ آل سعود حکام سعودی عرب کے شیعوں کو اپنے اقتدار کے لئے بہت بڑا خطرہ سمجھتے ہیں، مختلف حربوں کے ذریعے ان کو اس ملک کے سماجی اور سیاسی دھارے سے نکال باہر کرنے کے درپے ہیں اور ان کی سرگرمیوں پر بھی بری طرح نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آیت اللہ باقر نمر سعودی عرب کے ایسے جید عالم دین تھے جن کو جولائی دو ہزار بارہ میں قومی سلامتی کے خلاف اقدام انجام دینے کے بے بنیاد الزام کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ آل سعود کی عدالت نے پندرہ اکتوبر جولائی سنہ دو ہزار پندرہ میں ان کو سزائے موت سنائی اور دو جنوری سنہ دو ہزار سولہ کو ان کا سرقلم کر دیا گیا۔ ان کو جس انداز میں سزائے موت دی گئی اسے بہیمانہ ظلم اور ریاستی دہشت گردی قرار دیا گیا حالانکہ مشرقی علاقوں کے باشندوں پر آل سعود کے حملے اپنے شہریوں کے خلاف اس حکومت کی ریاستی دہشت گردی کا تسلسل شمار ہوتے ہیں۔