امریکی صدر اور سعودی وزیر دفاع دنیا کے خطرناک ترین افراد
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i282800-امریکی_صدر_اور_سعودی_وزیر_دفاع_دنیا_کے_خطرناک_ترین_افراد
برطانوی اخبار انڈیپنڈینٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی وزیر دفاع محمد بن سلمان دنیا کے خطرناک ترین افراد ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
May ۱۴, ۲۰۱۷ ۱۱:۲۲ Asia/Tehran
  • امریکی صدر اور سعودی وزیر دفاع دنیا کے خطرناک ترین افراد

برطانوی اخبار انڈیپنڈینٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی وزیر دفاع محمد بن سلمان دنیا کے خطرناک ترین افراد ہیں۔

ایسنا کی رپورٹ کے مطابق اس برطانوی اخبار نے ایک کالم میں امریکی صدر ٹرمپ کے آئندہ ہفتے انجام پانے والے دورہ سعودی عرب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ٹرمپ نے سعودی عرب کی وسیع پیمانے پر حمایت خاص طور پر یمن میں  اس کی  فوجی کاروائیوں کی حمایت کرنے کا وعدہ دیا ہے  اور اب سعودی عرب کے وزیر دفاع اور نائب ولیعہد محمد بن سلمان کی کوشش ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مقابلے کے لئے واشنگٹن کو راضی کرے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران کی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے ایران کے جمہوری نظام سے علیحدگی کے لئے ایران میں اقلیتوں کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں جنوب مشرقی ایران میں بلوچ قوم کی حمایت سے متعلق مشترکہ منصوبوں پر مبنی رپورٹیں منظر عام پر آئی ہیں- 

یہ رپورٹ ایسی حالت میں شائع ہوئی ہے کہ اقوام متحدہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب غلام علی خوشرو نے چند روز قبل اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام اپنے خط میں سعودی نائب ولیعہد کے ایران مخالف بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور کی شق نمبر چار کے مطابق محمد بن سلمان کے اشتعال انگیز بیانات ، ایران کے خلاف کھلی دھمکی ہیں - ایران کے مستقل مندوب نے 2 مئی کو سعودی عرب کے وزیر دفاع اور نائب ولیعہد محمد بن سلمان کے بیان کو جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم خطے میں جاری جھڑپوں کو ایران کے سرحدی علاقوں تک لے جانا چاہتے ہیں، ایران کے خلاف کھلی دھمکی اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

خوشرو نے ایران کے خلاف سعودی نائب ولیعہد کے من گھڑت الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ ایران کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے اور اس کی تازہ مثال۔ ، نو ایرانی سکیورٹی گارڈز کی شہادت میں ملوث دہشت گردوں کو سعودی عرب کی طرف سے مالی حمایت حاصل ہونا ہے ۔ سعودی عرب کی پالیسیوں کا خطرناک ہونا ثابت ہوچکا ہے۔ 90 کی دہائی میں القاعدہ اور طالبان کی تشکیل میں بھی آل سعود کا ہاتھ تھا اور اب شام اور عراق میں دہشت گرد عناصر بالخصوص داعش اور النصرہ فرنٹ جیسی دہشت گرد تنظیموں کو بھی سعودی حمایت حاصل ہے۔

سعودی عرب کے یہ تخریبی اقدامات ، اب امریکہ کی نئی حکومت کے غلط طرز فکر کے ساتھ ، علاقے کے ملکوں کے خلاف سعودی عرب کی جارحانہ پالیسیوں کی توجیہ اور خودنمائی کے ایک موقع میں تبدیل ہوگئے ہیں- امریکی حکومتوں خاص طورپر ٹرمپ نے برسراقتدار آنے کے بعد اپنے غیر انسانی فیصلوں کے ذریعے ، انسان دوستانہ اصول و قوانین اور بین الاقوامی منشور کو پامال کیا ہے- ان اقدامات کی ایک مثال ، سعودی عرب اور اسرائیل جیسی بچوں کی قاتل حکومتوں کو ممنوعہ ہتھیاروں کو فروخت کرنا ہے-

یہ خطرناک ہم آہنگی اور ہم فکری اس وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جسے ٹرمپ کے عنقریب دورہ سعودی عرب کے موقع پر مزید تقویت حاصل ہوگی- اس ہم فکری و ہم آہنگی کے آثار، سعودی عرب کو اربوں ڈالر کے امریکہ سے ہتھیار خریدنے کے لئے ہری جھنڈی دکھائے جانے، اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مزید قریب کرنے نیز علاقے میں اسلامی مزاحمت پر دباؤ بڑھانے کے صورت میں آشکارہ ہوگئے ہیں-  اس صورتحال نے اس وقت بہت سے سیاسی حلقوں اور علاقائی مسائل کے تجزیہ نگاروں کی توجہ، ٹرمپ کے علاقے کے دورے کے اہداف پر مرکوز کردی ہے اور انہیں امریکہ اور سعودی عرب کے خطرناک فیصلوں پر ٹھوس تشویش ہے- کیوں کہ واشنگٹن اور ریاض کی پالیسیاں علاقے میں کسی بھی اعتبار سے امن وسلامتی فراہم کرنے کے مقصد سے نہیں ہیں۔