ایران کے کن ہتھیاروں سے امریکا کو خوف لاحق ہے؟
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i282700-ایران_کے_کن_ہتھیاروں_سے_امریکا_کو_خوف_لاحق_ہے
ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں امریکہ کی انٹیلی جنس کمیونٹی (The United States Intelligence Community) نے عالمی خطرات کے بارے میں اپنی پہلی رپورٹ شائع کی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
May ۱۳, ۲۰۱۷ ۱۴:۱۹ Asia/Tehran

ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں امریکہ کی انٹیلی جنس کمیونٹی (The United States Intelligence Community) نے عالمی خطرات کے بارے میں اپنی پہلی رپورٹ شائع کی ہے۔

اس رپورٹ کے بعض حصوں میں ایران پر بے بنیاد الزام لگائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے اہم خطرات کے حصے میں چار ملکوں ایران، روس، چین اور شمالی کوریا کو غیر حکومتی خطرات کے نام سے یاد کیا گیا ہے جبکہ ایٹمی اور دفاعی حصے میں ایک بار پھر دعوی کیا گیا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل ایٹمی وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت کی حامل ہیں۔ اس رپورٹ کے شائع ہونے سے قبل امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی نے بھی جمعرات کے دن عالمی خطرات کے زیر عنوان ایک نشست منعقد کی جس میں نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈینیل کوٹس (Daniel R. Coats) سمیت متعدد اعلی حکام بھی شریک ہوئے۔ ڈینیل کوٹس نے اس نشست میں ایران کو امریکہ کے لئے خطرہ قرار دیا اور کہا کہ اس وقت خلیج فارس میں ایران کی جدید ترین بارودی سرنگیں (naval mine)، سوسائیڈ موٹر بوٹس (suicide motorboats) جدید ترین تار پیڈو (torpedo) اور اینٹی شپ میزائل موجود ہیں۔

ان امور کو امریکہ کی انٹیلی جنس کمیونٹی نے ایران کے خلاف حربے کے طور استعمال کیا ہے حالانکہ خطے کے حقائق سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ علاقائی اور عالمی بحران امریکہ کی جارحانہ اور مداخلت پسندانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ امریکہ کا یہ رویہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کی اصل وجہ ہے۔ امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سمیت بعض امریکی حکام اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کو امریکہ ہی وجود میں لایا ہے  اور وہ ان کی حمایت بھی کرتا ہے۔ ان اعترافات سے ہماری بات کی تصدیق ہوجاتی ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے خطے میں کشیدگی پیدا کر کے دہشت گردوں کی سرگرمیوں اور جنگ کی آگ بھڑکنے کا راستہ ہموار کیا ہے۔ امریکی حکام حقائق کو غلط انداز میں پیش کر کے خطے اور دنیا میں امریکہ کو ایک اچھے پولیس مین کے کردار میں پیش کرنے اور دوسروں کو خطرات کا سبب ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے دنیا کو ایک ایسے بحران سے دوچار کر دیا ہے جو اس کا اپنا پیدا کردہ ہے اور وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ ان حالات میں بہترین دفاع حملہ کرنے سے عبارت ہے۔ لیکن اب امریکہ کے تسلط کا زمانہ ختم ہو رہا ہے اور عالمی حقائق اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یورپی یونین کے بہت سے سیاسی حلقوں سے لے کر امریکی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرنے والوں یعنی روس اور چین تک سب کے سب اس طرح کی رپورٹوں کا جائزہ ٹرمپ کے دور صدارت میں امریکہ کی نئی مہم جوئیوں کے تناظر میں ہی لیتے ہیں۔

امریکہ کے معروف سیاستدان اور مفکر نوام چامسکی سے کچھ عرصہ قبل ایک انٹرویو کے دوران جب ایران کو امریکہ کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دینے سے متعلق امریکی حکام کے بیانات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ امریکہ اس کام کو برسہا برس سے جاری رکھے ہوئےہے۔ باراک اوباما کی صدارت کے سارے عرصے میں ایران کو عالمی امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جاتا رہا اور ایسے بیانات کو باربار دہرایا گیا۔ چامسکی نے تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران کی حکمت عملی دفاعی ہے۔ چامسکی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ دفاعی پالیسی پر کس کو تشویش لاحق ہوسکتی ہے؟ بہرحال یہ کہنا ضروری ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں امریکہ کی انٹیلی جنس کمیونٹی کی پہلی رپورٹ در حقیقت ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات کی تکرار ہے۔ اس سلسلے میں ایران کا موقف واضح اور شفاف ہے۔ ایران اپنے دفاعی امور میں کسی طرح کی غیر ملکی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔